بہار اسمبلی انتخابات: تیسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ جاری

،تصویر کا ذریعہMANISH SHANDILYA
بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ابھی تک ہونے والے دو مرحلوں میں ٹکر کے مقابلے کی بات کہی گئی ہے۔
اس مرحلے میں دارالحکومت پٹنہ کے علاوہ سارن، ویشالی، نالندہ، بھوجپور اور بکسر اضلاع کی 50 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
<link type="page"><caption> مودی لالو سے کیوں گھبرا رہے ہیں؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151010_dusra_pehlu_bihar_election_zh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کیا بہار مودی کی یلغار کو روک سکےگا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/09/150919_doosra_pehlu_bihar_election_sz.shtml" platform="highweb"/></link>
ووٹنگ تمام 50 انتخابی حلقوں میں بھارت کے معیاری وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی اور یہ 40 حلقوں میں شام پانچ بجے تک جاری رہے گي جبکہ 10 حلقوں میں شام چار بجے ختم ہو جائے گی۔
تیسرے مرحلے میں کل 808 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں 71 خواتین امیدوار ہیں۔ خیال رہے کہ بہار اسمبلی انتخابات پانچ مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں جبکہ نتائج کا اعلان آٹھ نومبر کو ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہPTI
تیسرے مرحلے میں بہار کے سرکردہ رہنماؤں میں بی جے پی کے نند کشور یادو، راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد کے دونوں بیٹے تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو شامل ہیں۔
متنازع اور دبنگ لیڈر اننت سنگھ بھی آزاد امیدوار کے طور پر انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مرحلے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے گھر ضلع نالندہ میں بھی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ اس ضلع میں کل سات اسمبلی سیٹیں ہیں۔
بدھ کو جن 50 سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے ان میں سنہ 2010 کے اسمبلی انتخابات میں 22 نشستیں جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو)، آٹھ نشستیں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور 20 نشستیں بی جے پی کے پاس تھیں۔

،تصویر کا ذریعہManish Shandilya
لیکن سنہ 2010 کے اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو بی جے پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے میں شامل تھی جبکہ آر جے ڈی رام ولاس پاسوان کی پارٹی لوک جن شکتی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن میں اتری تھی۔
اس بار جے ڈی یو آر جے ڈی اور کانگریس نے مل کر مہا گٹھبندھن یعنی وسیع اتحاد بنایا ہے جبکہ بی جے پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے میں ایل جے پی اور ریاست کے سابق وزیر اعلی جیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) شامل ہے۔







