کشمیر:’عدالت سب کو بڈماز کھلائے گی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں گائے، بھینس یا بیل کے گوشت کو کشمیری زبان میں بڈماز کہتے ہیں۔ سرینگر کے صوفی شاعر غلام محمد خان کو 30 سال قبل ان کے مرشد نے بڈماز کھانے سے منع کیا تھا۔
جمعرات کو بڈماز کی فروخت پر عدالتی پابندی کا فیصلہ سامنے آیا تو مسٹر خان جیسے کئی صوفیوں کو سخت ناگوار گزرا۔
وہ کہتے ہیں: ’مجھے علم نہیں یہ سب کیوں ہوا۔ گائے اور بھینس تو حلال ہے، لیکن ہمارے یہاں بہت کم لوگ ان کا گوشت کھاتے تھے۔ عدالتی فیصلہ آیا، اب اس پر ردعمل ہوگا اور پھر یہ مذہب میں مداخلت کا مسئلہ بن جائے گا۔‘
واضح رہے پابندی کا یہ فیصلہ یہاں کی عدالت عالیہ نے پری موکش سیٹھ نامی ایک وکیل کی درخواست پر سنایا ہے۔ فیصلے میں سنہ 1928 میں ڈوگرہ شاہی کے دوران بنے رنبیر پینل کوڈ کے سیکشن 298-A کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس محکمہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سختی سے نافذ کریں۔
اس فیصلے کے ردعمل میں علیحدگی پسند جماعت مسلم لیگ نے عیدالاضحیٰ کے روز لال چوک میں گائے کی قربانی پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیگ کے رہنما وحید پارہ نے بتایا: ’ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ کے روز گائے، بھینس اور بیل کی قربانی پیش کرکے دوہرا ثواب کمائیں۔ ایک قربانی کا اور دوسرا مذہب میں ریاستی مداخلت کی مزاحمت کا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
جماعت اسلامی جموں کشمیر کے امیر غلام محمد بٹ نے تو یہاں تک کہا کہ اگر مقامی اسمبلی اور بھارت پارلیمنٹ میں بھی متفقہ قرارداد کے ذریعہ بڈماز کو ممنوع قرار دیا گیا تو بھی کشمیری اس سے گریز نہیں کریں گے۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’یہ تو ہمارے عقیدہ کا معاملہ ہے۔ اس فیصلے کو نافذ کرنے میں زور زبردستی کی گئی تو ہم پرامن مظاہروں کی تحریک چلائیں گے۔‘
واضح رہے کہ سنہ 1928 سے ہی بڈماز پر پابندی نافذ ہے۔ ڈوگرہ شاہی کے دوران مہاراجہ رنبیر سنگھ کے بنائے رنبیر پینل کوڈ کے سیکشن 298 کے مطابق جموں اور کشمیر میں سُور اور گائے یا بھینس کے گوشت کا کاروبار ممنوع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقلیتی فرقوں میں بھی اس حوالے سے الگ الگ تاثرات پائے جاتے ہیں۔ سنہ 1990 میں مسلح مزاحمت شروع ہونے سے قبل اس قانون میں کہیں کہیں عمل ہوتا تھا۔ لیکن بعد یہ قانون ناقابل عمل بن گیا۔ کشمیری بولنے والے ہندووں یا پنڈتوں کے رہنما سنجے تکو کہتے ہیں کہ 26 سال سے اس قانون پر عمل نہ کرنے میں ووٹ بینک کی سیاست کارفرما تھی۔ تاہم وہ کہتے ہیں اس سلسلے میں اقلیتوں کے جذبات کے احترام میں احتیاطی ضوابط طے کیے جاسکتے ہیں۔
سکھ فرقے کے معروف رہنما جگموہن سنگھ رینا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اُسی مذہبی آزادی کو سلب کرتا ہے جس کی ضمانت خود بھارتی آئین میں موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’بھارت کثرت میں وحدت کی مثال ہے۔ یہاں طرح طرح کے مذاہب ہیں اور تمام لوگوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی حاصل ہے۔ یہ فیصلہ تو ایسا ہے جیسے کوئی اکثریتی فرقہ ہمیں یہ بتارہا ہے کہ آپ ہماری مرضی کے مطابق زندگی گزاریں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
قابل ذکر ہے کہ 35 برس قبل بھی جب حکام نے رنبیر پینل کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کی تو اُس وقت کے مذہبی رہنما قاضی نثار نے سرعام جنوبی کشمیر میں گائے ذبح کرکے کشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی تحریک شروع کی تھی۔ اس سلسلےمیں مزاحمتی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے تمام مکاتب فکر سےتعلق رکھنے والی مذہبی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس 12 ستمبر کو سرینگر میں طلب کیا گیا ہے۔
اس اجلاس میں بڈماز پر پابندی کے خلاف مزاحمت کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
غلام قادر خان کہتے ہیں: ’بڈماز کھانا رضاکارانہ عمل ہے۔ یہاں کے بزرگ بڈماز کھانے سے محض اس لیے منع کرتے تھے کہ کیونکہ وہ لوگوں کو شکم پروری سے دُور رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن اب لگتا ہے عدالت سب کو بڈماز کھلائے گی۔‘
قابل ذکر ہے سرینگر کے معروف صوفی بزرگ حضرت شیخ داود نے زندگی کے آخری حصے میں گوشت خوری ترک کردی تھی۔ بٹ مالو علاقے میں ان کے مزار پر ہر سال اپریل میں ان کا عرس منایا جاتا ہے اور اس دوران تین روز تک ان کے پیروکار گوشت خوری سے پرہیز کرتے ہیں۔ بٹہ مالو کے ہی ایک شہری حفیظ اللہ نے بتایا: ’دیکھیے شیخ داود کا پرہیز ایک چیز ہے اور حلال چیزوں پر عدالت کی پابندی مختلف معاملہ ہے۔ یقیناً ہم لوگ صوفیانہ طبعیت رکھتے ہیں، لیکن ان فیصلوں سے لوگ مشتعل ہوجاتے ہیں۔ اب تو سب لوگ اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کے طور بڈماز کھائیں گے۔‘







