میں گائے کا گوشت کھاتا ہوں۔۔۔ کوئی مجھے روک سکتا ہے؟

کیرن ریجیجو نے یہ باتیں بھارت کی شمالی ریاست میزورم کے دارالحکومت ایزول میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکیرن ریجیجو نے یہ باتیں بھارت کی شمالی ریاست میزورم کے دارالحکومت ایزول میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں

بھارت کے نائب وزیر داخلہ کیرن ریجیجو نے کہا ہے کہ وہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور انھیں کوئی بیف کھانے سے نہیں روک سکتا۔

انھوں نے یہ باتیں بی جے پی کے رہنما مختار عباس نقوی کے بیان کے بعد کہی ہیں جس میں مسٹر نقوی نے کہا تھا کہ ’جو بیف کھائے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے انھیں پاکستان یا عرب ملکوں کو چلے جانا چاہیے۔‘

مسٹر نقوی نے جس ٹی وی شو میں یہ بات کہی اسی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدين اویسي بھی بحث میں حصہ لے رہے تھے۔

اویسی نے مختار عباس نقوی سے پوچھا کہ ’کیا وہ ریاست گوا کے وزیر اعلیٰ کو بھی پاکستان جانے کا مشورہ دے رہے ہیں، جنھوں نے گوا کے شہریوں کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہاں بیف پر پابندی نہیں عائد کی جائے گی؟‘

نائب وزیر داخلہ ریجیجو نے کہا کہ ان کے ساتھی (مختار عباس نقوی) کا بیان ’بدمزہ‘ ہے۔

بی جے پی کے رہنما مختار عباس نقوی نے کہا تھا کہ جو بیف کھائے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے انھیں پاکستان یا عرب ملکوں کو چلے جانا چاہیے

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کے رہنما مختار عباس نقوی نے کہا تھا کہ جو بیف کھائے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے انھیں پاکستان یا عرب ملکوں کو چلے جانا چاہیے

انھوں نے کہا کہ ’میں گائے کا گوشت کھاتا ہوں۔ میرا تعلق اروناچل پردیش سے ہے کیا کوئی مجھے روک سکتا ہے؟ اس لیے ہمیں کسی کے طور طریقے کے بارے میں اس قدر تنگ نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک جمہوری ملک ہے۔ بعض اوقات ایسے بیان دے دیے جاتے ہیں جو مزیدار نہیں ہوتے۔‘

انھوں نے یہ باتیں بھارت کی شمالی ریاست میزورم کے دارالحکومت ایزول میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر مہاراشٹر ایک ہندو اکثریتی ریاست ہے، گجرات میں ہندو اکثریت ہے، مدھیہ پردیش میں ہندو اکثریت اور اگر وہ ہندو عقیدے کے مطابق قانون بنانا چاہتے ہیں توانھیں بنانے دیں۔ لیکن ہمارے یہاں، ہماری ریاست میں ہم اکثریت میں ہیں اور ہم جو اقدام چاہیں اس کے لیے ہم آزاد ہیں اور جو ہمارے عقائد کے ساتھ ہم آہنگ ہے ہم اسے اپنائیں گے۔ اس لیے جس طرح ہم رہتے ہیں اس سے انھیں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے اور ہمیں بھی ان کے طرزِ زندگی پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘

اس پروگرام میں اسدالدین اویسی بھی شامل تھے
،تصویر کا کیپشناس پروگرام میں اسدالدین اویسی بھی شامل تھے

خیال رہے کہ بھارت کی کئی ریاستوں میں پہلے سے گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے لیکن مرکز میں موجودہ بی جے پی حکومت کے آنے کے بعد اس میں سختی آئی ہے اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں نے گو ونش (گائے کی نسل کے کسی جانور) کے ذبیحے پر پابندی لگا دی ہے۔

ریاست میں گائے ذبح کیے جانے پر پہلے سے پابندی تھی تاہم اب بیل یا بچھڑے ذبح کرنے پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔

اسی طرح دارالحکومت دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ میں گائے ذبح کرنے پر دس سال تک کی قید سزا مقرر ہے۔