بھارت میں کتوں کے پارلرز کا رجحان

،تصویر کا ذریعہOther
انسانوں کے لیے پارلرز کا تو ہر کسی نے سنا ہوگا لیکن اب یہ سہولیات جانوروں کے لیے بھی دستیاب ہونے لگی ہیں۔
بیرون ملک میں بھلے ہی یہ عام بات ہو لیکن بھارت میں پالتو جانوروں کے پارلرز یا ڈاگ پارلرز کا خیال ’فی الحال‘ نیا ہے۔
بھارت میں کتوں کے لیے مختلف قسم کے بالوں، مینیكيور، پیڈیكيور، سپا ٹریٹمنٹ جیسی سہولیات اب یہاں بھی دستیاب ہیں۔
ملک کی راجدھانی دہلی جیسے شہر میں پالتو کتے کی دیکھ بھال کے لیے ڈھیروں پارلرز موجود ہیں۔
عموما ایسے پارلروں میں لوگ اپنے پالتو جانوروں کے بال کٹوانے آتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ دوسری سہولیات کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہOther
’ریڈ پاز‘ کی مالکن ساکشی سودھي بتاتی ہیں: ’عام طور پر بال کاٹنا اہم کام ہوتا ہے لیکن یہاں کتوں کے لیے آئل مساج، کنڈیشنگ ٹریٹمنٹ اور ہاٹ پیک جیسی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔‘
ایک اور پرلر ’کنائن ایلیٹ‘ کی مالکن سونیا کوچر کا خیال ہے کہ جیسے چھوٹے بچوں کا خیال رکھا جاتا ہے ویسے ہی پالتو جانوروں کی صفائی بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق، ’سب سے زیادہ پیڈیکیور اور مینیکیور مقبول ہیں۔ اب تو بال کو رنگنے کا رواج بھی شروع ہو گیا ہے۔ کتے کو بھی تھکن ہوتی ہے، لہذا مساج کا بھی انتظام ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سونیا کہتی ہیں: ’جیسے بچوں کو انفیكشن ہو جاتا ہے ویسے پالتو کتوں اور بلیوں کو بھی ہوتا ہے۔ لوگ اب سمجھنے لگے ہیں اور اپنے پالتو جانوروں سے اپنے بچوں ہی کی طرح محبت کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہOther
دہلی کی رہنے والی ورشٹي مکھرجی کے پاس تین کتے ہیں لیکن وہ انھیں ہر ماہ ڈاگ پارلر لے جانا نہیں بھولتیں۔
وہ کہتی ہیں: ’میں چاہتی ہوں کہ ہر ماہ ان اچھی طرح سے گرومنگ ہو۔ اس لیے ان کا مینیكيور پیڈیكيور، ان کا فیشیل کرواتی ہوں۔ یہاں ان کی آنکھ، کان اور چہرے کو صاف کیا جاتا ہے۔ ان کے بال کاٹے جاتے ہیں۔ آئل مساج اور ایروما تھریپی سے ان کے جسم کی بدبو ختم ہو جاتی ہے۔ پارلرز میں ان کی بہت اچھی طریقے سے دیکھ بھال کی جاتی ہے۔‘
کتوں کے لیے اب پارلرز کے علاوہ ڈی بورڈنگ کا بھی انتظام ہے۔ جب لوگ اپنے کام سے یا چھٹیوں میں گھر سے باہر جاتے ہیں تو انھیں بورڈنگ میں رکھ کر جاتے ہیں۔
دارالحکومت کے پوش علاقے وسنت کنج میں رہنے والی پوجا کے کتے کا نام گبر ہے۔

،تصویر کا ذریعہOther
وہ کہتی ہیں کہ جب بھی وہ باہر جاتی تھیں تو انھیں اپنے گبر کی فکر لاحق رہتی تھی۔ بورڈنگ میں رکھنے سے اب انھیں فکر نہیں رہتی۔ وقت پر انھیں اپنے پیارے گبر کی خبر ملتی رہتی ہے اور اس کا ویڈیو بھی آتا ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’بورڈنگ میں میرے دوست بھی جاتے ہیں اور مجھے بتاتے ہیں کہ گبر بہت خوش ہے، تو مجھے بھی اچھا لگتا ہے۔‘
ان پارلروں اور ڈی بورڈنگ میں کتوں کے لیے برتھ ڈے پارٹی، تھیم پارٹی، پول پارٹی اور فیشن شوز بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہOther
سونیا کوچر کہتی ہیں: ’آپ کو اپنے کتے کی سالگرہ منانا چاہتے ہیں اسی طرح جیسے اپنے بچے کا برتھ ڈے مناتے ہیں تو آپ کیک آرڈر کرتے ان کے دوستوں کو بلاتے ہیں تو لوگ اپنے کتوں کو لے کر آتے ہیں۔ ساتھ میں پول ہوتا ہے، تو بچے اور کتے جمع ہو کر سوئمنگ کا لطف لیتے ہیں۔ فیشن شوز بھی ہوتا ہے۔ آپ کے سرکل میں کوئی فیشن ڈیزائنر دوست ہو تو وہ آپ کے کتے کے کپڑے تیا کر سکتے ہیں اور پھر ایک ریمپ بنایا جاتا ہے جہاں لوگ اپنے کتے کے ساتھ واک کرتے ہیں۔‘
ڈاگ پارلروں کی یہ دنیا بہت حسین نظر آتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کی خصوصیات کے دام کم نہیں اور چند لوگ ہی ایسے ہیں جو جو انھیں خرید سکتے ہیں۔
جو بھی ہو باڈی سپا اور سوئمنگ کا مزہ اٹھاتے کتوں کو دیکھ کر ان پررشک ضرور ہوتا ہے۔
یہ کہانی بی بی سی ہندی کے لیے پرینکا مکھرجی اور چاوری بنسل نے تیار کی ہے







