افغانستان: قندوز بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی

طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد افغانستان میں طالبان کی جانب سے حملوں میں شدت آئی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنطالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد افغانستان میں طالبان کی جانب سے حملوں میں شدت آئی ہے

افغانستان کے شمالی صوبے قندوز میں حکام کے مطابق خان نشین ضلع میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 29 افراد ہلاک اور 19 زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت مقامی ملیشیا کے کارکنوں کی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس میں ملیشیا کے حکومت کے حامی چار کمانڈر بھی شامل ہیں۔

طالبان نے اس بم دھماکے کو خودکش حملہ قرار دیتے ہوئے اس حملے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق دھماکے میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

سنیچر کی ہونے والے اس حملے کے بارے میں قندوز کی صوبائی حکومت کی ترجمان عبدلودود واحدی کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائی جانے والی ملیشیا کی حکومتی افواج اور طالبان دونوں کے ساتھ جھڑپیں ہو چکی تھیں۔

دوسری جانب بی بی سی کے نامہ نگار سید انور ملک کے جنوبی صوبہ ہلمند میں حکام کے مطابق ڈرون کم از کم 12 شدت پسند ہو گئے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق ایک اور واقعے میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو صوبہ ننگرہار کے ضلع غنی خیل میں سکیورٹی فورسز کے کارروائیوں میں کم از کم 20 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

صوبہ ننگرہار پولیس کے ترجمان حضرت حسین کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق حکام ہلاک ہونے والوں کو شدت پسند ہی کہہ رہے ہیں تاہم مقامی افراد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں طالبان جنگجوؤں کے علاوہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند بھی شامل ہیں۔

 ننگرہار میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 20 شدت پسند مارے گئے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن ننگرہار میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 20 شدت پسند مارے گئے

واضح رہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بم دھماکوں اور شدت پسندوں کے حملوں میں 50 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد سنیچر کو سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی۔

کابل میں ہونے والے حملے میں نیٹو کے مطابق ہلاک شدگان میں ایک غیر ملکی فوجی اور تنظیم کے آٹھ سویلین کنٹریکٹرز بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے اپنے بیان میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ یہ حملے طالبان کے اندر قیادت کے معاملات سے منسلک جھگڑوں کو چھپانے کی کوشش ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد افغانستان میں طالبان کی جانب سے حملوں میں شدت آئی ہے۔

خیال رہے کہ پیر کے روز افغان طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں طالبان اراکین کو نئے سربراہ ملا اختر منصور کی بیعت لیتے دیکھایا گیا۔

طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے اپنے بیان میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے۔‘