گائے سمگروں کے خلاف آپریشن

،تصویر کا ذریعہMansi Thapliyal
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی، دہلی
نصف رات کے بعد راجستھان کے ایک ویران گاؤں کے چوراہے پر تاریکی میں وہ باہر نکلتے ہیں۔ موسم سرما کی آمد آمد ہے اور چاند چمک رہا ہے۔ پورا علاقہ پہاڑیوں اور درختوں کے سائے سے گھرا ہوا ہے۔
ایک درجن سے زیادہ آدمی بھوتوں کی طرح اندھیرے سے نمودار ہوتے ہیں۔
راجستھان کے اس علاقے کی نگرانی اور چھان بین کرنے والے نول کشور شرما چلّاتے ہیں: ’آس پڑوس میں کسی گاڑی کی کوئی اطلاع ہے؟‘
باقی آدمی تو سر ہلا دیتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص کہتا ہے: ’ابھی تک تو کچھ بھی نہیں ملا، آج سب کچھ ٹھنڈا لگتا ہے۔‘
موٹر سائیکل پر سوار شرما گٹھيلے بدن کے آدمی ہیں۔ ان کے بال تیل سے چمک رہے ہیں جن کے چہرے پر داڑھی بھی ہے۔ جینز اور ہلکے رنگ کی شرٹ کے ساتھ خاکی رنگ کا جوتا پہن رکھا ہے۔ ان کے دو بیویوں سے پانچ بچے ہیں۔
دن میں روزی روٹی کے لیے وہ سنگ مرمر سے دیوی دیوتاؤں کی چھوٹی چھوٹی مورتیاں بناتے ہیں۔ رات کو وہ تقریباً 70 گاؤوں پر مشتمل رام گڑھ کے علاقے میں گائے بچانے والے ایک بنیاد پرست ہندو گروپ کے شعلہ بیان سرغنہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMansi Thapliyal
ہفتے میں وہ اسی طرح کی کئي راتوں میں گائے سمگلروں کی نگرانی کرنے والے اپنے ’سپاہیوں‘ کی قیادت کرتے ہیں۔
بھارت میں بیف کھانے اور گائیوں کے ذبیحے پر ہونے والے پر تشدد واقعات کے سبب اس طرح کے گروپوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ برس اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کی حکومت نے بیف کھانے اور گائے کے ذبیحے پر قانون کو مزید سخت کر دیا ہے۔ گائے اب ملک میں دو فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے والا مویشی بن چکی ہے۔
شرما کے یہ ’سپاہی‘ نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن یہ گروپ سخت گیر ہندو تنظیم بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور شیو سینا کے ارکان کے لیے بھی وقف ہے۔

،تصویر کا ذریعہMansi Thapliyal
یہ تمام لوگ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی شاخوں میں جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض کی عمر تو بس 15 سال ہے۔ گائے بچانے والے اس گروپ میں کسان، دوکان دار، اساتذہ، طلبہ، ڈاکٹر اور بےروزگار سبھی طرح کے لوگ شامل ہیں۔
جس رات کو میں اس گروپ کے ساتھ باہر نکلا تو مجھے ایک ٹی وی مکینک، سنسکرت کے استاد اور ایک ٹی وی صحافی کو بھی اس گروپ میں پایا۔ اس میں دو پولی ٹیکنک کے طالب علم بھی تھے۔
وہ بنیادی طور پر سبزی خور ہیں اور سب نے بتایا کہ وہ صحت مند زندگی کے لیے گائے کا پیشاب پیتے ہیں۔
شرما سمیت زیادہ تر کا خیال تھا کہ دادری میں جس مسلم شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کیاگیا اس نے واقعی بیف کھایا تھا اور ’جب لڑائی ہوتی ہے تو لوگ مرتے ہیں۔‘
ان تمام کو اس بات کا یقین ہے کہ ’گئو ماتا‘ خطرے میں ہے۔ ان میں سے ایک سورج بھان گوجر کا کہنا تھا: ’اگر ہم نے ابھی نہیں حفاظت کی تو گائے 20 سالوں میں غائب ہو جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہMansi Thapliyal
یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان میں دس کروڑ گائیں اور بھینسیں ہیں۔ اسی طرح کی غیر حقیقی باتوں سے لیس یہ افراد جوش خروش کے ساتھ رات رات بھر گائے کے سمگلروں کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔
یہ تمام لوگ لاٹھی، بیس بال بیٹ، ہاکی، پتھروں، ماچس اور ڈنڈوں جیسے ہتھیاروں سے لیس ہوتے ہیں۔
یہ لوگ گاڑیوں کو روکنے کے لیے سڑک پر کیلیں بچھا دیتے ہیں اور اپنی موٹر سائیکلوں پر سمگلروں کا پیچھا کرتے ہیں۔
گائے کو بچانے کی یہ لڑائی تھوڑی غیر منظم نظر آتی ہے۔ سمگلر تاریکی میں ان کی طرف فائر کرتے ہیں اور اکثر ان کی تیز رفتار گاڑیوں کا پیچھا کیا جاتا ہے۔
ٹی وی میکینک بابو لال پرجاپتی کہتے ہیں: ’ہم گولیوں سے بچنے میں ماہر ہیں۔ جب سمگلر فائر کرتے ہیں تو ہم زمین پر جھک جاتے ہیں۔‘ اگرچہ اس رات کو ایسا کوئی ڈرامائی واقعہ نہیں پیش آیا۔

،تصویر کا ذریعہManis Thapliyal
ایک نگران گروپ نے ایک ٹرک کو روکا۔ لوگوں میں حوصلہ بڑھ گیا اور تمام لوگ اس ٹرک پر چڑھ گئے لیکن انھیں مایوسی ہاتھ لگی۔ اس میں دہلی کے بازار کے لیے سور بھر کر لے جائے جا رہے تھے۔
ٹرک کے ڈرائیور ذاکر حسین سے ان لوگوں نے پوچھا: ’آپ مسلمان ہو کر سور لے جا رہے ہو؟‘ حسین نے مزاحیہ انداز میں کہا: ’میں جینے کے لیے ہر کام کروں گا۔‘
گائے کی تلاش ختم ہونے والی تھی کہ گاؤں کے راستے پر چاندنی رات میں ایک اونٹ گاڑی آتی نظر آئی۔ نگرانی کرنے والے اس طرف دوڑے۔ یہ رات بہت ہی حیرت زدہ کر دینے والی تھی۔
اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اب تک 18 ہزار گائیوں کو بچایا ہے۔ زیادہ تر سمگلر اندھیرے میں فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ ایسی گائیوں کو ان کے لیے مخصوص مقام پر رکھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMansi Thapliyal
تاہم مقامی پولیس سٹیشن کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس سال گائے سمگلنگ کے صرف نصف درجن مقدمات درج ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال اس نوعیت کے صرف سات کیس سامنے آئے تھے۔
اسمگلروں سے پکڑی جانے والی تقریباً درجن بھرگاڑیاں پولیس سٹیشن میں کھڑی ہیں۔
پولیس اہلکار دھرو سنگھ کہتے ہی:ں ’گائے سمگلنگ کی شکایات کو ہم بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور گائے کی نگرانی کرنے یہ گروپ اس میں ہماری مدد کرتے ہیں۔‘
تاہم حالات حکومت کی وجہ سے اور ابتر ہو رہے ہیں کیونکہ وہاں پر اسی نظریے کی حامل بی جے پی کی حکومت قائم ہے۔

،تصویر کا ذریعہMnasi Thapliyal
شرما کہتے ہیں: ’ہم ان دنوں سخت محنت کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنا۔ مقامی بی جے پی کے رکن اسمبلی اور پارٹی کے دیگر رہنما سب اس مشن میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔ پولیس زیادہ چوکس ہو گئی ہے اور انتظامیہ ہماری باتیں سننے لگی ہے۔‘
میں قریبی شہر الور واپس آيا تو بی جے پی کے مقامی رہنما گیان دیو آہوجا سے ملاقات ہوئي جو اس گروپ کی پوری مدد کرتے ہیں۔
انھوں نے مجھے بتایا: ’میں انھیں پیسے دیتا ہوں، حمایت کرتا ہوں اور گائے کی مذہبی اہمیت سے متعلق باتیں بتاتا ہوں۔‘
ایسے افراد کی ’تعلیم‘ کے لیے خصوصی کلاسیں منعقد ہوتی ہیں جہاں انھیں بتایا جاتا ہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا مکمل طور گائے کے گوبر سے پیدا کردہ بجلی پر چلتی ہے، گائے کے دودھ میں سونا پایا جاتا ہے اور غیر ملکی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں گائے مارنے سے سمندری طوفان، زلزلے اور خشک سالی آئےگی۔
وہ کہتے ہیں: ’پھر بھی، بھارت میں گائے کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ اس لیے میں ان لوگوں کی حمایت کرتا ہوں۔ ان کا ایک مشن ہے۔ بھارت کی روح کو بچانے کا مشن۔‘







