بہار میں آخری انتخابی مرحلے میں تقریباً 60 فیصد ووٹنگ

،تصویر کا ذریعہManish Saandilya
بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں ریاستی اسمبلی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلے کے لیے جمعرات کو پولنگ ہوئی ہے۔
اس مرحلے میں 57 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے اور ووٹنگ کی شرح 60 فیصد کے قریب رہی ہے۔
جن نو اضلاع میں اس مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے ان میں مدھوبنی، دربھنگہ، سپول، مادھے پورا، سہرسہ، ارریہ، کشن گنج، پورنیا اور کٹیہار شامل ہیں جہاں اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق چار بجے تک سب سے زیادہ ووٹنگ کٹیہار میں 63.70 فیصد اور سب سے کم سہرسہ میں 49.22 فیصد ہوئی ہے۔
اس مرحلے کی پولنگ کے ساتھ ہی بہار میں تقریباً دو ماہ سے جاری انتخابی میلہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور آٹھ تاریخ کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAP
سیمانچل کا علاقہ نیپال سے متصل سرحدی علاقہ ہے جہاں بھارتی نژاد نیپالی ملک کے نئے آئین کے خلاف پر تشدد مظاہرے کرتے رہے ہیں اس لیے ان علاقوں میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور بعض مقامات پر نیم فوجی دستوں کی اضافی کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔
اس آخری مرحلے میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے 827 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کیا جن میں 58 خواتین بھی شامل ہیں۔
آخری مرحلے میں جن اہم امیدواروں کی قسمت داؤ پر لگي ہے اس میں نتیش کمار کی حکومت کے سینیئر وزیر بجندر پرساد یادو (جے ڈی یو) سپول سے، آر جے ڈی کے سینیئر رہنما عبدالباری صدیقی علی نگر سے، ریاستی وزیر نریندر نارائن یادو عالم نگر اور بھولا ناتھ یادو بہادر پور سے میدان میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مرحلے میں ماؤ نوازوں کے زیر اثر دو نشستوں، سمري بختيارپور اور مہسي میں ووٹٹنگ صبح سات بجے سے دوپہر تین بجے تک ہوگی جبکہ باقی تمام سیٹوں پر شام پانچ بجے تک ووٹ ڈالے جا سکیں گے۔
گذشتہ چاروں مراحل کی طرح پانچویں مرحلے میں بھی این ڈی اے اور نتیش کمار کی قیادت والے اتحاد کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے۔







