ایم ایس ایف نے جنگی جرم کی تفتیش کا مطالبہ کر دیا

امریکہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سنیچر کو ایم ایس ایف کے ہسپتال پر ہونے والے بمباری غلطی تھی تاہم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ان کا ہسپتال معروف تھا اور اس پر کی جانے والی بمباری غلطی نہیں ہو سکتی
،تصویر کا کیپشنامریکہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سنیچر کو ایم ایس ایف کے ہسپتال پر ہونے والے بمباری غلطی تھی تاہم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ان کا ہسپتال معروف تھا اور اس پر کی جانے والی بمباری غلطی نہیں ہو سکتی

عالمی امدادی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے افغانستان کے شہر قندوز کے ہسپتال پر امریکی بمباری کی تحقیقات کے لیے ایک ایسے ادارے کی خدمات حاصل کر رہی ہے جس کو پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔

عالمی امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اسے کسی اندرونی فوجی تحقیق پر بھروسہ نہیں ہے۔

یہ ادارہ انسانی حقوق سے متعلق حقائق جاننے کا ادارہ آئی ایچ ایف ایف سی ہے اور اسے 1991 میں قائم کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ایم ایس ایف کے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری سے ایم ایس ایف کے عملے کے 12 ارکان سمیت 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سنیچر کو ایم ایس ایف کے ہسپتال پر ہونے والے بمباری غلطی تھی تاہم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ان کا ہسپتال جانا پہچانا تھا اور اس پر کی جانے والی بمباری غلطی نہیں ہو سکتی۔

ایم ایس ایف کے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری سے ایم ایس ایف کے عملے کے 12 ارکان سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنایم ایس ایف کے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری سے ایم ایس ایف کے عملے کے 12 ارکان سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے

واضح رہے کہ امریکی وزارتِ انصاف، پینٹاگان، نیٹو اور امریکی افغان ٹیم کے علاوہ اس حملے کی تحقیقات کے لیے متعدد انکوائریوں کا حکم دیا گیا ہے۔

تاہم ایم ایس ایف کی سربراہ جواین لیو نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم امریکی، نیٹو اور افغان افواج کی جانب سے کی جانے والی کسی اندرونی تحقیقات پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اگر ہم نے اس واقعے کو جانے دیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہم کسی بھی ملک کو جنگ کا بلینک چیک دے رہے ہیں۔‘

اس سے قبل گذشتہ روز امریکہ میں سینیٹ کی سماعت کے دوران افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر اور امریکی فوج کے جنرل جان کیمبل نے کہا تھا کہ ’افغان شہر قندوز میں ایم ایس ایف کے ہسپتال پر بمباری ایک غلطی تھی‘ اور یہ کہ ’اس کا فیصلہ امریکی چین آف کمانڈ کے تحت کیا گیا تھا۔‘

اس کے برعکس ایم ایس ایف کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ ہسپتال میں کوئی مسلح طالبان نہیں تھے اور امریکی اور افغان حکام کو ہسپتال کی جانب سے اس کی اطلاع تھی۔