چین کی معیشت تباہی کے دہانے پر نہیں پہنچی: آئی ایم ایف

،تصویر کا ذریعہ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لگارڈ کے مطابق ابھی چین کی معیشت مکمل طور پر ’تباہی اور مایوسی‘ کے دہانے پر نہیں پہنچی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں یہ کہوں گی کہ چین کی معیشت بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے لیکن اس کی رفتار کچھ حد تک سُست ہے۔‘
آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ ’توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے سال تک اس کی رفتار میں بہتری آ جائے گی۔ ہم اس وقت بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔‘
کئی دہائیوں سے دوہرے ہندسے کی شرحِ نمو کے بعد گذشتہ سال سے چین کی معیشت کی رفتار 7.4 فیصد تک سُست پڑ چکی ہے۔
حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے اس سال تک اس کی شرح نمو میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔
ادھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے صرف 6.8 فیصد تک شرح نمو کی پیش گوئی کی ہے۔
لگارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ اشیا کی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے اُبھرتی ہوئی مارکیٹ سمیت دنیا بھر میں آنے والی تبدیلیاں نئی صورت حال کو جنم دے رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرسٹین لگارڈ کا کہنا تھا کہ ’چاہے آپ چین کی ترقی کے ایک نمونے سے دوسرے نمونے تک تغیر کی بات کریں یا پھر رقم کے لین دین کے ایک طریقے سے دوسرے طریقے میں تبدیلی کی بات کریں۔۔۔ ہم اس کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
بہتر مواصلات:
اپنی معیشت کو برآمدی قیادت سے صارفین کی قیادت تک منتقلی کے لیے چین کی جانب سے جاری کوششوں سے متعلق لگارڈ کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف اس تبدیلی کا پہلے ہی بہت بڑی حامی تھا جو اس وقت ہوتی نظر آ رہی ہے۔‘
انھوں نے چین کی کرنسی کی شرح تبادلہ اور سود کی شرح کی نقل و حرکت کے بہتر انتظام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور توقع ظاہر کی کہ چینی حکومت سے دنیا بھر سے تعلقات میں بہتری لائے گی۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کے طور پر کرسٹین لگارڈ کی پانچ سالہ مدت 2016 کے وسط میں ختم ہو رہی ہے۔ پیرو میں فنڈ کے حوالے سے منعقد ہونے والے سالانہ اجلاس میں انھوں نے اس بات کا واضح اشارہ دیا کہ وہ آئی ایم ایف کی دوسری مدت میں بھی خدمات انجام دینے کی خواہش مند ہیں۔







