افغان مصالحتی عمل موخر ہوا ہے ختم نہیں: خواجہ آصف

وزیر دفاع نے ایک مرتبہ پھر اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیر دفاع نے ایک مرتبہ پھر اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان مصالحتی عمل کے ذریعے پاکستان ماضی میں اس پر لگنے والے ’الزامات کو دھونا‘ چاہتا ہے اور یہ کہ ’افغان ملا عمر کی نہ تو پاکستان میں موت ہوئی اور نہ انھیں یہاں سپرد خاک کیا گیا ہے۔‘

خواجہ آصف نے جمعے کے دن قومی اسمبلی کو بتایا کہ ’اس خطے میں امن کے لیے افغانستان اور پاکستان کے کردار نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کا اس عمل میں جو مثبت کردار ہے وہ تاریخ کا حصہ بنے گا۔‘

پارلیمان کے ایوان زیریں میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بابت پالیسی بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مری میں سات جولائی کو منعقد ہونے والے مذاکرات کا پہلا نہیں بلکہ دوسرا دور تھا۔ ’اس سے قبل چین میں پہلے دور ہو چکا تھا۔ تیسرا دور ملا محمد عمر کی موت کی خبر کی وجہ سے ملتوی ہوا ہے ختم نہیں ہوا۔ یہ عمل آج بھی چل رہا ہے۔‘

وزیر دفاع کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق طالبان کی نئی قیادت کے مخالفین کا ایک اجلاس کسی نامعلوم مقام پر آج ہو رہا ہے جس میں نئی قیادت سے متعلق فیصلے متوقع ہیں۔

وزیر دفاع نے ایک مرتبہ پھر اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا ہے۔ تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ ’پاکستان کے شدت پسند اسلامی تحریک کے ساتھ تعلقات ضرور ہیں جو استعمال کرتے ہوئے ہم انھیں مذاکرات پر آمادہ کر سکتے ہیں۔‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم ملا محمد عمر کی موت کے بعد تحریک کے اندر قیادت کے اختلافات یا جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے

،تصویر کا ذریعہEPA REUTERS

،تصویر کا کیپشنخواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم ملا محمد عمر کی موت کے بعد تحریک کے اندر قیادت کے اختلافات یا جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور چین اس اس مصالحتی عمل میں بطور مبصر شریک ہیں جبکہ پاکستان ثالث یا سہولت کار کے طور پر کام کر رہا ہے۔

ملا عمر کی ہلاکت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کے خاندان اور عزیز و اقارب کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

ان کا اصرار تھا کہ پاکستان ان کی موت کے وقت کے بارے میں بھی کسی بھی تنازعے میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔ ’ان کے اندر قیادت کا اگر کوئی تنازع ہے تو ہم اس میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ہماری یہ کوشش ہو گی کہ جو بھی نئی قیادت سامنے آئے وہ صلح کے عمل کو آگے بڑھائے تاکہ اس خطے میں امن لایا جا سکے۔‘