چینی پولیس کے ہاتھوں ’چاقو سے مسلح تین دہشت گرد‘ ہلاک

چین میں حکام عوام پر چاقوؤں سے حملوں کے واقعات کے لیے اویغوروں کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنچین میں حکام عوام پر چاقوؤں سے حملوں کے واقعات کے لیے اویغوروں کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے شمال مشرقی شہر شینیانگ میں پولیس نے چاقوؤں سے مسلح تین اویغور باشندوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پیر کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب پولیس نے صوبہ لیاؤننگ کے دارالحکومت میں واقع ایک مکان پر چھاپہ مارا۔

اس کارروائی کے دوران ہلاک شدگان کی ساتھی ایک اویغور خاتون زخمی بھی ہوئی ہے۔

پولیس نے ہلاک شدگان کو ’سنکیانگ کے دہشت گرد‘ قرار دیا ہے۔

چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمان اویغوروں کی بڑی تعداد آباد ہے اور یہاں پولیس سے جھڑپوں اور حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن کے لیے پولیس دہشت گردوں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

تاہم یہ تازہ واقعہ سنکیانگ کی حدود سے باہر ہونے والے چند ایسے واقعات میں سے ایک ہے۔

لیاؤننگ کی صوبائی انتظامیہ کی جانب سے اس کارروائی کے بارے میں مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ویبو پر ایک پیغام شائع کیا جسے چینی ذرائع ابلاغ میں بھی شائع کیا گیا ہے۔

چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمان اویغوروں کی بڑی تعداد آباد ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنچین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمان اویغوروں کی بڑی تعداد آباد ہے

بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے چھاپے کے دوران 16 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ پولیس کارروائی کے دوران کرائے کے ایک اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تو اس کا سامنا ’سنکیانگ کے مشتبہ دہشت گردوں‘ سے ہوا اور اہلکاروں پر چار افراد نے حملہ کیا جن کے پاس بڑے چاقو تھے اور وہ ’جہادی‘ نعرے لگا رہے تھے۔

بیان کے مطابق پولیس نے ابتدائی پسپائی کے بعد مزید کمک طلب کی اور پھر 200 سے زیادہ اہلکاروں نے جن میں انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے ارکان بھی شامل تھے، قریبی عمارتوں کو خالی کروا کر مذکورہ عمارت کا گھیراؤ کیا اور کارروائی کی۔

چین میں حکام عوام پر چاقوؤں سے حملوں کے واقعات کے لیے اویغوروں کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ مارچ 2014 میں کنمنگ نامی شہر میں ایسے ہی حملے میں 29 افراد مارے گئے تھے۔