کابل میں 50 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد سکیورٹی سخت

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بم دھماکوں اور شدت پسندوں کے حملوں میں 50 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد سنیچر کو سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
نیٹو کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں ایک غیر ملکی فوجی اور تنظیم کے آٹھ سویلین کنٹریکٹرز بھی شامل ہیں۔
افغان صدر اشرف غنی بھی سنیچر کو ملک کی قومی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں جس میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور دیگر مقامات پر قائم شناختی چوکیوں پر پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
جمعے کے دن اور شب میں ہونے والے حملوں کے بعد رات بھر شہر کی فضا ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں کی آوازوں سے گونجتی رہی جنھیں فضائی نگرانی پر مامور کیا گیا تھا۔
کابل میں حالیہ پرتشدد واقعات کا آغاز شاہ شاہد نامی علاقے میں جمعے کی صبح ہونے والے ایک زور دار کار بم دھماکے سے ہوا تھا جس میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زائد زخمی ہوئے۔
اس دھماکے کے چند گھنٹے بعد ایک خودکش حملہ آور نے ہوائی اڈے کے شمالی علاقے میں پولیس کے تربیتی مرکز کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور اس حملے میں 30 سے زیادہ زیرِ تربیت اہلکار مارے گئے۔
ان حملوں کے بعد شہر میں حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے لیکن جمعے کی شب شدت پسندوں نے دارالحکومت میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کے اڈے پر دھاوا بول دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
نامہ نگار سید انور کے مطابق نیٹو حکام نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حملے میں ایک نیٹو اہلکار اور تنظیم کے آٹھ غیر فوجی کنٹریکٹر مارے گئے ہیں۔
تنظیم کی جانب سے ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
نیٹو حکام نے جوابی کارروائی میں دو حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے اپنے بیان میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ یہ حملے طالبان کے اندر قیادت کے معاملات سے منسلک جھگڑوں کو چھپانے کی کوشش ہیں۔
خیال رہے کہ یہ حملے طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پیر کے روز افغان طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں طالبان اراکین کو نئے سربراہ ملا اختر منصور کی بیعت لیتے دیکھایا گیا۔
طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے اپنے بیان میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے۔‘







