سرکاری پالیسی کی تنقید کے بعد چینی ایڈیٹر برطرف

ژاؤ شن وے کا اخبار ملک کے شورش زدہ مغربی خطے سنکیانگ کی خبریں شائع کرتا ہے جہاں پولیس اور مسلم اقلیت اویغوروں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں
،تصویر کا کیپشنژاؤ شن وے کا اخبار ملک کے شورش زدہ مغربی خطے سنکیانگ کی خبریں شائع کرتا ہے جہاں پولیس اور مسلم اقلیت اویغوروں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں

چین کے سرکاری اخبار سنکیانگ ڈیلی کے ایڈیٹر ژاؤ شن وے کو سرکاری پالیسی پر تنقید کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے نگراں ادارے نے بھی وعہد کیا ہے کہ وہ ژاؤ شن وے کے خلاف ’قواعد کی خلاف سنگین ورزیاں‘ کرنے پر قانونی کارروائی بھی کرے گا۔ ’قواعد کے خلاف سنگین ورزیوں‘ کو عام طور پر بدعنوانی سمجھا جاتا ہے۔

ژاؤ شن وے کا اخبار ملک کے شورش زدہ مغربی خطے سنکیانگ کی خبریں شائع کرتا ہے جہاں پولیس اور مسلم اقلیت اویغوروں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

مسٹر ژاؤ پر الزام ہے کہ انھوں نے خطے میں پارٹی کی پالیسیوں کے بارے میں مبینہ طور پر ’نامناسب طریقے سے بات کی ہے۔‘

سابق ایڈیٹر پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے علیحدگی، مذہب، انتہا پسندی اور دیگر حساس معاملات پر پارٹی کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے میں ناکام رہے ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی کے نگراں ادارے نے ایک بیان میں کہا: ’ان کے الفاظ اور اعمال مقامی اور مرکزی پارٹی کی کمیٹی کی پالیسی سے مختلف تھے۔‘

ادارے نے مزید کہا کہ مسٹر ژاؤ نے ’کھلے عام مخالفانہ تبصرے کیے۔‘

ادارے کا کہنا ہے کہ مسٹر زاؤ کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے اور ان کا کیس قانونی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں چین نے پارٹی کی پالیسی پر تنقید کے خلاف نئے قواعد متعارف کروائے ہیں۔