’افغانستان کسی متوازی سیاسی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کرے گا‘

،تصویر کا ذریعہArg
طالبان رہنما ملا محمد عمر کی ہلاکت کے بعد تحریک کی قیادت کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات پر تبصرہ کرتے ہوئے افغان حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک میں کسی متوازی سیاسی ڈھانچے کو قبول نہیں کرے گی۔
افغانستان کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان میں متوازی حکومت کی بات واضح طور پر طالبان کی اماراتِ اسلامیہ افغانستان کی طرف تھا۔
اس بیان میں کہا گیا کہ افغان حکومت طالبان سے ملک میں موجود دیگر مسلح تنظیموں کی طرح معاملات طے کرے گی۔
خیال رہے کہ صدر اشرف غنی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات افغان حکام کی جانب سے اس اعلان کے بعد روک دیے گئے تھے کہ طالبان کے سابق امیر ملا محمد عمر اپریل سنہ 2013 میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
طالبان نے گذشتہ ہفتے ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق کرنے کے بعد ملا اختر منصور کو باضابطہ طور پر تحریکِ طالبان کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل طالبان کے سینیئر رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملا اختر منصور کو طالبان شوریٰ کی مشاورت کے بغیر تحریک کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب ملا عمر کے رشتے داروں نے ملا منصور کی تعیناتی پر اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تعیناتی کے بارے میں بڑے پیمانے پر رائے شماری کروائی جائے جس میں اہم جنگی کمانڈر بھی شامل ہوں۔
واضح رہے کہ طالبان نے ملا عمر کی ہلاکت کے بعد اپنے متعدد بیانات میں نئے سربراہ ملا منصور کی تعیناتی کے حوالے سے یک جہتی کا اظہار کرنے کی کوشش کی ہے۔
حال ہی میں افغان طالبان نے اپنی شوریٰ کے اجلاس کی ایک غیر معمولی ویڈیو جاری کی ہے جس میں تحریک طالبان کے سینکڑوں اراکین نئے سربراہ ملا اختر منصور سے وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں۔
پیر کو جاری ہونے والی ویڈیو میں شوریٰ کے اجلاس میں ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا سربراہ تعینات کیا جا رہا ہے لیکن ویڈیو میں اُن کا چہرہ چھپایا گیا ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے یہ ویڈیو ایک ایسے موقعے پر جاری کی گئی ہے جب ملا عمر کی ہلاکت کے بعد نئے امیر کی تعیناتی پر اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
طالبان کی جانب سے پیر کو ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ملا عمر کی ہلاکت پر افسوس اور ملا منصور کی تعیناتی پر انھیں مبارکباد دی گئی ہے۔







