چین: تیل کی کمپنی کے سابق سربراہ کو قید کی سزا

،تصویر کا ذریعہReuters
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی تیل کی کمپنی کے سابق سربراہ کو رشوت لینے کے جرم میں 16 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
جیانگ جیمن چائنا نیشنل پیٹرولیئم کارپوریشن (سی این پی سی) اور اس کی ذیلی کمپنی پیٹرو چائنا کے سربراہ تھے۔
سنہ 2013 میں سرکاری ملازمت ملنے کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
جیانگ سکیورٹی کے سابق سربراہ جو یونگ کانگ کے اتحادی تھے، جو چین میں جاری بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن میں پکڑے جانے والے سب سے بڑے اہلکار تھے۔
چین کے صوبے ہوبئی میں مقامی ذرائع ابلاغ نے ایک عدالت کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیانگ کو ’رشوت لینے‘ پر مجرم پایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے پاس بڑی مقدار میں ایسے اثاثے موجود تھے جن کے متعلق یہ پتہ نہیں کہ وہ کہاں سے حاصل کیے گئے ہیں۔ ایک سرکاری کمپنی کے ملازم کے طور پر انھوں نے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہOther
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جیانگ نے کل 23 لاکھ ڈالر کے اثاثے حاصل کیے تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جیانگ کی قید کی سزا کے علاوہ حکام نے ان سے 10 لاکھ یوان کے اثاثے بھی ضبط کیے ہیں۔
بیجنگ میں بی بی سی کی نامہ نگار سیلیا ہیٹن کا کہنا ہے کہ اپنے جرم کو قبول کرنے پر اور رشوت لینے کے واقعات کی تفصیل بتانے کے بعد جیانگ کی سزا کم کر دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیانگ نے 1990 اور 2000 کی دہائی میں سی این پی سی میں ترقی حاصل کرتے کرتے کمپنی کے چیئرمن کا عہدہ حاصل کیا تھا۔
انھوں نے سنہ 2013 میں سی این پی سی کو چھوڑ کر سرکاری اثاثوں کی نگرانی اور انتظامیہ کمیشن کے سربراہ کا عہدہ حاصل کیا تھا جو کہ ایک کابینہ کی سطح کی پوزیشن ہے۔ یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔







