سنکیانگ میں پولیس چوکی پر حملے میں 18 ہلاک

چین کا موقف رہا ہے کہ بیرون ملک سے امداد حاصل کرنے والے مسلمان شدت پسند سنکیانگ میں تشدد کے ذمہ دار ہیں
،تصویر کا کیپشنچین کا موقف رہا ہے کہ بیرون ملک سے امداد حاصل کرنے والے مسلمان شدت پسند سنکیانگ میں تشدد کے ذمہ دار ہیں

امریکہ ذرائع ابلاغ کی مطابق چینی علاقے سنکیانگ میں ایک پولیس چوکی پر حملےمیں 18 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکہ میں قائم ریڈیو فری ایشیا کے مطابق پیر کے روز اوئغر باشندوں نے کاشغر شہر کے قریب ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کر کے 18 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

چینی حکام نے اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ کاشغر میں ہسپتال کے اہلکاروں نےبی بی سی کو بتایا ہے کہ متعدد زخمی پولیس اہلکاروں کا علاج کیا گیا ہے۔

ریڈیو فری ایشیا کے مطابق حملہ آوروں نے رات کے اندھیرے میں ایک کار کو پولیس چیک پوسٹ سے ٹکرا کر چوکی میں گھس گئے اور پھر بموں اور چاقووں کے استعمال سے 18 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

ایک ممکنہ وجہ اوئغر باشندوں پر ماہِ رمضان میں عائد پابندیوں پر ناراضی ہو سکتی ہے۔

سنکیانگ میں پارٹی کے مسلمان ممبران، سرکاری ملازمین، طلبہ اور اساتذہ پر روزے رکھنے کی پابندی عائد ہے۔

پچھلے تین برسوں میں چینی سکیورٹی فورسز اور اوئغر باشندوں کے مابین جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اوئغوروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی طرف سے مسلمانوں کو مذہبی فرائض ادا کرنے سے روکنے کی پالیسی تشدد کا باعث بن رہی ہے۔

چین کا موقف رہا ہے کہ بیرون ملک سے امداد حاصل کرنے والے مسلمان شدت پسند سنکیانگ میں تشدد کے ذمہ دار ہیں۔