کتا شاید انسان کا سب سے پرانا ساتھی ہے: تحقیق

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جانوروں میں انسان کا سب سے زیادہ وفادار جانور کتا سمجھا جاتا ہے۔ مگر اب کتوں کے ڈی این اے پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جانوروں کی دنیا میں ہمارا سب سے زیادہ وفادار اور ’بہترین دوست‘ ہمارا پرانا ساتھی بھی ہو سکتا ہے۔
کتوں کے ڈی این اے پر کی جانے والی تحقیق سے یہ علم ہوتا ہے کہ انھیں 11 ہزار سال قبل آخری برفانی دور کے اختتام پر انسان نے پالتو بنایا تھا۔
یہ تحققی جرنل آف سائنس میں شائع ہوئی ہے۔
اس تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ کسی بھی دوسری نسل کے جانوروں سے پہلے انسان نے کتوں کو پالتو بنایا تھا۔ نوکیلے دانتوں والا ہمارا یہ ساتھی اس وقت شمالی نصف کرہ میں وسیع پیمانے پر پایا جاتا تھا اور اس وقت تک وہ پانچ قسم کی نسلوں میں منقسم ہو چکا تھا۔
نوآبادیاتی عہد کے دوران یورپی کتوں کے پھیلاؤ کے باوجود قدیم دیسی نسلوں کے آثار آج بھی امریکہ، ایشیا، افریقہ اور اوشیانا میں پائے جاتے ہیں۔
یہ نئی تحقیق ہمارے ساتھ تعلق میں رہنے والے جانوروں کے ساتھ ہماری قدرتی تاریخ کے خلا کو پر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSpl
اس تحقیق کے شریک مصنف اور لندن کے کریک انسٹی ٹیوٹ میں قدیم جینومکس لیبارٹری کے گروپ لیڈر ڈاکٹر پونٹس سکاگلنڈ نے بی بی سی کو بتایا: ’اگر آپ اس بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کتوں کو انوکھا پاتے ہیں کیونکہ اس وقت تک انسان شکاری تھے اور انھوں نے اس جانور کو پالتو بنایا لیا جو کہ خود گوشت خور ہے اور اسی نسل کے بھیڑیے ابھی بھی دنیا کے بہت سے حصوں میں بہت خوف کی علامت ہیں۔
’سوال یہ ہے کہ لوگوں نے ایسا کیوں کیا؟ یہ کیسے ہوا؟ ہمیں اسی چیز کے جاننے میں دلچسپی ہے۔‘
کسی حد تک کتے کے جینیاتی پیٹرن انسانوں سے مشابہ ہیں کیونکہ جب لوگ منتقل ہوتے ہیں تو وہ اپنے جانوروں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی اہم اختلافات تھے۔
مثال کے طور پر ابتدائی دور کے یورپی کتے متنوع نسل کے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ دو مختلف آبادی سے پیدا ہوئے تھے۔ ایک کا تعلق مشرق قریب کے کتوں سے تھا جبکہ دوسرے کا تعلق سائبیرین کتوں سے تھا۔
لیکن کسی وقت شاید کانسی کے عہد کی ابتدا میں ایک ہی کتے کی نسل وسیع پیمانے پر پھیل گئی اور اس نے براعظم میں کتے کی تمام دوسری آبادیوں کی جگہ لے لی۔ یورپ سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے جینیاتی پیٹرنز میں اس طرح کی چیز نہیں ملتی کہ ایک ہی نسل پورے براعظم پر پھیل اور چھا گئی ہو۔
کرک میں اس موضوع پر تحقیق کرنے والے پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق اینڈرس برگسٹروم نے کہا: ’اگر ہم چار یا پانچ ہزار سال پہلے کے حالات پر نظر ڈالیں ہیں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اس وقت یورپ کتوں کے اعتبار سے بڑا متنوع تھا۔ آج اگرچہ ہم بہت سی شکلوں اور اقسام کے کتے دیکھتے ہیں لیکن جب ہم جینیاتی طور پر دیکھتے ہیں تو ان میں بہت کم تنوع ہے اور وہ جینیاتی تغیر و تبدل کے بہت ہی چھوٹے ذیلی حصے سے آتے ہیں۔‘

ایک بین الاقوامی ٹیم نے 27 قدیم کتے کے پورے جینوم (حیاتیاتی خلیوں میں ڈی این اے کی تکمیل) کا تجزیہ کیا ہے جو متعدد آثار قدیمہ کی ثقافتوں سے وابستہ کتوں پر مبنی ہے۔ انھوں نے ان کا موازنہ ایک دوسرے اور جدید کتوں سے کیا۔
نتائج سے پتا چلتا ہے کہ جنوبی افریقہ میں روہڈیسین رج بیک اور میکسیکو کے چیہواہوا اور زولواٹ سکونٹلی جیسی نسل والے کتوں میں اس خطے میں پائے جانے والے قدیم دیسی کتوں کے جینیاتی پیٹرن کی مماثلت ہے۔
مشرقی ایشیا میں کتوں کا حسب نسب پیچیدہ ہے۔ چینی نسل کے کتوں کا سررشتہ کچھ حد تک آسٹریلیائی ڈینگو اور نیو گینی کے گانے والے کتے کی نسل سے ملتا ہے جبکہ باقی ماندہ کا حسب یورپی اور روس کے سٹیپی کتوں سے ملتا ہے۔
نیو گینی کے کتے کا نام گانے والا کتا اس لیے پڑا کہ اس کے بھونکنے کی آواز سریلی، بریک اور تیز ہوتی ہے۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے شریک مصنف گریجر لارسن کا کہنا ہے کہ ’کتے ہمارے سب سے پرانے اور قریب ترین ساتھی جانور ہیں۔ قدیم کتوں کے ڈی این اے کے جائزے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہماری مشترکہ تاریخ کس حد تک قدیم ہے اور اس تحقیق کے سبب آخرکار ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کب اور کہاں انسان اور کتے کی گہری دوستی کا آغاز ہوا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کتوں کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ بھیڑیوں کی نسل سے نکلے ہیں جو شاید کھانوں کو سونگھتے ہوئے انسانوں کے خیموں میں داخل ہو گئے۔ جب انھیں سدھا لیا گیا تو پھر وہ انسان کے ساتھی اور محافظ بن گئے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں تمام کتوں کی نسل ایک ہی معدوم بھیڑیے کی نسل سے جا ملتی ہے یا شاید کچھ کا تعلق ان بھیڑیوں سے ہو جو ایک دوسرے سے بہت مماثلت رکھتے تھے۔ اسی طرح اگر دنیا کے مختلف ممالک میں کتوں کو پالتو بنایا جاتا تھا تو بھی ڈی این اے پر کی جانے والی تحقیق میں ان نسلوں کے متعلق کوئی شواہد یا تعلق نہیں ملتا۔
ڈاکٹر سکاگلنڈ کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح نہیں ہے کہ کتوں کو سب سے پہلے کب اور کہاں پالتو بنایا گیا۔ کتے کی تاریخ اتنی متنوع اور متحرک رہی ہے کہ آپ ان کے ڈی این اے میں اسے آسانی سے تلاش نہیں کر سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں واقعی اس بارے میں علم نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ بہت سے جانور جیسے بلیاں شاید ہمارے پالتو جانور اس وقت بنے جب انسان نے 6000 سال قبل تھوڑی بہت کاشتکاری شروع کی۔ انسانی آبادیوں میں کوڑے کے باعث پیدا ہونے والے کیڑے مکوڑوں اور چوہوں پر قابو پانے کے لیے بلیاں شاید کارآمد ثابت ہوئی ہوں گی۔ مشرق قریب جو کہ کاشتکاری کا گہوارہ ہے شاید وہاں بلیوں کو پہلے پہل پالتو بنایا گیا ہو گا۔
پونٹس سکاگلنڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں تک کتوں کا معاملہ ہے تو وہ کہیں بھی پائے جا سکتے ہیں، چاہے وہ سائبیریا کا ٹھنڈا علاقہ ہو یا پھر مشرق قریب یا جنوب مشرقی ایشیا کا گرم علاقہ ہو۔ ہمارے خیال میں یہ تمام امکانات ہیں۔‘










