چین: سنکیانگ میں سلسلہ وار دھماکے، دو ہلاک

چین سنکیانگ میں حالات کی خرابی اور تشدد کا ذمہ دار اویغور علیحدگی پسندوں کو سمجھتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنچین سنکیانگ میں حالات کی خرابی اور تشدد کا ذمہ دار اویغور علیحدگی پسندوں کو سمجھتا ہے

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے مغربی صوبے سنکیانگ میں سلسلہ وار دھماکوں میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی کمیونسٹ جماعت کے اخباری پورٹل نے کہا ہے کہ یہ دھماکے لنتائی کاؤنٹی میں کم از کم تین مقامات پر ہوئے ہیں۔

دھماکوں کی نوعیت اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئی ہیں۔

چین میں اس انتہائی مغربی علاقے کی خبروں پر زبردست حکومتی کنٹرول رکھا جاتا ہے۔

سنکیانگ مسلم اقلیت اویغور کا آبائی صوبہ تصور کیا جاتا ہے اور یہاں حالیہ مہینوں میں اویغور آبادی اور ہان آبادکاروں کے درمیان نسلی تصادم ہوتے رہتے ہیں۔

رواں برس جولائی میں کاشغر شہر میں سرکاری عمارتوں کے نزدیک ان گروہوں کے مابین تصادم میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔

ان ہلاکتوں کے دو دن بعد کاشغر میں چین کی سب سے بڑی مسجد کے امام کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

چینی حکام نے اس ہلاکت کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا تھا۔

چین سنکیانگ میں حالات کی خرابی اور تشدد کا ذمہ دار اویغور علیحدگی پسندوں کو سمجھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ علیحدگی پسند غیر ملکی شدت پسند گروپوں سے متاثر ہیں۔

تاہم بیجنگ میں انسانی حقوق کے کارکن سنکیانگ میں حالات کی خرابی اور تشدد میں اضافے کا ذمہ دار حکومت کی پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں۔

چینی خبروں میں کہا گیا ہے کہ مغربی صوبے سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی کے ایک بازار پر ہونے والے حملے میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 90 سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ حملہ جمعرات کی صبح کیا گیا جس میں اطلاعات کے مطابق دو گاڑیوں پر حملہ آور آئے اور انھوں نے بازار میں بارودی مواد پھینکا۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا نے کہا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی دکانوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گئی۔

ایجنسی کی خبروں میں کہا گيا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم 90 افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا ہے جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عوامی سکیورٹی کی وزارت نے اسے ’شدید دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔

ابھی تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

شن ہوا نے بتایا ہے کہ بازار میں حادثے کی جگہ آگ کے شعلے اور دھواں اٹھتے نظر آئے ہیں۔

واضح رہے ک

گذشتہ ماہ ارومچی کے ریلوے سٹیشن پر ایک بم حملے میں تین افراد ہلاک جبکہ کئی درجن زخمی ہو گئے تھے۔ چین نے اس حملے کے لیے اویغور علیحدگی پسندوں کو ذمے دار ٹھہرایا تھا۔

چین میں سماجی رابطے کی سائٹ ویئبو (جسے ٹوئٹر کا ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے) پر عینی شاہدین کے ذریعے ڈالی گئی تصاویر میں یہ نظر آتا ہے کہ جمعرات کا حملہ ایک بازار میں ہوا جہاں سبزیوں کی دکانیں تھیں۔

ایک تصویر میں ایک دکان کو آگ کی زد میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک دوسری تصویر میں آگ بجھانے والی تین گاڑیوں کو آگ بجھاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین نے حادثے کے وقت کئی دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

چین میں سنکیانگ صوبے کے دارالحکومت اورومچی میں ٹریفک کی تلاشی لی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنچین میں سنکیانگ صوبے کے دارالحکومت اورومچی میں ٹریفک کی تلاشی لی جا رہی ہے