چین: عمارت گرنے کے حادثے میں 17 افراد ہلاک

اس حادثے نے چین میں عمارتوں کی حفاظت کے حوالے سے بنائے گئے قواعد وضوابط پر عمل درآمد کے فقدان کے مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناس حادثے نے چین میں عمارتوں کی حفاظت کے حوالے سے بنائے گئے قواعد وضوابط پر عمل درآمد کے فقدان کے مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے

چین کے صوبے ہینن میں ایک عمارت گرنے کے نتیجے میں 17 مزدور ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حادثہ ’بیودو‘ نامی قصبے میں پیش آیا ہے اور امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان میں سے نو کی حالت نازک ہے۔

چینی حکام کا مزید کہنا ہے کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک عمارت کی بنیادوں کی مرمت کا کام کیا جا رہا تھا۔

مقامی حکومت نے جعمے کو پیش آنے والے اس حادثے کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس حادثے نے چین میں عمارتوں کی حفاظت کے حوالے سے بنائے گئے قواعد وضوابط پر عمل درآمد کے فقدان کے مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں ہینن صوبے میں ہی واقع ایک نرسنگ ہوم میں آگ لگنے سے 38 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور بعد میں کی جانے والی تحقیقات سے پتہ چلا تھا کے عمارت کو بناتے وقت حفاظتی قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا تھا۔

اس حالیہ حادثے میں زخمی ہونے والے ایک شخص ’فنگ قیونگ‘ نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عمارت میں کام کرنے والے اکثر مزدوروں کو مناسب تربیت فراہم نہیں کی گئی تھی۔

فنگ کا مزید کہنا تھا کہ اس کے اکثر ساتھی دھاتوں سے یہاں مزدوری کرنے آئے ہوئے تھے اور ان کو عمارتی کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس عمارت کو نوے کی دھائی میں بنایا گیا تھا۔