’قندوز میں ہسپتال پر بمباری افغان فوج کی درخواست پر کی‘

ایم ایس ایف کے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری سے عملے کے 12 ارکان اور دس مریض ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایم ایس ایف کے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری سے عملے کے 12 ارکان اور دس مریض ہلاک ہوئے تھے

امریکی فوج کے جنرل جان کیمبل نے کہا ہے کہ افغان شہر قندوز میں عالمی امدادی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کے ہسپتال پر بمباری افغان فوج کی درخواست پر کی گئی تھی۔

افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل کیمبل کا یہ تازہ بیان امریکی فوج کے اس بیان کی نفی کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جب امریکی طیاروں نے کارروائی کی تو طالبان شدت پسند امریکی فوجیوں پر فائرنگ کر رہے تھے۔

<link type="page"><caption> ’قندوز میں کوئی سو نہیں سکتا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151001_qunduz_taliban_witnesses_ak.shtml" platform="highweb"/></link>

ایم ایس ایف کے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری سے ایم ایس ایف کے عملے کے 12 ارکان سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے کہا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے قندوز میں تنظیم کے ہسپتال پر فضائی کارروائی کا دفاع کیا جانا نفرت انگیز اور جنگی جرائم کے اقبال کے مترادف ہے۔

جنرل کیمبل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تین اکتوبر کو افغان افواج نے مطلع کیا تھا کہ ان پر دشمن کی پوزیشنوں سے فائرنگ کی جا رہی ہے اور انھیں امریکی فضائیہ کی مدد درکار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس پر طالبان کا خطرہ ختم کرنے کے لیے فضائی حملے کا حکم دیا گیا اور کئی عام شہریوں کا نشانہ بننا ایک حادثہ تھا۔‘

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایم ایس ایف کے جنرل ڈائریکٹر کرسٹوفر سٹوکس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی حرکت کی ذمہ داری افغان حکومت پر ڈال رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ وہ بم امریکہ نے گرائے۔۔۔امریکی فوج ہی ان اہداف کے لیے ذمہ دار ہے جنھیں وہ نشانہ بناتی ہے۔‘

جنرل کیمبل نے اپنے بیان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجنرل کیمبل نے اپنے بیان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کیا

اس معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کرسٹوفر سٹوکس نے کہا کہ امریکی اور افغان حکام کے بیانات میں تضاد ہی ایک غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا متقاضی ہے۔‘

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرے گا۔

جنرل کیمبل نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا تھا کہ بمباری ایک جنگی سی 130 طیارے نے کی تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی اور یہ کہا کہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ انھیں دو سے تین دن میں ملے گی۔