افغان توپوں کا رخ پاکستان کی طرف؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
افغانستان کے شمال میں اہم قندوز شہر پر طالبان کے قبضے کے اثرات وہاں حکومت اور طالبان کے درمیان جاری کشمکش میں جو بھی ہوں، ہمسایہ ملک پاکستان کے لیے کسی صورت فی الحال اچھے ثابت نہیں ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ طالبان کو فتح خوش قسمتی سے پاکستانی سرحد سے دور شمالی علاقے میں ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود افغان خفیہ ادارے کی جانب سے فضائی حملے میں مارے جانے والوں میں پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ کے اراکین کے مارے جانے کا بھی دعوی کر رہے ہیں۔
<link type="page"><caption> قندوز کیوں اہم ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/09/150929_kunduz_city_atk" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> طالبان کا قندوز پر قبضہ مزید مضبوط ہو گیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/09/150930_kunduz_afghan_forces_taliban_zh" platform="highweb"/></link>
پاکستانی حکام اور عوام کو خدشہ ہے کہ یہ افغان توپوں کا منہ پاکستان کی جانب کیے جانے کے پہلے پہلے اشارے ہیں۔ نائب افغان صدر عبداللہ عبداللہ نے اقوام متحدہ میں بھی پاکستان پر تنقید کی اور اب افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ان کی فراہم کی گئی معلومات کی بنیاد پر فضائی حملے میں قندوز کے لیے طالبان کے گورنر مولوی سلام سمیت لشکر طیبہ کے سربراہ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی پشتو سروس کے اسلام آباد میں نامہ نگار طاہر خان کہتے ہیں کہ ابھی چونکہ افغان حکام کی تمام تر توجہ قندوز کو بچانے پر مرکوز ہے لہذا الزامات کی جانب معاملہ ابھی پوری طرح نہیں آیا ہے۔
’افغان حکومت اور امریکہ بھی کہہ رہا ہے کہ قندوز ان کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگر چند دنوں میں شہر کو طالبان سے خالی نہ کروایا گیا تو خدشہ ہے کہ پھر یہ طویل جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ طالبان کا مزید کمک منگوانا اور شہر میں بارودی سرنگیں نصب کرنا ہے۔‘
لیکن پاکستان کی جانب اشارے ضرور کیے جا رہے ہیں۔ طاہر خان کا کہنا ہے کہ افغان صدر، وزیر دفاع اور دیگر اہلکاروں نے غیرملکیوں کے ملوث ہونے کی بات تو کی ہے لیکن کسی ملک کا نام نہیں لیا ہے۔ ’اکثر افغانستان میں غیر ملکی شدت پسندوں سے مراد پاکستان ہی ہوتی ہے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الزامات کے تبادلے سے سب سے زیادہ فائدہ ماضی میں بھی اور اب بھی طالبان کو ہوا ہے۔ سکیورٹی امور کے ماہر اور زالان کمیونیکیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اشرف علی کہتے ہیں کہ ’دونوں اطراف کے الزامات کا فائدہ پاکستانی اور افغان طالبان نیکسس اٹھاتا ہے اور اگر یہ بند نہ ہوا تو نقصان دنوں ممالک کو ہوگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے خلاف افغانستان کے حکمرانوں یا عام شہریوں کی رائے کوئی زیادہ آج بھی مثبت نہیں ہے۔ کابل میں موجود ہفتہ وار میگزین نیوز ویک کے نامہ نگار سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ ’پاکستان پر غصہ تو پہلے سے ہے۔ افغان سمجھتے ہیں کہ طالبان پاکستان کی کٹھ پتلیاں ہیں۔ لیکن اس وقت سب سے زیادہ تنقید افغان حکومت پر یہاں ہو رہی ہے۔ اس کی اہلیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ افغان حکومت کو اس وقت زیادہ ندامت اٹھانا پڑ رہی ہے۔‘
افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے گذشتہ دنوں کابل پر طالبان کے یکے بعد دیگرے حملوں کے نتیجے میں اخباری کانفرنس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تو کشیدہ ہوئے لیکن کیا اب قندوز کے واقعے کو دونوں کے درمیان ہنی مون کے باضابطہ خاتمے کا سبب تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ سوال میں نے ڈاکٹر اشرف علی سے دریافت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اتار چڑھاؤں گذشتہ ایک دھائی سے زیادہ عرصہ سے دیکھ رہے ہیں۔ مل بیٹھ کر جتنا جلد اس کا کوئی پائیدار حل نہ نکالا گیا تو نقصان بھی انھی دو ممالک کو ہوگا۔‘
اگرچہ پاکستان افغان طالبان کی ملک میں موجودگی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں لیکن کیا کوئی ابھی بھی اس کا امکان ہے کہ وہ یہاں سے قندوز حملے کی منصوبہ بندی یا مدد کر رہے ہیں؟ سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ افغان حکومت کے اکثر اہلکار تو یہی الزام لگاتے ہیں کہ یہ تمام کارروائیاں کوئٹہ شوری کروا رہی ہے۔
پاکستان کو بھی خدشہ تو تھا کہ افغان حکومت کی اپنی کوتاہیوں یا کمزوریوں کا ملبہ ان پر ہی آن کر گرنا ہے۔ سیکرٹری خارجہ عزیز احمد چوہدری نے نیو یارک میں صحافیوں کو ایک بریفنگ میں بتایا کہ افغانستان کے مسائل کا حل مذاکرات میں ہے ناکہ الزامات کے تبادلے میں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن افغانستان کا خواہاں ہے۔ لیکن کیا قندوز سے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر اشرف علی کہتے ہیں پاکستان کو چاہیے کہ وہ طالبان کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی کوشش تیز کر دے۔
’سرتاج عزیز کے گذشتہ دنوں کابل دورے سے کچھ بہتری آئی بھی ہے۔ دونوں ممالک کو اس بات کا ادراک ہے کہ مذاکرات کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ پاکستان کو اپنا اثر ور رسوخ استعمال کرنا چاہیے اور مذاکرات کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا اسے دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔‘
کامیابیاں حاصل کرنے والے افغان طالبان کے لیے بظاہر فی الحال مذاکرات کی میز پر آنے کا کوئی موڈ نہیں ہوگا لیکن اس جانب کوشش جاری رہنی چاہیے۔ پاکستان کے لیے فی الحال قندوز کی لڑائی کی وجہ سے اِس راستے تاجکستان اور سینٹرل ایشیا کے لیے پاکستانی برآمدات کا سلسلہ بھی رک گیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ طول پکڑتا ہے تو اس لڑائی نے معاشی طور پر پاکستان کو نقصان پہلے دن سے پہنچانا شروع کر دیا ہے۔







