’قندوز کے ہسپتال پر حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ‘

بین الاقوامی طبی خیراتی تنظیم میڈیسنس سانس فرنٹيئرز (ایم ایس ایف) نے قندوز میں اپنے ہسپتال پر فضائی بمباری کی بین الاقوامی سطح پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
قندوز میں’ایم ایس ایف‘ کے ہسپتال پر امریکہ کی کمان میں نیٹو کی فضائی حملے کے نتیجے میں تنظیم کے عملے سمیت کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
’ایم ایس ایف‘نے ایک بیان میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے واضح گمان کی بنیاد پر یہ تحقیقات کرنی چاہیے۔‘
<link type="page"><caption> قندوز کیوں اہم ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/09/150929_kunduz_city_atk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’قندوز میں کوئی سو نہیں سکتا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151001_qunduz_taliban_witnesses_ak.shtml" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہMSF
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ چھ روز قبل شہر پر طالبان کے قبضے کے بعد اب قندوز کا زیادہ حصہ سرکاری سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے میڈیسنس سانس فرنٹيئرز کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’ایم ایس ایف کا ہسپتال بند کر دیا گیا ہے۔ تمام شدید زخمیوں کو دیگر ہسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے اور اب ہمارے ہسپتال میں تنظیم کا کوئی بھی اہلکار موجود نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMSF
اس سے قبل صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکہ قندوز میں ایم ایس ایف کے تحت چلنے والے ہسپتال پر فضائی حملے کی مکمل تفتیش کر رہا ہے ۔
صدر اوباما نے ’گہرے صدمے‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقائق کی پوری تفصیل حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔
صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا: ’وزارت دفاع نے اس واقعے میں مکمل تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور ہم کسی مخصوص نتیجے تک پہنچنے سے قبل تفتیش کے نتائج کا انتظار کریں گے کہ آخر اس سانحے کے حالات کیا تھے۔‘
اس سے قبل امریکی فوج نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے افغانستان کے شہر قندوز کے اس علاقے میں فضائی حملہ کیا جہاں پر میڈیسنس سانس فرنٹيئرز کا ہسپتال تھا جبکہ اقوام متحدہ نے ہسپتال پر امریکی بمباری کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
قندوز میں ہسپتال پر کی جانی والی امریکی بمباری کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے مندوب نے المناک، ناقابلِ معافی اور ممکنہ طور پر مجرمانہ فعل قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کے مندوب زید رعد نے واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیسنس سانس فرنٹيئرز کا کہنا ہے کہ افغان اور امریکی حکام کو خبردار کیے جانے کے باوجود بھی قندوز میں ان کے ہسپتال پر بمباری تیس منٹ تک جاری رہی۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں طالبان نے اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے افغان حکومت کی فورسز اور طالبان کے درمیان جنگ جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہ







