ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی سے کیا فائدہ ہوا؟

چین میں فی خاندان ایک بچہ کا متنازع حکومتی فیصلہ سنہ 1979 میں کیا گیا تھا جس سے 40 کروڑ بچوں کی پیدائش روکی گئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچین میں فی خاندان ایک بچہ کا متنازع حکومتی فیصلہ سنہ 1979 میں کیا گیا تھا جس سے 40 کروڑ بچوں کی پیدائش روکی گئی

چین نے فی خاندان ایک بچہ کی پالیسی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ پالیسی شرح پیدائش میں کمی کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی کیوں کہ اس کی وجہ سے ملک کی آبادی بہت تیزی سے بڑھنے کے خدشات تھے۔ اگر اعداد وشمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس پالیسی سے کیا فائدہ ہوا؟

چین میں فی خاندان ایک بچہ کا متنازع حکومتی فیصلہ سنہ 1979 میں کیا گیا تھا جس سے 40 کروڑ بچوں کی پیدائش روکی گئی۔ وہ چینی جوڑے جنھوں نے حکومتی پالیسی سے روگردانی کی، انھیں جرمانے اور دیگر سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں سماجی پالیسی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سٹورٹ جیٹل بیسٹن کہتے ہیں کہ اگرچہ پالیسی کے ’نہایت غیراُمید افزا‘ اثرات مرتب ہوئے۔

انھوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ چین کی شرحِ پیدائش میں زیادہ کمی سنہ 1970 میں ہوئی۔ یہ سنہ 1970 میں فی عورت 5.8 بچہ سے گر کر سنہ 1978 میں فی عورت 2.7 کی شرح ہوگئی۔ فی خاندان ایک بچہ پالیسی کے باوجود سنہ 2013 میں شرح صرف 1.7 تک گری۔

سنہ 2007 میں چین نے دعویٰ کیا کہ اس کے صرف 36 فیصد شہریوں کو ایک بچہ کی پیدائش کا پابند کیا گیا تھا۔ یہ قوانین میں جزوی طور پر نرمی کرنے کی وجہ سے تھا۔ جس کی رو سے ایسے جوڑوں کو دو بچوں کی اجازت دے دی گئی تھی جن میں سے ایک فرد ایسا تھا جس کا کوئی بھائی بہن نہیں تھا۔

جیٹل بیسٹن کا کہنا تھا کہ ’40 کروڑ کے اعداد وشمار اس مفروضے کی بنیاد پر ہیں کہ اگر فی خاندان ایک بچہ کی پالیسی کا نفاذ نہ کیا جاتا تو شرحِ پیدائش پہلے جیسی ہی رہتی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایک جیسی صنعتی اور اقتصادی ترقی کے حامل ممالک کے درمیان چین ایک منفرد ملک تھا جس کو اس طرح کی پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 2007 میں چین نے دعویٰ کیا کہ اس کے صرف 36 فیصد شہریوں کو ایک بچہ کی پیدائش کا پابند کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسنہ 2007 میں چین نے دعویٰ کیا کہ اس کے صرف 36 فیصد شہریوں کو ایک بچہ کی پیدائش کا پابند کیا گیا تھا

جنوبی کوریا اور سنگاپُور میں سنہ 2013 میں شرحِ پیدائش 1.2 جبکہ جاپان میں 1.4 تھی۔ فلپائن میں یہ 3 اور انڈونیشیا میں 2.3 تھی۔

شمالی کیرولانا یونیورسٹی کے ایک اور ماہر سی آیونگ نے تجویز پیش کی کہ فی خاندان ایک بچہ کی پالیسی لوگوں میں مایوسی کو جنم دے سکتی ہے کیوں اس کی وجہ سے لوگوں میں دوسرا بچہ پیدا کرنے کی خواہش بڑھ سکتی ہے۔

شیرخوار بچوں کی شرح اموات

فی خاندان ایک بچہ کی پالیسی کو بہت سے خاندانوں کے اپنی بیٹیوں کو قتل کردینے کی وجہ قرار جاتا ہے۔ جنھیں روایتی طور پر بیٹوں کے مقابلے میں کم اچھی ملازمتیں حاصل کرنے کے قابل سمجھا جاتا ہے۔

جب سے فی خاندان ایک بچہ پالیسی متعارف ہوئی لڑکوں کے مقابلے میں شیرخوار بچیوں کی اموات کے امکانات زیادہ بڑھ گئے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق سنہ 1970 میں پیدا ہونے والے ہر 1000 میں سے ایک سال سے کم عمر میں ہلاک ہونے والوں میں 60 لڑکے شامل تھے۔ جبکہ لڑکیوں میں یہ اعداوشمار 53 تھے۔ سنہ 1980 کی دہائی میں جب حکومتی سطح پر فی خاندان ایک بچہ پالیسی کا نفاذ کردیا گیا تو اس وقت یہ شرح دونوں میں 36 تھی۔

سنہ 1990 میں پیدا ہونے والےہر 1000 بچوں میں ایک سال سے کم عمر میں مرنے والے لڑکوں کی تعداد 26 اور لڑکیوں میں یہ تعداد اور لڑکیوں میں یہ تعداد 33 تھی۔جبکہ سنہ 2000 میں پیدا ہونے والے ہر 1000 بچوں میں مرنے والے لڑکوں کی تعداد 21 اور لڑکیوں میں یہ تعداد 28 دیکھی گئی۔

بلاشبہ بچوں کی اموات کے اعدادوشمار حادثات اور بیماریوں سمیت ہلاکتوں کی ہر طرح کی دیگر وجوہات کا بھی احاطہ کرتے ہیں لیکن بہرحال یہ تبدیلی قابلِ توجہ ہے۔ وارویک یونیورسٹی میں اقتصادیات کے ماہر جوناتھن کیو کہتے ہیں یہ اس بات کا ’منصفانہ استدلال‘ ہے کہ طفل کُشی کا اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

ہرلڑکی کے مقابلے میں 16 لڑکے

شن ہوا سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں ہر لڑکی کے لیے پیدا ہونے والے لڑکوں کی شرح 1.16 ہے۔ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کی ورلڈ فیکٹ بُک کا کہنا ہے کہ یورپ کے ایک ملک لیکٹینسٹائن میں اس کی شرح سب سے زیادہ ہے جہاں ہر لڑکی کے لیے لڑکوں کی شرحِ پیدائش 1.26 ہے۔

جنسی طور پر خود منتخب کردہ اسقاطِ حمل کا حوالہ چین میں غیرمعمولی عدم توازن کی اہم وجہ کے طور پر دیا گیا ہے۔

لیکن جیٹل بیسٹن کا کہنا ہے کہ چین کے متعلق جو اعداد وشمار بتائے گئے ہیں ’کم‘ ہیں کیوں کہ بہت سی بچیوں کی پیدائش کا اندراج ہی نہیں کرایا جاتا اگر والدین دو بچوں کی صورت میں قانون توڑنے کا باعث بنے ہوں۔ جب وہ سکول جانے کی عمر کو پہنچتے ہیں تو اندراج کرائے جانے والے لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد برابر ہوجاتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکام اکثر جان بوجھ کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔

جنسی طور پر خود منتخب کردہ اسقاطِ حمل کا حوالہ چین میں غیرمعمولی عدم توازن کی اہم وجہ کے طور پر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجنسی طور پر خود منتخب کردہ اسقاطِ حمل کا حوالہ چین میں غیرمعمولی عدم توازن کی اہم وجہ کے طور پر دیا گیا ہے

جیٹل بیسٹن کہتے ہیں ’مجھے اس بات کا یقین ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد میں توازن کے لحاظ سے فی خاندان ایک بچہ پالیسی کے کچھ علاقوں میں نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں لیکن اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شاید یہ فرق نسبتاً معمولی ہے۔وہ علاقے جہاں آپ کو زیادہ اثرات مرتب ہونے کی توقع تھی جیسے کہ دیہی علاقے وہاں یہ بہت کم ہے۔ درحقیقت ان میں سے کچھ علاقوں میں سنہ 1984 کے اوائل کی طرح قانون میں نرمی کرکے لوگوں کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔‘

لیکن ایک اندازے کے مطابق چین میں اب خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 33 کروڑ زیادہ ہے۔

خاندان

چین کی آبادی میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے اور فی خاندان ایک بچہ پالیسی کے تسلسل کی وجہ سے 4:2:1 تناسب والے کُنبے پر مبنی گھرانوں کی وضاحت اس طرح سے دی جاتی ہے کہ ان میں چار دادا دادی یا نانا نانی کی عمر کے افراد، ان کی دیکھ بھال کے لیے دو نوکری کی عمر والے والدین ہوتے ہیں جن کا خود کا بھی ایک بچہ ہوتا ہے۔

اسے ایک ایسے معاشرے میں جہاں خاندان اپنے عمر رسیدہ رشتہ داروں کی دیکھ بھال کرنا فرض سمجھتے ہیں اور سماجی خدمات قابلِ فہم حد تک دُور ہیں والدین بالخصوص ماؤں پر ایک بہت بڑا بوجھ ڈالنے کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔

اعداد و شمار جمع کرنے والی ایک کمپنی سٹیٹسٹا کے مطابق پیشن گوئی کی جاسکتی ہے کہ سنہ 2050 تک چین کی آبادی کا نصف 65 سال یا اس سے زائد عمر کے لوگوں پر مشتمل ہوگا۔ سنہ 2013 میں یہ شرح 9.7 فیصد تھی۔ کام کرنے والے لوگوں کی تعداد میں کمی کی پیش گوئی کے بعد کمیونسٹ پارٹی فی خاندان ایک بچہ پالیسی ختم کرنے پر آمادہ ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق سنہ 1980 سے چینی حکومت زیادہ بچوں کی صورت میں جرمانے کی شکل میں 20 کھرب ین کماچکی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناقتصادی ماہرین کے مطابق سنہ 1980 سے چینی حکومت زیادہ بچوں کی صورت میں جرمانے کی شکل میں 20 کھرب ین کماچکی ہے

جرمانے کی مد میں 20 کھرب

اقتصادی ماہرین کے مطابق سنہ 1980 سے چینی حکومت زیادہ بچوں کی صورت میں جرمانے کی شکل میں 20 کھرب ین کماچکی ہے۔

سب سے زیادہ انفرادی طور پر دی جانے والی سزا 70 لاکھ 50 ہزار ین کی سمجھی جاتی ہے جو ایک فلم ساز شانگ یموواور اُن کی زوجہ کو گذشتہ برس تیسرے بچے کی پیدائش پر دی گئی۔

کیو کا کہنا ہے کہ ’یہ تولیدگی کے عمل کو جبراً روک دینے کو ظاہر کرتا ہے۔‘

امیر افراد جو اس وجہ سے زیادہ بچے پیدا کرلیتے ہیں کہ جرمانہ ادا کرنا اُن کے لیے آسان ہوتا ہے اس کو روکنے کے لیے اب جرمانہ کی رقم آمدنی کے لحاظ سے عائد کی جائے گی۔ مستقبل میں یہ جرمانہ صرف دو سے زائد بچوں والے والدین پر عائد کیا جائے گا۔