’دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی‘

چینی حکومت ان حملوں کے لیے ملک میں مسلم اویغور اقلیت کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچینی حکومت ان حملوں کے لیے ملک میں مسلم اویغور اقلیت کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے

چین کے ریاستی میڈیا کے مطابق چینی صدر کا کہنا ہے کہ ملک کے مغربی سنکیانگ کے علاقے میں ریلوے سٹیشن پر ہونے والے دھماکے میں ملوث ’دہشت گردوں‘ کے خلاف ’فیصلہ کن‘ کارروائی کی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو سنکیانگ میں اورومچی کے ایک جنوبی ریلوے سٹیشن پر دھماکے میں تین افراد ہلاک اور 79 زخمی ہو گئے ہیں۔

گذشتہ سال میں سنکیانگ میں متعدد پرتشدد کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔

چینی حکومت ان حملوں کے لیے ملک میں مسلم اویغور اقلیت کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

مارچ میں بھی جنوبی چین میں کنمنگ سٹیشن پر مسلح حملہ آوروں نے چاقوؤں کے ذریعے مسافروں پر حملہ کیا تھا جس میں 29 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کے ردِ عمل میں صدر شی کا 2012 منتخب ہونے کے بعد سے مغربی صوبے سنکیانگ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

سنکیانگ میں مقامی حکومت کے نیوز پورٹل پر دی گئی معلومات میں کہا گیا ہے کہ ’30 اپریل کی شام تقریباً 7:10 بجے مسافروں کے باہر نکلنے کے راستے پر اس وقت ہوا دھماکہ جب ٹرینیں آ رہی تھیں۔ اس دھماکے میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

عینی شاہدین نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ دھماکہ شاید اس سامان کے پاس ہوا جو سٹیشن اور بس سٹاپ کے راستے کے درمیان میں چھوڑا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر بھی اس دھماکے کی کچھ تصاویر آئی ہیں جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ ان تصاویر میں دھماکے کے بعد سوٹ کیس اور ملبہ پھیلا ہوا تھا۔