برطانوی فوٹو گرافر مارٹن اوزبورن کی کتاب میں شکاری کتوں کی حالتِ زار دیکھائی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنبرطانوی فوٹو گرافر مارٹن اوزبورن کی کتاب میں سپین میں ہزاروں شکاری کتوں کی حالتِ زار بیان کی گئی ہے جنھیں خرگوش کے شکار کا موسم ختم ہونے کے بعد بے گھر کر دیا جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناوزبورن نے خیراتی اداروں کی جانب سے بچائے جانے والے ایسے شکاری کتوں کی تصاویر بنانے پر دو برس کام کیا۔ انھوں نے ان لاوارث شکاری کتوں کی تصاویر اس ماحول میں بنائیں جہاں انھیں چھوڑا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ کتے شکار کا سیزن ختم ہو جانے کے بعد دریاؤں میں ڈوب گئے۔
،تصویر کا کیپشناگرچہ شکاری مختلف نسلوں کے کتوں کی مدد سے شکار کرتے ہیں لیکن شکاری کتوں میں سب زیادہ گرے ہونڈ نسل کے گیکگوس نامی کتے مشہور ہیں جو اپنی چستی اور رفتار کی وجہ سے معروف ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلاوارث گیکگوس عام طور پر کھانے کی تلاش میں دیہی علاقوں کے قریب آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنایسے لاوارث کتوں کو عام طور پر گہری گھاٹیوں، دریا کے کناروں، خالی کار پارکنگ اور سٹرکوں پر چھوڑا جاتا ہے۔ اس تصویر میں ایک زخمی کتا دیکھا جا سکتا ہے جس کی ٹانگ کار حادثے میں ٹوٹ گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنپوڈینکوس نامی ایک اور نسل کے کتوں کو پہاڑی علاقوں میں شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن مارٹن اوزبورن کہتے ہیں کہ انھوں نے تصاویر 17ویں صدی کے معروف مصور ویلاکوئز کے انداز میں بنائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت ان شکاری کتوں کی بہت عزت کی جاتی تھی۔’ایسے کتوں کو مارنا ایک جرم ہوتا تھا اور اس کی سخت سزا ہوتی تھی۔‘
،تصویر کا کیپشن’ان کتوں کی قدر کم ہو گئی ہے اور ان تصاویر کا مقصد ان کی خوبصورتی اور ورثے کو محفوظ کرتے ہوئے جدید وقت کی بدصورتی کو عکس بند کرنا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشن’تصویر اتارتے وقت زیادہ تر کتے پریشان تھے اور ان میں سے زیادہ تر کتوں کی تصاویر ریسکیو سینٹرز میں لی گئیں۔‘
،تصویر کا کیپشنمارٹن اوزبورن کا کہنا ہے ’بری کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شکاری کتوں کو سزا کے طور پر درختوں کے ساتھ اس طرح لٹکایا جاتا ہے کہ ان کے پاؤں زمین کو چھو رہے ہوتے ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنجب یہ کتے بوڑھے اور شکار کرنے میں سست ہو جاتے ہیں تو انھیں لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنآپ برطانوی فوٹو گرافر مارٹن اوزبورن کی مزید تصاویر ان کی ویب سائٹ www.martinusbome.com پر دیکھ سکتے ہیں۔