دنیا کے سب سے مہنگے جانور کون سے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, رچرڈ فشر
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
جانوروں کی نیلامی میں ایک دن ’بگ ڈیو‘ نامی ایک نر بطخ کو پیش کیا گیا۔ مخصوص نسل کا یہ نر بطخ ماضی میں متعدد بریڈر شوز میں شامل ہوتا رہا ہے۔
بطخ کے مالک گراہم ہک نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس نر بطخ کا مزاج بہت اچھا ہے۔ وہ صاف ستھرا رہنا پسند کرتا ہے، اپنا خیال رکھتا ہے اور جب آپ اسے جانوروں کے کسی بھی شو میں لے جائیں تو یہ مرکز نگاہ بننا پسند کرتا ہے۔ جانوروں کی افزائش اور کاروبار کرنے والے ایک اور شخص جینس ہوگٹن نے بھی کہا کہ بگ ڈیو نامی بطخ کو سراہا جانا پسند ہے۔
گراہم ہک اب جانوروں کی افزائش نسل کے کام سے ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں۔ اس لیے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی دیگر بطخوں، ہنسوں اور پرندوں کے ہمراہ بگ ڈیو کو فروخت کر رہے ہیں۔ اس نیلامی کے موقع پر یہ افواہیں بھی تھیں کہ اس نر بطخ کی اچھی نسل کے باعث بہت سے افراد اس بطخ کو خریدنے کے خواہش مند ہیں۔
جیسے ہی بگ ڈیو نامی بطخ کی نیلامی شروع ہوئی تو اس کے مالک گراہم ہک کو ایک حیرن کن بات کا علم ہوا کہ ہوگٹن ویلیس نے نیلامی میں شامل دیگر خریداروں کا ایک گروہ بنایا جس نے مل کر بگ ڈیو کی بولی لگائی۔ اس بولی کی ابتدا نو سو ڈالر سے شروع ہوئی اور پھر وہ بڑھتی چلی گئی۔
وہ نیلامی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ڈیو کی حتمی بولی لگی تو کمرے میں بالکل سکوت چھا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے بگ ڈیو نامی نر بطخ کو 1500 ڈالر کی بولی میں خرید لیا تھا جو کسی بھی بطخ کی ریکارڈ مہنگی بولی ہے۔
بولی ختم ہونے کے بعد بگ ڈیو کو دوبارہ اس کے مالک گراہم ہک کو دے دیا گیا۔ منصوبہ بھی یہی تھا کہ اس جوڑے کو ریٹائرمنٹ کے گفٹ کے طور پر پھر اکھٹا کر دیا جائے۔
ہوگٹن کو یاد ہے اور وہ بتاتے ہیں کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھا۔ اس دن ڈیو دنیا کا مہنگا ترین بطخ بن گیا اور اس نے دنیا میں موجود مہنگے ترین جانوروں میں جگہ بنا لی۔
اگرچہ وہ بطخوں میں تو ایک ہیرے جیسی قیمت اور جگہ رکھتا ہے لیکن دنیا میں دیگر جانوروں کی بہت سی ایسی انواع ہیں جو بہت مہنگی ہیں۔ تو پھر دنیا میں سب سے مہنگا جانور کون سا ہے؟ آپ اس کو کیسے بیان کریں گے؟ بہر حال اس کا جواب کافی پیچیدہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے پہلے کہ ہم اس کا جواب تلاش کریں یہ ماننا ضروری ہے کہ جانوروں کو قیمت کے لحاظ سے درجہ بندی میں لانا شاید کچھ لوگوں کے لیے احمقانہ اور ناپسندیدہ عمل ہو۔ کیا جانوروں کو مالی لحاظ سے اہمیت دینی چاہیے؟ کیا یہ کرنا ٹھیک ہے کہ ایک جاندار کی قیمت مقرر کی جائے۔ بعدازاں ہمیں یہ علم ہو گا کہ کچھ لوگ جنگلی جانوروں کی قیمتیں مقرر کرنے کے مخالف ہیں۔
اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جانور ہمیشہ انسانی معیشت کا حصہ رہے ہیں۔ اور کچھ لوگ چند جانوروں کو دیگر جانوروں کی نسبت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس سے ہمیں دنیا کی اس بارے میں حیران کن سچائی کا پتہ چلتا ہے۔ خاص طور پر لوگوں کی جانب سے لگائی جانے والی ان بولیوں کا جنھیں ادا کر کے وہ جانوروں کو خریدنا چاہتے ہیں۔
آپ جانوروں کے فارم میں موجود کسی عام جانور کو لیں جیسا کہ بھیڑ۔ چند اعداد و شمار کے مطابق شاید دنیا میں ایک ارب بھیڑیں ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کی قیمت کچھ خاص نہیں ہے۔ لیکن برطانیہ میں ایک بہت ہی خاص بھیڑ ہے جس کا نام ’ڈبل ڈائمنڈ‘ ہے اور اس کی غیر معمولی مالیت ہے۔ اس کی اون کوئی سونے کے نہیں بلکہ اس کی اصل خاصیت اس کی جنیات ہے۔ وہ نیدر لینڈ کی ٹیکسل نسل کی بھیڑ ہے۔ یہ ایک خاص نسل ہے جو نیدرلینڈ کے ایک مخصوص جزیرے پر پائی جاتی ہے۔
سنہ 2020 کے اواخر میں کسانوں کے ایک گروپ نے اس بھیڑ کو ساڑھے تین لاکھ گینز میں خریدا تھا۔ گینز روایتی طور پر استعمال ہونے والی وہ کرنسی ہے جو لائیو سٹاک کی خریدو فروخت کے لیے برطانیہ میں استعمال ہوتی ہے جب اسے برطانوی پاؤنڈ میں تبدیل کیا گیا تو یہ رقم تین لاکھ 67 ہزار پانچ سو پاؤنڈ بنی تھی۔
کسانوں کے اس گروپ میں سے ایک کسان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’یقیناً یہ ایک بھیڑ کے لیے دی جانے والی غیر منطقی قیمت ہے لیکن مجھے غلط مت سمجھیے گا ہمیں یہ قیمت اس کی جینیات حاصل کرنے کے لیے دینی پڑی۔‘

،تصویر کا ذریعہCATHERINE MACGREGOR
دنیا میں جانوروں کے فارم میں ملنے والا سب سے مہنگا جانور کون سا ہے؟ ویلز میں سنہ 2021 میں یہ ریکارڈ ڈاگ کم نے توڑا تھا جسے 28455 پاؤنڈ میں خریدا گیا تھا۔
مگر اس دوڑ میں کچھ بیل اور گائیں بھی شامل ہیں جن کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں سے ایک مشہور مسی نامی گائے ہیں جس بہت مہنگے دام میں خریدا گیا تھا۔ یہ ہولسٹین نسل کی ایک مادہ گائے ہے جسے سنہ 2009 میں 1.2 ملین ڈالرز میں خریدا گیا تھا۔
لیکن اس کے نر کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے۔ سنہ 2019 میں انگس نسل کا بیل جس کا نام ایس اے وی امریکہ 8018 تھا کو ٹرمپ انتظامیہ کے ایک مشیر نے 1.51 ملین ڈالرز میں بیچا گیا تھا۔ اس کی اتنی بھاری قیمت کی ایک وجہ تھی اور وہ اس بیل کا مادہ منویہ تھا، جس کو آگے بھی بیچا جا سکتا ہے۔
زراعت پر رپورٹنگ کرنے والے ایک صحافی جو ایس اے وی امریکن 8018 نامی بیل کو دیکھ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ میں جیسے ہی گیٹ گھول کر اندر گیا وہ میری جانب بڑھا اور اس نے میرے ہاتھ کو سونگھا ایسے جیسے پالتو کتا کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کی توانائی، چوڑائی اور جسم زبردست تھا۔ وہ اپنے بڑے بڑے قدموں پر کھڑا تھا اس کی ہڈیاں بہت بڑی تھیں یہ ایک ایسا بیل ہے جو کہ تاریخ کے عظیم بیلوں میں یاد کیا جائے گا۔
پالتو جانوروں کی مہنگی مہنگی قیمتیں
لیکن یہ صرف جانوروں کی فارمنگ کا شعبہ ہی نہیں جہاں لوگ ان جانوروں کی اتنی قیمت ادا کرتے ہیں بلکہ کچھ لوگ اپنے پالتو جانوروں کے لیے بھی بہت مہنگے سودے کرتے ہیں اور منھ مانگے دام ادا کرتے ہیں۔۔
برطانیہ میں ایک عام پالتو جانور کی قیمت گزرے برسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ وبا کے دوران ایک پالتو کتے کی قیمت میں اضافہ ہوا اور کتے کی چند نسلوں کا ایک پلا اب تین ہزار پاؤنڈ تک میں فروخت ہو رہا ہے۔ اگر آپ اس میں جانوروں کے ڈاکٹر اور ان کی دیکھ بھال کا خرچہ شامل کریں تو علم ہو گا کہ پالتو کتے رکھنے والے دسیوں ہزار ادا کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
لیکن کسی کتے کے لیے مہنگی سے مہنگی ریکارڈ قیمت ادا کی جانے والی دس ملین چینی یوان ہے۔ جو ایک تبیتین ماسٹف نسل کے کتے کے لیے ادا کی گئی۔ اس کتے کا نام بگ سپلیش ہے۔ اس کتے کی برطانوی پاؤنڈز میں قیمت 1.1 ملین پاؤنڈ بنتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ماسٹف نسل کا کتا رکھنا چین میں امارت کی نشانی بن گیا ہے۔
لیکن اس کتے کی بھاری قیمت ادا کرنے والا ایک کاروباری شخص ہے جو کوئلہ کے کام سے منسلک ہے۔ یہ اس کی سرمایہ کاری بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اس نر کتے کو دیگر افراد نسل بڑھانے کے لیے کرائے پر لے سکتے ہیں۔
لیکن بلیوں کے بارے میں کیا ہے؟ اس میں سب سے مہنگی گھریلو بلیوں میں سوانا بلی ہے جس کی قیمت تقریباً 20 ہزار ڈالر ہے۔
جہاں تک بی بی سی فیوچر کی معلومات ہیں گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بلی کی زیادہ قیمت دینے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ گھروں میں پالی جانے والی کسی بلی کی قیمت دس لاکھ کے قریب نہیں یعنی بِگ سپلیش جتنی قیمت نہیں پا سکیں لیکن کچھ ایسی بلیاں ہیں جو اس کی حریف ہو سکتی ہیں۔
گینیز کے ریکارڈ کے مطابق دنیا کی سب سے مہنگی بلی بلیکی تھی جسے سنہ 1988 میں سات ملین ڈالرز یعنی ستر لاکھ ڈالرز کی وصیت اس کے مالک کی موت کے بعد ملی تھی۔ وہ نوادرات کا کاروبار کرتے تھے اور انھوں نے اپنے خاندان کو اس سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی طرح سنہ 1931 میں ایک ٹوبی نامی کتا تھا جسے ان کے مالک ایلا وینڈل سے وراثت میں 15 ملین ڈالرز سے زیادہ ملے تھے۔ یہ نیویارک میں پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے ایک امیر خاندان کے آخری وارث تھے۔
لیکن اگر آپ قیمت کو کمائی کے لحاظ سے دیکھیں تو انٹرنیٹ سٹار گرمپی کیٹ جن کا اصل نام ٹارڈر ساس ہے شاید مہنگے ترین پالتو جانوروں کی کیٹیگری میں شامل ہیں۔
کچھ اندازوں کے مطابق ان کی قیمت ان کی موت سے پہلے تک ایک سو ملین ڈالر کے برابر تھی یا پھر گلوکارہ ٹیلر سوفٹ کی بلیوں کی ملتی جلتی قیمت ہے۔
دوڑ کی قیمت
بہرحال گینیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق اب تک سب سے زیادہ پیسے ان جانوروں پر لگائے گئے ہیں جو کہ دوڑ میں حصہ لیتے ہیں۔ وزن کے اعتبار سے اس میں سب سے زیادہ مہنگے پرندے ہوں گے۔ سب سے مہنگا کبوتر نیو کِم ہے۔ جسے ایک نامعلوم بولی لگانے والے نے چین میں گذشتہ برس کے آخر میں اٹھارہ لاکھ ڈالرز میں خریدا تھا۔
لیکن یہ حیرت کی بات نہیں کیونکہ سب سے زیادہ قیمت شاید ریس میں دوڑنے والے گھوڑے کی ہے۔ گینیز نے سیٹل ڈانسر نامی گھوڑے کے بارے میں کہا ہے کہ وہ 1985 میں ایک سے دو سال کی عمر میں 13.1 ملین ڈالرز میں خریدا گیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کا کرئیر اچھا نہیں رہا، اسے وائرس ہو گیا اور وہ فقط پانچ مقابلوں میں ہی حصہ لے پایا تھا۔
تب سے گھوڑے مہنگے بکتے ہیں۔ مثال کے طور پر فیوسیچی پیگاسس کو سنہ 2000 میں 64 ملین ڈالرز میں خریدا گیا تھا تب وہ ایک بچہ تھا۔ اس نے نو میں سے چھ مقابلے جیت کر اپنے مالک کے لیے لاکھوں کمائے تھے۔ لیکن وہ اپنے نسل کو آگے بڑھانے میں اپنے مالک کی امیدوں پر پورا نہیں اترا تھا اور سنہ 2020 کے آخر میں وہ ریس سے ریٹائر ہو گیا تھا۔
تو جنگلی جانوروں کے بارے میں کیا ہے؟ کیا یہ جاننا ممکن ہے کہ ان کی مالیت کتنی ہے؟ ایک طریقہ ہے مگر بنیادی طور پر اس کی قدر جاننے کے لیے یہ مارکیٹ میں قیمت سے مختلف طریقہ ہے اور ان دونوں کا موازنہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
گذشتہ ایک یا دو دہائیوں میں سائنسدانوں نے یہ کوشش کی کہ وہ ایکو سسٹم کو معاشی قدر میں بیان کریں۔ اس میں ان سروسز کا حساب لگایا جائے جو انسانوں کو فراہم کی جاتی ہیں۔ خوراک یا وہ وسائل جو وہ فراہم کرتے ہیں ان سے لے کر بلاواسطہ فوائد تک مثال کے طور پر کاربن کو جذب کرنے، پولینیشن یا سیاحت تک۔
دنیا کے حیاتیاتی ایکو سسٹم میں موجود تمام تر سروسز کی کل مالیت ایک اندازے کے مطابق 145 گھرب ڈالرز سالانہ ہے۔ اگر اسے مقامی سطح پر دیکھیں تو یہ حساب کتاب اس پوری دنیا کے ایکو سسٹم کا لگایا گیا ہے جس میں ساحلی علاقے، جنگلات سمیت بہت کچھ شامل ہے۔ لہذا اگر زیر سمندر مرجان کی چٹانوں کی قیمت لگائی جائے تو یہ فی ہیکٹر سالانہ دو لاکھ ڈالر مالیت بنتی ہے۔
اسی طرح اس ایکو سسٹم میں سروسز کی مد میں کیڑوں کی مدد سے فصلوں کی پولینیشن کی مالیت کا تخمینہ لگایا جائے تو وہ تقریباً 120 سے 500 ارب ڈالرز سالانہ بنتا ہے۔‘
محققین اینلیس بوئیریما اور ایلانا ریبیلو اور ان کے ساتھیوں کے مطابق یہ ایک تکنیک کے طور پر بالکل درست نہیں ہے، درحقیقت، یہ تکنیک کا ایک پورا سلسلہ ہے جس کا اطلاق مختلف اور متضاد طور پر ہوتا ہے۔ انھوں نے 2016 میں اس موضوع پر 400 سے زیادہ مقالوں کا جائزہ لیا تھا۔
یہاں پر کچھ ایسے افراد بھی ہے جو قدرت کی مخصوص خدمات کے لحاظ سے مالیت لگانے پر اعتراض کرتے ہیں۔ اور اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ ہم قدرت کی وسعت کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ جیسا کے نفسیاتی صحت جو یہ ہمیں مہیا کرتی ہے اس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے ایکو سسٹم اور جانداروں کو انمول کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
لیکن اس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ یہ لوگوں کو قدرتی ماحولیاتی نظام کو بالکل نئے طریقوں سے دیکھنے کی ترغیب دے سکتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو جنھوں نے کبھی صرف معاشی طور سوچا ہے۔
روبیلو کا کہنا ہے کہ اس تصور کا اصل مقصد لوگوں کو مجموعی طور پر سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس لحاظ سے، یہ تصور ہمیشہ کارآمد رہے گا، چاہے اس میں کتنی ہی خامیاں کیوں نہ ہوں۔ اس کا مقصد نہ صرف موجودہ نسلوں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر رکھوالی ہے۔‘
تو یہ نظریہ ہمیں کسی خاص جانور کی مالیت یا اہمیت کے متعلق کیا بتا سکتا ہے؟ البتہ اس طرح کے زیادہ تر حساب کتاب دنیا کے ماحولیاتی نظام یا ان کی خدمات کا ایک سرسری جائزہ ہیں۔
سنہ 2015 میں بی بی سی ارتھ نے ایک انٹریکشن گیم کے لیے اس مالیت کی ایک مکمل سریز بنائی تھی۔ (یہ ویب سائٹ اب آن لائن موجود نہیں ہے۔) لہذا مثال کے طور پر سیاحت میں شارک کی کل مالیت تقریباً 944 ملین ڈالرز ہے۔ گائے کے گوبر کے کیڑے کی کل مالیت 380 ملین ڈالرز ہے اور صرف کینیڈا میں برفانی ریچھ کی مالیت 6.3 ارب روپے لگائی جا سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کسی بھی جاندار کی مالیت کا حساب اس کی دنیا میں کل آبادی کے حساب سے بھی کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ اگر کینیڈا میں تقریباً 16000 برفانی ریچھ ہے تو اسے تقسیم کریں تو ایک ریچھ کی قیمت تقریباً چار لاکھ ڈالر بنتی ہے۔
لیکن حال ہی میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) میں رالف چامی اور ان کے ساتھیوں نے اس قسم کے ’واحد جانور‘ کے نقطہ نظر کو زیادہ سختی سے لاگو کیا۔ ان کا مقصد انفرادی افریقی جنگلاتی ہاتھیوں اور جنوبی امریکہ کے ساحل پر عظیم وہیل کی قدر کا حساب لگانا ہے۔
اس طرح کے بڑے جانور مختلف قسم کی خدمات فراہم کرتے ہیں جن میں ماحولیاتی سیاحت سے لے کر وزن اٹھانے تک کی خدمت شامل ہے۔ واضح طور پر، ہاتھی اور وہیل دونوں اپنے جسم کے اندر اور کھانے کی عادات کے ذریعے کاربن کو الگ کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔
خاص طور پر جانوروں کی کاربن کم کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے، اب اور مستقبل میں، چامی اور ساتھیوں نے فی ہاتھی کی قیمت 1.8 ملین ڈالرز لگائی ہے۔ اسی طرح وہیل کی قیمت بھی اتنی ہی زیادہ ہے اور ایک منکی وہیل کی قیمت165000 ڈالر سے لے کر ایک بلیو وہیل کی قیمت چار ملین ڈالر تک ہے۔
چامی اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انفرادی طور پر جانوروں کی قیمت مقرر کرنے کا مقصد لوگوں کو نفسیاتی طور پر ان کا تحفظ کرنے کی جانب راغب کرنا ہے۔ آخرکار ڈبلیو ڈبلیو ایف جیسے خیراتی ادارے ان بڑے جانوروں کی تصاویر اور کہانییاں سنا کر عطیات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وہ اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ اگر کسی ہاتھی کے ماحول سے کاربن ختم کرنے کی صلاحیت اور اس کح تحفظ کی مہم میں اس کی قیمت کا بتائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ لوگ اس کے ماحول اور افزائش کے لیے اقدامات کریں گے۔
ایک ہاتھی یا وہیل کی ڈالروں میں قیمت اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ان کا شکار کرنے والوں کو اس حساب سے جرمانے اور سزائیں دی جا سکیں۔ ہاتھوں کی قیمت بلاشبہ بلیک مارکیٹ میں موجود قیمت سے بہت زیادہ ہے۔ بلیک مارکیٹ میں ہاتھی کے ایک دانت کی قیمت 20 ہزار ڈالر کے قریب ہے۔ چامی اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے اسی طرح برازیل کے ساحل پر جو جہاز بلیو وہیل سہ ٹکراتا ہے اور اسے زخمی یا ہلاک کرتا ہے اس پر وہیل کی قیمت کا جرمانہ عائد کرنا چاہیے۔
یہ واضح رہے کہ ہمیں یہ نہیں پتہ کہ ہاتھی اور وہیلز قدرت کے سب سے نایاب جانور ہیں۔ جب تک ہم قدرتی دنیا کا مکمل طور پر محاسبہ نہیں کرتے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہم اس کی تکنیک نہیں جانتے اور اگر جانتے تو بھی اس کے اعدادو شمار کا موازنہ کرنا مشکل ہوتا۔
خاص طور پر ان جانوروں کے لیے جو اب اور مستقبل میں کاربن پر قابو پانے میں معاون ہوں۔ چمی اور ان کے ساتھیوں نے ایک ہاتھی کی قیمت 18 لاکھ ڈالر لگائی ہے۔ وہیل کی قیمت اس سے زیادہ ہے اور اس کی قیمت مختلف ہے ایک لاکھ 65 ہزار کی منک وہیل سے لے کر 40 لاکھ کی بلیو ویل تک۔ لیکن زیادہ تر ویلز کی قیمت بیس لاکھ ڈالر تک سامنے آتی ہے۔
چمی اور ان کے ساتھی یہ کہتے ہیں کہ کسی جانور کی لوگوں کے اذہان ہر اثر کرنے کی کتنی طاقت ہے کہ وہ ان کی بقا کے لیے انھیں اپنی جانب راغب کریں۔ اس سے کسی ایک جانور کی قیمت کا پتہ چلتا ہے۔
جانوروں کی بقا اور تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے کہانیاں اور تصاویر شئیر کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو امداد دینے پر مائل کیا جائے۔ مثال کے طور پر اگر ایک ہاتھی کی مالی قیمت کو اس کی بقا کی مہم میں استعمال کیا جائے تو اس سے لوگوں کو آگاہ کیا جا سکتا ہے کہ کاربن کو کنٹرول کرنے میں ہاتھی کا کیا کردار ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس طرح لوگوں کو اس پر ابھارا جا سکتا ہے کہ وہ کیسے اپنے وسائل کو اس جاندار کی بقا اور اس کے مسکن کی حفاظت پر لگا سکتے ہیں۔ ڈالر میں کسی ہاتھی کی قیمت یا وھیل کی قیمت کو ان کو پہنچانے والے نقصان کے جرمانے مقرر کرنے لیے بھی۔ یہ جرمانے شکاریوں پر عائد کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر شکاریوں پر جہازوں یا غیر قانونی طور پر وہیل مچھلیوں کا غیر قانونی شکار کرتے ہیں۔
چمی اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ ہاتھی کی قیمت واضح طور پر اس سے بہت زیادہ ہوتی ہے جس میں اس کے دانت بلیک مارکیٹ میں بکتے ہیں۔ ایک دانت کی قیمت بیس ہزار ڈالر ہوتی ہے۔ اور وہ کشتی جو برازیل میں بلیو وہیل کو حملہ کرنے اور مار کر ساحل تک لانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے کو وہیل کی قیمت جتنا جرمانہ کیا جانا چاہیے۔
تو پھر وہ ہمیں مہنگے ترین جانور کی تلاش کہاں لے جاتا ہے. یہ واضح ہے کہ اس کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔ اگر آپ اس پر کام کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے سادہ طور پر مارکیٹ میں دی جانے والی قیمت کو دیکھیں تو یہ واضح ہو گا کہ گھڑ سواری کے مقابلوں کے گھوڑے اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں مگر ہم نے یہ دیکھا ہے کہ معاشی طور پر اس سے بھی مہنگی قیمت کے جانور ہیں جو مارکیٹ میں بکنے کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پھر بھی ایک جانور ایسا ہے جس کا ابھی ہم نے ذکر نہیں کیا۔ شاید اس کا کیس بھی مہنگے ترین جانوروں کی فہرست میں بہت مضبوط ہے۔ بڑا پانڈا۔ یہ یقینی طور پر چڑیا گھر میں موجود جانوروں میں مہنگا ترین ہے۔ گینیز کے مطابق شاید اس کی اصل قیمت اور بھی زیادہ ہو۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی تمام آبادی چین کی ملکیت میں ہے۔ اور بہت سے چڑیا گھروں میں خاص طور پر امریکہ کو اس کی اپنے ہاں میزبانی کرنے کے لیے لیز کی فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔ اور ہر سال اس کی فیس دس لاکھ امریکی ڈالر تک ہوتی ہے۔
بہت سے پانڈا اپنی عمر کے بیسویں سال میں ہیں۔ اب اگر ان کے بچے پیدا ہوتے ہیں تو پھر چھ لاکھ ڈالر ضرور ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے وجہ اس کی ثقافتی اہمیت، اور بقا کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری اور پانڈا ڈپلومیسی ہے جو اس کی لیز کو تجارتی مذاکرات تک سینکڑوں لاکھ ڈالر تک بڑھا دیتی ہے۔ تب ان کی اصل قیمت کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔
بس پھر سب سے زیادہ مہنگے جانوروں میں کچھ بے شک بہت ہی اہم ہیں جیسے کہ پانڈے، ہاتھی، ویلز، کتے اور گھوڑے جو مجموعی طور پر کھربوں کی مالیت کے ہیں۔ اور پھر بگ ڈیو نامی بطخ ہے۔ یقینی طور پر یہ مہنگا ترین نہیں ہے لیکن پھر بھی کلب میں جگہ کا حقدار ہے۔ کم از کم اپنے مالک گراہم ہک کے لیے۔ اگرچہ اس کی قیمت کا ٹیگ شاید اتنی اہمیت نہیں رکھتا لیکن اسے پالنے والے نے بخوشی اسے رکھا کہ وہ اور ڈیو ریٹائرمنٹ کی زندگی اکھٹے گزاریں گے۔
وہ ایک اچھا دوست رہا ہے۔












