چینی فوج نے سنکیانگ آپریشن میں ’آگ برسائی‘

چین کا کہنا ہے کہ خطے میں پرتشدد واقعات میں ’غیرملکی دہشت گرد‘ ملوث ہیں

،تصویر کا ذریعہafp getty

،تصویر کا کیپشنچین کا کہنا ہے کہ خطے میں پرتشدد واقعات میں ’غیرملکی دہشت گرد‘ ملوث ہیں

چین کے فوجی اخبار نے صوبہ سنکیانگ میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

دی پیپلز لبریشن آرمی ڈیلی کا کہنا ہے ایک موقع پر ایک غار میں چھپے جنگجوؤں کو نکالنے کے لیے آگ برسانے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد انھیں گولیاں ماری گئیں۔

<link type="page"><caption> سنکیانگ میں سکیورٹی آپریشن، ’28 حملہ آور ہلاک‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/11/151120_china_uighur_mine_operation_ak.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> سنکیانگ میں دہشت گردوں کے خلاف ’کامیاب‘ کارروائی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150528_china_crackdown_as.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> اویغوروں کا اپنے ’وطن‘ کا خواب</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/04/150418_uighurs_independence_dream_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

اخبار کے مطابق یہ افراد عوام پر ظالمانہ حملے میں ملوث تھے، اخبار کا اشارہ ستمبر میں ایک کوئلے کی کان میں ہونے والے حملے کی جانب ہوسکتا ہے جس میں حکام کے مطابق 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

چین کے صوبے سنکیانگ میں اکثر حالات کشیدہ رہتے ہیں اور یہاں زیادہ تر ایغور اقیلت آباد ہیں۔

دی پیپلز لبریشن آرمی ڈیلی کے مطابق سپیشل فورسز نے مسلح افراد کا پہاڑ پر ایک ٹھکانے پر گھیراؤ کیا جیسے ’عقاب اپنا شکار تلاش کرتے ہیں۔‘

اخبار کے مطابق پولیس نے مشتبہ افراد کو باہر نکالنے آنسو گیس اور بے ہوش کرنے والے گرنیڈز کا استعمال کیا، تاہم بعد میں ایک افسر کی جانب سے انھیں آگ پھینکنے کے احکامات دیے گئے۔

سنکیانگ میں چین کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں عائد ہیں لہذا اس قسم کی اطلاعات کی تصدیق میں مشکلات درپیش ہیں۔

ایغور نسل سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کا تعلق مذہب اسلام سے ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایغور نسل سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کا تعلق مذہب اسلام سے ہے

ایسا قیاس کیا جارہا ہے کہ حالیہ رپورٹ اسکو میں کوئلے کی کان میں 18 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں ملوث شدت پسندوں کے بارے میں ہے۔

امریکی تعاون سے قائم ریڈیو فری ایشیا نے اس حملے کے بارے میں سب سے پہلے اطلاع دی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ اس میں کم از کم 50 افراد مارے گئے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں ریڈیو فری ایشیا کا کہنا تھا کہ کان میں حملے کے جواب میں تین خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 17 مشتبہ افراد مارے گئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ خطے میں پرتشدد واقعات میں ’غیرملکی دہشت گرد‘ ملوث ہیں۔ گذشتہ تین برسوں میں ان حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایغور نسل سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کا تعلق مذہب اسلام سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی جانب سے ان کے مذہبی اور ثقافتی رسم و رواج کو روکنے سے تشدد پروان چڑھ رہا ہے۔