چین میں مٹی کے تودے گرنے سے 40 افراد لاپتہ

چین میں حکام کا کہنا ہے کہ شانزی صوبے میں مٹی کے بڑے تودے گرنے سے کئی عمارتیں ملبے کے نیچے آ گئی ہیں جبکہ تقریباً 40 افراد لاپتہ ہیں۔
مٹی کے تودے گرنے کا واقعہ بدھ کو شانزی صوبے کے شانگلو میں رونما ہوا ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ شانزی ووژو مائننگ کمپنی کی 15 ڈورمیٹوریز اورتین گھر مٹی کے تودے کی زد میں آ گئے ہیں۔
امدادی کارروائی جاری ہے جبکہ مقامی باشندوں کو وہاں سے نکال لیا گيا ہے اور بڑی مشینوں اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے تلاش کا کام جاری ہے۔
حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس، فائرفائٹروں اور کان کنی میں بچانے والے ماہرین کے ساتھ طبی عملے کو جائے حادثہ کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔
سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ شدید بارش اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے امدادی کاموں میں روکاوٹ آ رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ژنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق چار افراد کو صبح تک بچا لیا گیا تھا اور انھیں ہسپتال پہنچا دیا گيا ہے جبکہ 10 دوسرے افراد نے خود کو وہاں پھنسے سے کسی طرح بچا لیا ہے۔
دوسری طرف چین کے جنوب مغربی صوبے گوئنژاؤ میں کوئلے اور گیس کی کانوں کے پاس منگل کو ہونے والے ایک دوسرے واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امدادی کاموں میں سرگرم صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کام جاری ہے۔
ژنہوا نے بتایا کہ حادثے کے بعد 56 کان کن وہاں سے بحفاظت نکالے گئے جبکہ پانچ زخمی ہوئے اور تین افراد ابھی بھی لا پتہ ہیں۔
خیال رہے کہ چین دنیا کا سب سے زیادہ کوئلہ پیدا کرنے والا ملک ہے اور وہ اس شعبے میں سیفٹی کے اعلی معیار پر پہنچنے میں مشکلات سے دو چار ہے کیونکہ کان کے مالکان زیادہ منافع کے لالچ میں کام کرنے والوں کی حفاظت کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سیفٹی ورک کے ایک اعلی عہدیدار نے مارچ میں بتایا تھا کہ گذشتہ سال کوئلے کی کانوں میں ہونے والے حادثات میں 931 افراد مارے گئے تھے۔
ملک میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعات عام ہیں۔ عام طور پر سیلاب اس کی وجہ ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی صنعتی مقامات پر مینجمنٹ کی کوتاہی کے سبب بھی ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2008 میں شانزی صوبے میں شدید بارش کے نتیجے میں ایک کان کے غیر قانونی خرابے کے پھٹنے سے 277 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور کمپنی اور سرکار کے 58 اہلکاروں کو حادثے کے لیے ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔







