ایران: ایسا ملک جہاں پالتو جانور رکھنے پر جلد آپ کو جیل بھی ہو سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, علی حمدانی
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
’وہ مجھے اپنی معصوم اور خوبصورت آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھ رہا تھا۔ وہ مجھے باہر چہل قدمی کے لیے چلنے کا کہہ رہا تھا لیکن میں اس کی جرات نہیں کر سکا۔ کیونکہ ایسا کرنے پر ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا۔‘
ماہسا تہران کے رہائشی ہیں جن کے پاس ایک پالتو کتا ہے اور وہ پالتو کتوں کے مالکان کی گرفتاریوں اور جانور ضبط کرنے کے بارے میں نشاندہی کر رہے ہیں۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں پولیس نے اعلان کیا ہے کہ شہر کے پارکس میں کتوں کے ساتھ چہل قدمی کرنا ’جرم‘ ہے۔
حکام کے مطابق اس پابندی کا مقصد ’عوام کے تحفظ کو یقینی‘ بنانا ہے۔ اسی کے ساتھ مہینوں کی بحث کے بعد ایران کی پارلیمان جلد ایک ایسا بل بھی منظور کر سکتی ہے جس کا عنوان ’جانوروں کے خلاف عوام کے حقوق کا تحفظ‘ ہے جس کے بعد ایران میں پالتو جانور رکھنا محدود ہو جائے گا۔
جرمانے
نئے تجویز کردہ قانون کی شرائط کے تحت پالتو جانور رکھنے کے لیے ایک سپیشل کمیٹی سے پرمٹ حاصل کرنا ضروری ہو گا۔ اس قانون کے مطابق مختلف جانوروں کی ’درآمد، خرید و فروخت، منتقلی اور ملکیت‘ پر کم سے کم 800 ڈالر کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ ان جانوروں میں پالتو بلیاں، کچھوے اور خرگوش شامل ہیں۔
ایران کی ویٹرینری ایسوسی ایشن کے صدر اور اس قانون کی مخالف ڈاکٹر پیام محبی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس بل پر بحث ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل شروع ہوئی تھی جب ایران کے اراکینِ پارلیمان نے ایک ایسے قانون کے بارے میں بات کرنا شروع کی تھی جس کے تحت تمام کتوں کو تحویل میں لے چڑیا گھروں میں رکھنے یا صحراؤں میں چھوڑ دینے کی بات کی تھی۔‘
ڈاکٹر محبی کا مزید کہنا تھا کہ ’گذشتہ چند سالوں سے انھوں نے اسے متعدد مرتبہ تبدیل کیا ہے اور پالتو کتے رکھنے والے مالکان کے خلاف سزائیں بھی تجویز کی ہیں، لیکن ان کے منصوبے کا کچھ نہیں بنا۔‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Dr Payam Mohebi
ایران کی شہری زندگی کی علامت
ایران کے دیہی علاقوں میں پالتو کتے رکھنا خاصا عام سمجھا جاتا ہے، لیکن 20ویں صدی میں یہ شہری زندگی کا بھی خاصا بن گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1948 میں ایران وہ پہلا ملک بن گیا تھا جس نے مشرقِ وسطیٰ میں جانوروں کی فلاح کے لیے قوانین منظور کیے تھے اور حکومت نے ملک میں جانوروں کے حقوق کے پہلے ادارے کی بنیاد بھی رکھی۔ ملک کے شاہی خاندان کے پاس پالتو کتے ہوا کرتے تھے۔
تاہم 1979 کے اسلامی انقلاب نے ایرانی شہریوں اور کتوں کی زندگیوں کو تبدیل کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہIranian Royal Family Collection
اسلامی اقدار میں چند جانوروں کو ناپاک سمجھا جاتا ہے۔ نئی سلطنت کی نظر میں کتے بھی ’مغربی اقدار‘ کی علامت سمجھے گئے اس لیے حکام نے انھیں کم کرنے کے بارے میں کوششیں شروع کر دیں۔
تہران میں جانوروں کے ڈاکٹر آشکان شیمیرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جانوروں کو پالنے کے حوالے سے تاحال کوئی ٹھوس قانون نہیں بنایا گیا۔ پولیس لوگوں کو کتوں کے ساتھ ٹہلنے یا انھیں اپنی گاڑیوں میں ساتھ لے جانے پر بھی گرفتار کر لیتی ہے، کیونکہ ان کے مطابق یہ مغربی اقدار کی علامت ہیں۔‘
کتوں کی جیل
ڈاکٹر آشکان شیمیرانی کا مزید کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے جانوروں کے لیے جیلیں بھی بنائیں اور ہم نے ان (جیلوں) کے بارے میں متعدد خوفناک کہانیاں بھی سنیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ان جانوروں کو متعدد دنوں تک کھلے علاقوں میں رکھا گیا اور انھیں پانی اور کھانے کے لیے مناسب چیزیں فراہم نہیں کی گئیں، اس دوران ان کے مالکان کو متعدد قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔‘
ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے باعث معاشی بحران نے بھی اس نئے قانون کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حکام کی جانب سے جانوروں کے مخصوص کھانے (پیٹ فوڈ) پر بھی تین سال کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی تاکہ ملک کے ذرِ مبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھے جا سکیں۔
پیٹ فوڈ عام طور پر غیر ملکی برانڈز کی جانب سے بنایا جاتا ہے اس لیے اس فیصلے کے باعث ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا اور ایک بلیک مارکیٹ بھی بن گئی۔
ایران کے شہر مشہد میں جانوروں کے کلینک کے مالک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارا ایسے افراد پر انحصار بڑھ گیا جو جانوروں کا کھانا سمگل کرتے تھے۔
’پیٹ فوڈ کی قیمتوں میں گذشتہ چند ماہ کے دوران پانچ گنا اضافہ ہوا۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ مقامی طور پر پیٹ فوڈ کی پیداوار اس معیار کی نہیں ہے۔ ’ان کی کوالٹی بہت خراب ہے۔ فیکٹریاں سستی مچھلیاں اور گوشت استعمال کرتی ہیں، اور کئی مرتبہ خراب اشیا بھی۔‘
یہ بھی پڑھیے
بلیوں کے لیے مسائل
تاہم یہ قانون صرف کتوں کے لیے ہی نہیں ہے۔ بلیوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا اور یہاں تک کہ مگرمچھ بھی اس میں شامل ہیں۔
ایران کو پرشئین بلیوں کی جائے پیدائش کے طور پر جانا جاتا ہے جو دنیا بھر بلیوں کی مقبول ترین نسل ہے۔

تہران میں موجود ایک جانوروں کے ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اب پرشیئن بلیاں اپنے گھر میں ہی محفوظ نہیں ہیں۔ اس قانون کے پیچھے کوئی منطق نہیں ہے۔ سخت گیر نظریات رکھنے والے لوگوں پر جبر کرنا چاہتے ہیں۔‘
ڈاکٹر محبی اس مجوزہ قانون کو ’باعثِ شرمندگی‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر پارلیمان میں قانون منظور ہوتا ہے تو اگلی نسل ہمیں ایسے لوگوں کے طور پر جانے گی جنھوں نے کتوں پر اس لیے پابندی لگائی کیونکہ وہ کتے ہیں اور بلیاں اس لیے کیونکہ وہ بلیاں ہیں۔‘
پالتو جانوروں کے مالک جیسے ماہسے اپنے پالتو جانوروں کے مستقبل کے بارے میں خاصے فکر مند ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے ’بیٹے‘ کے لیے اجازت مانگنے کی کوشش نہیں کروں گی۔ اگر وہ میری درخواست رد کر دیں؟ میں اسے گلی پر نہیں چھوڑ سکتی۔‘










