’بوائے فرینڈ سے جدائی کے بارے میں بلی کو کیسے بتاؤں‘

Abby Govindan

،تصویر کا ذریعہAbby Govindan

،تصویر کا کیپشنایبی کا کہنا ہے کہ 12 سالہ انجلی جب بھی ان کے بوائے فرینڈ کو گاڑی لاک کرکے آتیے ہوئے سنتی تو دوڑ کر دروازے کی جانب چلی جاتی
    • مصنف, دھروتی شاہ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

آپ اپنے پالتو جانور کو یہ کیسے بتائیں گے کہ آپ کی اپنے ساتھی سے علیحدگی ہو گئی ہے اور اب وہ آپس میں بغل گیر نہیں ہو سکیں گے۔

جب ہیوسٹن کی 22 سالہ ایبی گوونڈن کو ان کے بوائے فرینڈ نے دھوکہ دیا تو ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ اس کے بارے میں اپنی پالتو بلی کو یہ بات کیسے بتائیں کہ جس شخص کو وہ دونوں پسند کرتی تھیں وہ انھیں چھوڑ کر جا چکا ہے۔

امریکی کامیڈین اور مصنفہ نے ٹوئٹر پر لکھا: ’میں اپنی بلی کو کیسے بتاؤں کہ جو میرے بوائے فرینڈ کو دنیا میں سب سے زیادہ چاہتی تھی وہ اب اس سے ملنے نہیں آئے گا۔ ‘

ان کی اس ٹویٹ کو 250000 لوگوں نے پسند کیا اور 13000 بار ری ٹویٹ کیا گیا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اتنے سارے لوگوں کا ردِعمل دیکھ کر کافی حیران ہوئیں جبکہ کئی لوگوں نے ان کی دل جوئی کے لیے انھیں براہِ راست پیغامات بھی بھیجے۔

انھوں نے بتایا کہ ’میری اسی وقت علیحگی ہوئی تھی اور چند منٹ بعد میں نے اپنے خیالات کو ٹویٹ کر دیا، لوگ کافی اچھے تھے جنھوں نے جوابات دیے لیکن میں نے ایسے ردِعمل کی توقع نہیں کی تھی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ایبی کا مزید کہنا تھا: ’مجھے کتے زیادہ پسند ہیں لیکن میری بلی انجلی کو میرے ساتھ رہتے ہوئے ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے۔ اسے بچایا گیا تھا اور یہ مجھے جذباتی سہارا دیتی ہے۔

’لیکن یہ میرا سابقہ بوائے فرینڈ ہی تھا جس کے ساتھ میں سات ماہ سے تھی، اسی نے مجھے بلیوں سے بات کرنا سکھایا۔ وہ ایک دوسرے کو بہت سمجھتے تھے، میری بلی اسے پسند کرتی تھی۔‘

ایبی کا کہنا ہے کہ 12 سالہ انجلی جب بھی ان کے بوائے فرینڈ کو گاڑی لاک کرکے آتے ہوئے سنتی تو دوڑ کر دروازے کی جانب چلی جاتی۔

’کاش میں اسے سمجھا سکتی کہ کیا ہو رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے وہ جان گئی ہو کہ کچھ بدل گیا ہے کیونکہ جب علیحدگی کے بعد میں گھر لوٹی تو وہ معمول سے زیادہ انسیت کا اظہار کر رہی تھی۔‘

ایبی نے کہا کہ جب انھیں انجلی ملی تو اسے جدائی کے باعث پیدا ہونے والے ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایبی بتاتی ہیں کہ وہ رات گئے جاگ کر صرف اس بات کی تصدیق کرتی تھیں کہ انجلی موجود بھی ہے یا نہیں۔

اس لیے انھیں ڈر تھا کہ ان کا اپنے بوائے فرینڈ سے رشتہ ٹوٹنے سے ان دونوں پر کیا اثرات پڑیں گے۔

مزید پڑھیے

’میں غور کرتی ہوں کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہو کیا رہا ہے۔ جب میں روتی ہوں تو وہ میرے پاس آ جاتی ہے۔ وہ عام طور پر تو بہت نخریلی ہے لیکن آج کل اس کا رویہ بہت اچھا ہے۔‘

امریکی ریاست ٹینیز سے تعلق رکھنے والی ایمی لائڈ ان صارفین میں سے تھیں جنھوں نے ایمی کو ٹوئٹر پر جواب دیا۔

انھوں نے ایبی کو بتایا کہ ’میرا کتا اس وقت سنگین ڈپریشن کا شکار ہو گیا تھا جب میرے سابقہ شوہر نے مجھے چھوڑ دیا تھا۔ مجھے اس کی بوریت مٹانے کے لیے ایک اور کتا رکھنا پڑا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کے اس سے کوئی فائدہ ہوا تھا یا نہیں۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ اس سے اس کا برتاؤ تبدیل ہوا تھا۔ اب دونوں بہترین دوست ہیں۔‘

کتوں کو بھی محبت کھونے کا غم ہوتا ہے

ایمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایبی کے اس سوال نے انھیں اپنے بوسٹن ٹیریئر نسل کے کتے للی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا جس پر ہمارے خاندان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا اثر پڑا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’للی کو ریسکیو کیا گیا تھا اور وہ ہمارے پاس 12 برس سے ہے۔ مجھے وہ تب ملا جب میرا بیٹا تین برس کا تھا اور میں اکیلے ہی اسے پال رہی تھی۔

’جب میں سنہ 2010 میں پہلی مرتبہ اپنے سابقہ شوہر سے ملی تو اس کو اس سے بھی محبت ہو گئی۔ میرے سابقہ شوہر کو اسے سنبھالنے کا طریقہ خوب معلوم تھا۔‘

تاہم جب ان کی اپنے سابقہ شوہر سے جدائی ہوئی، تو للی کا دل بھی ٹوٹ گیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’میرے خیال سے للی کو آغاز میں یہ معلوم نہیں تھا کہ ہوا کیا ہے۔ وہ کھانا نہیں کھاتی تھی، اور نہ ہی لوگوں کو دیکھ کر پر جوش ہوتی تھی۔ اس کو اپنی محبت کھونے کا غم تھا۔‘

Amy Loyd with Lily and London

،تصویر کا ذریعہAmy Loyd

،تصویر کا کیپشنایمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایبی کے اس سوال نے انھیں اپنے بوسٹن ٹیریئر نسل کے کتے للی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا جس پر ہمارے خاندان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا اثر پڑا تھا

ایمی کا کہنا ہے کہ وہ للی کے پاس بیٹھ کر اسے بتاتی تھیں کہ ’اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے‘ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اسے یہ کتنا سمجھ آ رہا ہے۔

انھیں ایک اور ریسکیو شدہ ’لندن‘ نامی کتا مل گیا۔ آغاز میں ان دونوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے میں وقت لگا، لیکن اب سارا وقت ساتھ ہوتے ہیں۔‘

ایمی کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ان کے کتوں نے انھیں ان کا اپنا غم بھلانے میں مدد کی۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد وفاداری کی ضرورت تھی۔ ان دونوں نے مجھے اور میرے بیٹے کو وہ محبت اور وفاداری دی جس کے ہم لائق تھے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اگر آپ اپنے ساتھی سے علیحدہ ہونے جا رہے ہوں اور اس رشتے میں پالتو جانوروں کا بھی اہم کردار ہو، تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

ایلین ہینلی پالتو جانوروں کے رویوں کے بارے میں کام کرنے والے ادارے سے منسلک ہیں اور گلاسگو میں جانوروں کے رویوں کے حوالے سے کام بھی کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ پالتو جانور جوڑوں کے جذبات اور رویوں پر غور کر رہے ہوتے ہیں اور ان کا اثر بھی لیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا: ’اگر گھر میں تناؤ کی کیفیت ہو، یا لوگ آپس میں بحث کر رہے ہوں یا ناخوش ہوں تو یہ پالتو جانور ان جذبات کو سمجھ تو جائیں گے لیکن انھیں یہ پتا نہیں چلے گا کہ ان کے پیچھے وجوہات کیا ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایسے ہی جذبات ہوں گے جیسے چھوٹے بچوں کے ہوتے ہیں جب ان کے والدین علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی والدہ اور والد اتنے ناخوش کیوں ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس سب کے باعث وہ ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں جیسے جارحانہ انداز اپنانا، زیادہ کھانا، تیز تیز چلنا اور ذہنی تناؤ کا شکار رہنا۔

Elaine Henley with parrot

،تصویر کا ذریعہElaine Henley

،تصویر کا کیپشنہینلی کا کہنا ہے کہ وہ حیران ہیں کہ ایبی کی بلی ان کو زیادہ توجہ دے رہی ہے

انھوں نے مشورہ دیا کہ جانوروں کو اس حقیقت کے بارے میں آہستہ آہستہ بتانا ضروری ہے کہ اب ان کی زندگی میں ایک فرد کی کمی واقع ہو چکی ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

ہینلی کا کہنا ہے کہ وہ حیران ہیں کہ ایبی کی بلی ان کو زیادہ توجہ دے رہی ہے اور کہنے لگیں کہ ’جانور آپ کے جسم میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر غور کرتے ہیں اور ان فیرومونز سے مدد حاصل کرتے ہیں جو آپ کے جسم سے نکل رہے ہوتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں بے شک اپنے سابقہ ساتھی سے محبت نہ ہو، لیکن اس جانور کے لیے وہ شخص ایک اچھا، محبت کرنے والا اور بھروسے کے قابل انسان ہے۔ اس لیے اسے جدائی کا غم ہو گا۔ انھیں یہ باور کروانے کی ضرورت ہو گی کہ آپ کہیں نہیں جا رہے ہیں اور اگر ان سے تحمل کے ساتھ بات کی جائے تو یہ اچھا رہے گا۔‘

لیکن اب کیا ہو گا؟

ادھر امریکہ میں ایبی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور انجلی کو وقت دیں گی۔

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ ان کا اپنی ٹویٹ میں کیے سوال کا سب سے پسندید جواب کیا تھا تو انھوں نے کہا کہ میرے دوست نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں اسے انتہائی پیار سے سب کچھ بتاؤں۔