بہار میں انتخابات کے چوتھے مرحلے میں 58 فیصد ووٹنگ

بہار میں چوتھے مرحلے کے لیے یکم نومبر کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنبہار میں چوتھے مرحلے کے لیے یکم نومبر کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے لیے اتوار کو پولنگ ہوئی ہے اور اس مرحلے میں سات اضلاع کی 55 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق شام پانچ بجے تک 57.59 فیصد رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے۔

سب سے زیادہ ووٹ مشرقی چمپارن ضلع میں ڈالے گئے جہاں رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 59.96 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالا جبکہ سب سے کم سیوان میں 54.31 فیصد ووٹنگ ہوئی۔

مشرقی چمپارن میں موجود بی بی سی پنکج پريدرشي نے بتایا کہ وہاں خواتین میں ووٹنگ کے سلسلے میں خاصا جوش دیکھنے کو ملا اور پولنگ سٹیشنوں کے باہر ووٹروں کی لمبی قطاریں لگی تھیں۔

<link type="page"><caption> بہار بی جے پی اور آر ایس ایس کی مصیبت بن گیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151031_doosra_pahlu_bihar_elections_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’بی جے پی ہاری تو پاکستان میں پٹاخے پھوٹیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151030_bihar_assembly_election_bjp_amitshah_sz.shtml" platform="highweb"/></link>

دیہی علاقے میں ایک ووٹر کا کہنا تھا ’ووٹ پہلے ناشتہ بعد میں۔‘

اس دور کے انتخابات میں سینیئر وزیر رمئی رام، رنجو گیتا، منوج کشواہا اور شاہد علی خان کی قسمت کے فیصلہ ہوں گے۔

ووٹ ڈالنے کے معاملے میں خواتین میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہManish Shandilya

،تصویر کا کیپشنووٹ ڈالنے کے معاملے میں خواتین میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے

گذشتہ اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو کے ساتھ اتحاد میں شامل بی جے پی نے مظفرپور، مشرقی چمپارن، مغربی چمپارن، سیتامڑھی، شیوہر، گوپال گنج اور سیوان کی 55 سیٹوں میں سے 26 نشستوں پر کامیابی حاصلی کی تھی۔

گذشتہ بار جے ڈی یو کو 24 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ آر جے ڈی کو 2 اور 3 نشستیں آزاد امیدواروں کے حصے میں گئی تھیں۔

اس بار سیاسی پس منظر بدلا ہوا ہے اور گذشتہ بار کے اتحادی ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں۔

اس بار ان 55 سیٹوں پر مہا گٹھبندھن یا وسیع اتحاد کی جانب سے آر جے ڈی کے 26، جے ڈی یو کے 21 اور کانگریس کے 8 امیدوار میدان میں ہیں۔

این ڈی اے کی جانب سے بی جے پی 42، ایل جے پی پانچ، ہندوستان عوامی فرنٹ اور لوک سمتا پارٹی چار چار سیٹوں پر قسمت آزما رہی ہے۔

شہروں کے مقابلے دیہی علاقوں میں ووٹروں میں زیادہ جوش نظر آ رہا ہے
،تصویر کا کیپشنشہروں کے مقابلے دیہی علاقوں میں ووٹروں میں زیادہ جوش نظر آ رہا ہے

انتخابات کے لیے 14،139 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں لوگ 776 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے جن میں سے 57 امیدوار خواتین ہیں۔

ان کی قسمت کا فیصلہ 1،46،93،294 ووٹرز کریں گے جن میں 78،50،337 مرد اور 68،42،545 خواتین ووٹرز کے علاوہ تیسرے صنف کے 412 ووٹرز بھی ہیں۔

نکسل متاثرہ پولنگ سٹیشنوں کی تعداد 3,043 ہے۔ سکیورٹی کے لیے مرکزی نیم فوجی دستوں کی 1163 کمپنیاں (سب میں 100 جوان ہوں گے) تعینات کی جائیں گی۔ دریاؤں کے راستے پر پیٹرولنگ کے لیے 38 موٹربوٹ بھی تعینات رہیں گی۔

چوتھے دور کے انتخابات کے بعد کل 186 سیٹوں پر انتخابات مکمل ہو جائیں گے اور باقی ماندہ 57 سیٹوں پر 5 نومبر کو پولنگ ہوگی۔ جبکہ ووٹوں کی گنتی 8 نومبر کو ہوگی۔