خون کا عطیہ دینے والے مہربان کُتے

ایسے کتے بھی ہونا چاہئیں جو خون کا عطیہ دینے کے لیے تیار ہوں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایسے کتے بھی ہونا چاہئیں جو خون کا عطیہ دینے کے لیے تیار ہوں

ان دنوں برطانیہ میں خون کے عطیات اکھٹے کرنے کی قومی مہم عروج پر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ خون جمع کرنے کی ایک دوسری مہم بھی جاری ہے۔

انسانوں کی طرح کتّوں کو بھی پیچید علاج معالجے سے گزرنا پڑتا ہے جس کے لیے انھیں بھی خون کی بوتلیں لگانا پڑتی ہیں۔ اگر کتوں کو خون لگانا ہوتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کے لیے ایسے کتّے بھی ضروری ہیں جو خون کا عطیہ دینے کے لیے تیار ہوں۔

اس مقصد کے لیے برطانیہ میں پالتوں جانوروں میں انتقال خون کا پہلا باقاعدہ ادارہ ’پیٹ بلڈ بینک‘ آٹھ برس قبل قائم ہوا تھا جس کے ہاں اب تک ایسے چھ ہزار سے زائد کتوں کے کوائف جمع ہو چکے ہیں جو خون کا عطیہ دے چکے ہیں یا دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہر ہفتے اس بلڈ بینک میں اوسطاً 60 کتوں سے خون لیا جاتا ہے۔

ہر کتے سے خون نہیں لیا جاتا بلکہ ان کے لیے ضروری ہے کہ اس کی صحت اور دیگر کوائف مقررہ معیار سے کم نہ ہوں۔ عطیہ دینے والے کتے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی اپنی صحت اچھی ہو، اس کا درجۂ حرارت، حرکتِ قلب اور سانس معمول کے مطابق ہو اور اس کا وزن کم از کم 25 کلوگرام ہو۔ اس کے علاوہ مالک کے لیے یہ تصدیق کرنا بھی ضروری ہے کہ کتا برطانیہ سے باہر نہ گیا ہو۔

خون لینے سے پہلے انسانوں کی طرح کتوں کے خون کا نمونہ بھی لیا جاتا ہے تاکہ دیکھا جائے کہ آیا مذکورہ کتا خون عطیہ کرنے کے قابل ہے بھی یا نہیں۔اس کے لیے کتے کی ٹانگ سے خون لیا جاتا ہے۔

خون میں ٹھوس اجزاء کی مقدار اور سرخ جرثوموں کا تناسب معلوم کرنے کے لیے اس نمونے کا خوردبینی جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس بات کا تعین ہو جانے کے بعد کہ مذکورہ کتا خون دینے کے قابل ہے، کتے کے مالک اور کتے کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا جاتا ہے جہاں کتے کو آرام سے اس کی مرضی کے پہلو پر ایک میز پر لِٹا دیا جاتا ہے۔ جب کتا اس پہلو پر آرام سے لیٹ جاتا ہے تو اس کی خون کی مرکزی شریان یا جیگولر وین میں سوئی ڈالی جاتی ہے۔ دس منٹ کے دوران زیادہ سے زیادہ 450 ملی لیٹر خون نکالا جاتا ہے اور اس دوران ہسپتال کا عملہ مسلسل کتے کو تسلی دیتا ہے اور اس کی تعریف کرتا رہتا ہے۔

خون نکالنے کے عمل میں کتے کو کوئی درد نہیں ہوتا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنخون نکالنے کے عمل میں کتے کو کوئی درد نہیں ہوتا

بلڈ بینک کی سپروائزر جینی والٹن کہتی ہیں کہ ’خون نکالنے کے عمل میں کتے کو بالکل درد نہیں ہوتا اور اس بات کی تصدیق ان کتوں کے رویے سے ہوتی ہے جو ہمارے ہاں برسوں سے عطیہ دینے آ رہے ہیں۔ وہ ہمارے ہاں آتے ہی دُم ہلانا شروع کر دیتے ہیں جس کا صاف مطلب ہے کہ وہ یہاں آ کر اداس نہیں بلکہ خوش ہیں۔‘

تاہم جینی والٹن کا کہنا تھا کہ خون دیتے وقت اگر کسی بھی لمحے ہمیں یہ لگے کہ کتا پریشان ہو رہا ہے تو ہم فوراً یہ عمل روک دیتے ہیں۔

خون دینے کے بعد ہر کتے کو ایک کھلونا، پینے کو پانی اور کھانے کو بھی کچھ دیا جاتا ہے اور اسے کچھ دیر آرم کرنے دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر کتے کو ایک سرخ رنگ کا خوبصورت ربن بھی دیا جاتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اس کتے نے خون کا عطیہ دیا ہے۔