چین: دو بچے فی خاندان کی پالیسی مارچ تک لاگو نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP
چین میں خاندانی منصوبہ بندی کے ادارے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگلے سال مارچ میں دو بچے فی خاندان کی پالیسی موثر ہونے تک وہ ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی پر عمل جاری رکھیں۔
جمعرات کے روز چینی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ قانون تبدیل کر کے لوگوں کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے گی۔
حکومت کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ملک میں عمر رسیدہ افراد کا تناسب بڑھ جانے کی صورت میں کیا گیا ہے۔
تاہم حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ فی خاندان ایک بچے کی پالیسی تب تک نافذ رہے گی جب تک یہ قانون بدل نہیں جاتا۔
چین میں فی خاندان ایک بچہ کا متنازع حکومتی فیصلہ سنہ 1979 میں کیا گیا تھا جس کا مقصد ملک کی شرح پیدائش میں کمی کر کے آبادی پر قابو پانا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق چین میں اس پالیسی کے نفاذ سے اب تک تقریباً 40 کروڑ بچوں کی پیدائش کو روکا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والی کئی جوڑوں کو سزا میں جرمانے، جبری اسقاط حمل اور نوکری سے برطرفی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جمعے کو ایک مقامی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ دوسرے بچے کے ساتھ حاملہ خواتین کو سزا نہیں دی جائے گی جس سے اشارہ ملا کہ یہ نئی پالیسی ابھی سے لاگو ہے۔
تاہم اتوار کو قومی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کمیشن نے کہا کہ مقامی حکام کو موجودہ خاندانی منصوبہ بندی کے قوانین کا نفاذ تب تک جاری رکھنا چاہیے جب تک وہ مارچ میں تبدیل نہ ہو جائیں۔
کمیشن کے ایک اہلکار نے ایک بیان میں کہا: ’دو بچوں کی پالیسی کو قانون کے مطابق لاگو کیا جائے گا۔‘
حکومت کے اندازے کے مطابق نو کروڑ جوڑے اس نئی پالیسی کے اہل ہوں گے۔







