چینی معیشت میں سست روی

ماہرین معاشیات جولائی سے ستمبر تک 6.8 فیصد شرح نمو کی توقع کر رہے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY

،تصویر کا کیپشنماہرین معاشیات جولائی سے ستمبر تک 6.8 فیصد شرح نمو کی توقع کر رہے تھے

چین میں رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں عالمی مالیاتی بحران کے بعد سے اب تک ملک کی سب سے کم شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے اور تیسری سہ ماہی کے دوران اقتصادی شرح نمو 6.9 فیصد رہی۔

چین کی سالانہ شرح نمو بھی سات فیصد کے متوقع سرکاری ہدف سے کم ہے۔

ان غیر متوقع اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد چین کے معاشی منصوبہ سازوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ شرح نمو کی سست روی روکنے کے لیے مناسب مالیاتی پالیسیاں مرتب کریں۔

اس سال جون جولائی میں حصص بازار میں شدید مندی اور کمزور معاشی اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد چین کی معیشت کو دھچکہ لگا ہے جس سے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اپنی اپنی معیشتوں کے بارے میں فکر لاحق ہوگئی ہے۔

زیادہ تر ماہرین معاشیات جولائی سے ستمبر تک 6.8 فیصد شرح نمو کی توقع کر رہے تھے۔

شرح نمو کے یہ تازہ اعداد و شمار چین کی پہلے سے خراب ہوتی معیشت کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں ملک کے صنعتی شعبے کے اعداد و شمار سے اندازہ لگایا گیا تھا کہ ستمبر تک اس شعبے کی پیداوار میں مزید کمی آئے گی۔

گذشتہ ماہ چین کی در آمدات میں شدید کمی اور مہنگائی میں توقع سے زیادہ اضافے نے دنیا کی اس دوسری بڑی معیشت کے تیزی سے زوال کا خوف بڑھا دیا ہے۔

معیشت کی بحالی

مارکیٹ میں نئی نوکریوں کے تخلیق ہونے تک کم شرح نمو کو قبول کرنا ہو گا: چینی وزیراعظم

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمارکیٹ میں نئی نوکریوں کے تخلیق ہونے تک کم شرح نمو کو قبول کرنا ہو گا: چینی وزیراعظم

چین اس وقت اپنی معیشت کو مصنوعات کی برآمدات سے تبدیل کر کے صارف اور سروسز کی طرف لانا چاہ رہا ہے۔

بیجنگ نے سال کی مجموعی پیداوار کا سرکاری ہدف سات فیصد رکھا تھا، لیکن وزیراعظم لی کیچیانگ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں نئی نوکریوں کے تخلیق ہونے تک کم شرح نمو کو قبول کرنا ہو گا۔

چین کی شماریاتی ایجنسی کے ترجمان شینگ لی یان نے میڈیا کو بتایا کہ ’معیشت کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے ہمیں یہ دباؤ برداشت کرنا پڑے گا۔‘

شینگ لی یان کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے میں کم پیداوار کے باوجود بھی سروسز کے شعبے میں تیزی سے پیداوار کی توقع ہے۔

’اس سے اشارہ ملتا ہے کہ چین کی معیشت کامیابی کے ساتھ تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔‘

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ درآمدات میں کمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ملک میں ان اشیا کی مانگ اتنی زیادہ نہیں ہے جتنی حکومت توقع کر رہی تھی۔

گذشتہ تین دہائیوں سے چین کی سالانہ معاشی شرح نمو اوسطاً 10 فیصد رہی ہے لیکن 2010 سے اس میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گذشتہ سال یہ شرح 7.4 فیصد تھی اور توقع کی جا رہی تھی کہ اس سال یہ اور بھی کم ہوگی، اور اگلے سال اس سے بھی کم۔

موجودہ سال کی تینوں سہ ماہیوں سے ابھی تک ملنے والے اعداد و شمار توقع کے مطابق ہیں۔ سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی میں معاشی سرگرمی گذشتہ سال کی انہی سہ ماہیوں کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ رہی۔

گذشتہ تین دہائیوں سے چین کی سالانہ معاشی شرح نمو اوسطاً 10 فیصد رہی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنگذشتہ تین دہائیوں سے چین کی سالانہ معاشی شرح نمو اوسطاً 10 فیصد رہی ہے

یہ بات درست ہے کہ چین کے ان سرکاری اعداد و شمار کے قابل اعتماد ہونے پر کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی خاص شک نہیں ہے کہ چین کی شرح نمو میں ممکنہ طور پر ان سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ کمی ہو رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے مزید اقدامات

بیجنگ کے شرح سود میں مستقل کمی کرنے اور دیگر متحرک اقدامات کرنے کے باوجود بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

آکسفرڈ اکنامکس کے لوئس کوئز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت کے اقدامات سے گراوٹ کے اس دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ پیداوار پر دباؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ دباؤ بھاری مصنوعات کی صنعت اور دیگر شعبوں کی پیداوار میں دیکھا جا سکتا ہے۔

’اس وقت چین کی معیشت کو جس چیز نے سہارا دیا ہوا ہے وہ لوگوں کی قوت خرید ہے لیکن وہ پیداوار پر اس منفی دباؤ کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔ حالانکہ ہمیں حکومت کی جانب سے مزید محرکات اور اس کے کچھ اثرات بھی نظر آ رہے ہیں، لیکن یہ سب پیداوار میں کمی کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ‘

ماہرین معیشت مستقل حکومت کی طرف سے مزید اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ حصص بازار میں شدید مندی ملک کو معاشی بدحالی اور ممکنہ سماجی فساد کی طرف لے جا سکتے ہیں۔