کتے کی آنکھوں میں جذبات کا اظہار ارتقائی عمل کا نتیجہ

- مصنف, شان کوگلن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
جب ایک کتا آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کچھ بتانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے تو اس کا سبب وہ ارتقائی عمل ہے جس سے گزر کر اس نے انسانوں کا دل موہ لینے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔
تحقیق کاروں نے پتہ چلایا ہے کہ کتوں کی آنکھوں کے اندرونی پٹھوں نے ارتقائی عمل سے گذرتے ہوئے ایسی صلاحیت حاصل کر لی ہے کہ وہ اپنی آنکھوں میں ایسے تاثرات پیدا کرسکتے ہیں جو انسانوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
یہ پڑھیئے
کتے کے چہرے کا ایک چھوٹا سے پٹھا کتے کی آنکھوں میں ننھے بچوں جیسا تاثر پیدا کر سکتا ہے جس سے اسے انسانی توجہ حاصل ہو جاتی ہے۔
اس تحقیق کے مطابق آنکھوں کے ذریعے بچوں جیسے تاثرات پیدا کرنے کی صلاحیت نے کتوں کو انسانوں سے اپنا رشتہ مضبوط کرنے میں مدد کی ہے۔
ماضی میں ہونے والی ریسرچ کے مطابق کتے اپنے تاثرات کے ذریعے انسانوں کی ہمدردی حاصل کر سکتے ہیں لیکن برطانیہ اور امریکہ میں ہونے والی اس تازہ تحقیق کے مطابق اس کی وجہ اعضائے بدن کا وہ ارتقا ہے جس نے کتوں کو اپنی آنکھوں سے ننھے بچوں جیسے تاثرات پیدا کرنے کے قابل بنایا ہے۔
باتیں کرتی ہوئی بھنویں
تحقیق کارروں کے مطابق ارتقائی عمل نے کتوں میں ایسی پلکیں بنانے کی صلاحیت پیدا کر دی ہےجس کے ذریعے وہ انسانوں جیسے تاثرات پیدا کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کتوں پر تازہ تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر جولین کمنسکی کے مطابق جب کتے حرکت کرتے ہیں اس سے محسوس ہو تا ہے کہ وہ انسان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر جولین کمنسکی کے مطابق چہرے کے پٹھوں کی حرکت سے کتے کی آنکھیں بڑی بڑی اورغمگین انسانی آنکھوں جیسی ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر جولین کمنسکی کہتی ہیں کہ انسان کتوں کی ایسی نسلوں کو لاشعوری طور ترجیح دیتے ہیں جو اپنی آنکھوں سے جذبات کےاظہار کا طریقہ جانتے ہیں۔
نیشنل اکیڈمی آف سائنسز آف یونائیڈ سٹیٹس آف امریکہ میں چھپنے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس بات کی بے پناہ شہادتیں موجود ہیں کہ جب بھیڑیے کتے بن کر انسانوں کے ساتھ رہنے لگے تو انہوں نے اپنی بھنووں کے ارتقا سے اپنے جذبات انسان تک پہنچانے کی صلاحیت حاصل کی۔
تحقیق یہ بتاتی ہے کتوں کے آنکھوں کے ارتقا میں ہزاروں سال لگے ہیں۔









