’رسپانسیبل چائلڈ‘: کیا ایک دس سال کا بچہ بے رحم قاتل ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہBBC/KUDOS/ ED MILLER
دس سال کی عمر میں آپ نہ تو قانونی طور پر سگریٹ پی سکتے ہیں نہ ووٹ ڈال سکتے ہیں، نہ شادی کر سکتے ہیں اور نہ ہی پالتو جانور خرید سکتے ہیں۔ آپ پرائمری سکول میں پانچویں یا چھٹی جماعت میں ہوتے ہیں اور قانونی طور پر آپ ایک بچے ہوتے ہیں۔
لیکن اگر آپ قتل کے مقدمے میں نامزد ہیں تو آپ کے خلاف بالغوں کی طرح عدالت میں مقدمہ چل سکتا ہے۔
برطانیہ اور ویلز میں مجرمانہ ذمہ داری کی کم ترین عمر 10 سال ہے یعنی اگر کسی 10 سالہ بچے پر کسی کو قتل کرنے کا الزام ہو تو اسے کراؤن کورٹ میں فیصلہ ساز کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا نا کہ بچوں کی عدالت میں۔
کم عمری کی وجہ سے انھیں کچھ رعائتیں مل جاتی ہیں جن میں صرف پہلے نام کا استعمال، وکلا کا وِگ اور گاؤن نہ پہننا اور بچوں کو ان کے وکیل یا مناسب بالغ فرد کے قریب بیٹھنے کی اجازت دینا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن کیا اتنا چھوٹا بچہ کسی کا قتل کرنے کا مطلب سمجھتا ہے؟ کیا وہ اپنے افعال کے ذمہ دار ہیں؟ اور پھر ان کی زندگی میں بعد میں کیا ہوتا ہو گا جب انھیں نوعمری سے پہلے ہی سزا سنا دی جاتی ہو گی؟
یہ سوالات 12 سالہ رے کی کہانی کا اہم حصہ ہیں جو بی بی سی کے نئے ڈرامے ’رسپانسیبل چائلڈ‘ میں دکھائی جائے گی۔ یہ ایک حقیقی کہانی پر بنا ڈرامہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/KUDOS/ ED MILLER
ویڈیو گیمز پسند کرنے، خلا کے بارے میں دلچسپی رکھنے اور ریئلٹی شو دیکھنے والا رے اور اس کے 21 سالہ بڑے بھائی نیتھن پر ایک قتل کا بھیانک مقدمہ چل رہا ہوتا ہے۔
نیتھن پر کلھاڑی سے حملہ کرنے کے باوجود ان کے پُرتشدد سوتیلے والد جیل جانے سے بال بال بچ جاتے ہیں۔ وہ گھر لوٹ آتے ہیں اور لڑکوں کی والدہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
ایک رات دونوں بھائی نیچے جاتے ہیں اور اپنے سوتے ہوئے سوتیلے والد پر 60 سے زائد مرتبہ چاقو سے وار کرتے ہیں۔
یہ حملہ اتنی دیوانگی کے عالم میں کیا گیا کہ ان کے سوتیلے والد کا سر دھڑ سے الگ ہوتے ہوتے رہ جاتا ہے۔
یہ کہانی 14 سالہ جیروم اور 23 سالہ جاشوا ایلس کی زندگی پر بنی ہے جنھوں نے اپنے سوتیلے والد کا قتل کیا۔
ڈرامے میں قتل تمام ڈراؤنی تفصیلات کے ساتھ دکھایا جاتا ہے یعنی خون، چاقو اور یہ کہ سوتیلے والد نہتے اور نیند میں ہوتے ہیں۔
لیکن یہ بھی دکھایا جاتا ہے کہ قتل کے بعد خون میں لت پت 12 سالہ رے سکتے میں چلا جاتا ہے اور پریشان ہو جاتا ہے۔
وہ فوراً ہی اعترافِ جرم کر لیتا ہے جس کے بعد اسے پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پولیس سٹیشن میں رے کی تلاشی لی جاتی ہے، اور جیل میں بھیجنے سے پہلے ڈی این اے اور خون کے نمونے لیے جاتے ہیں۔ جب ان کے وکیل پولیس سے پوچھتے ہیں کہ رے جیسے بچے کے ساتھ ایک بالغ مجرم جیسا برتاؤ کیوں کیا جا رہا ہے تو پولیس افسر جواب دیتا ہے ’انھیں قتل کے الزام کے حراست میں لیا گیا ہے، سکول سے بھاگنے کے لیے نہیں۔‘
’مکمل شیطانی‘
سنہ 1963 میں انگلینڈ اور ویلز میں مجرمانہ ذمہ داری کی کم از کم عمر 10 سال مقرر کی گئی تھی۔
سنہ 1995 کے بعد سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز کی عدالتوں میں 10 سے 14 سال کی عمر کے سات ہزار سے زائد بچوں پر مقدمہ چلایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے بارہا کہا ہے کہ اس سے بچوں کے حقوق کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور اس عمر کو کم سے کم 12 تک بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کسی بھی یورپین ملک میں سب سے کم عمر دس برس ہے، سویڈن میں یہ عمر 15 برس جبکہ پرتگال میں 16 برس ہے۔ یہاں تک کہ چین اور شمالی کوریا میں بھی آپ کو بالغ سمجھنے کے لیے عمر کا 14 سال ہونا ضروری ہے۔
ایک حالیہ سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نو عمر دماغ کس طرح نشوونما پاتا ہے اور کس طرح یہ فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
سنہ 2010 میں جیل ریفارم ٹرسٹ کی جانب سے دو ہزار سے زائد بالغوں پر کیے گئے ایک سروے میں بتایا گیا تھا کہ دو تہائی نوجوان مجرمانہ ذمہ داری کی عمر کو کم سے کم 12 برس تک بڑھانے کے حق میں ہیں۔
لیکن باقی اس سے متفق نہیں تھے۔
یہ ممکن ہے کہ وہ سنہ 1993 میں 10 برس کے جون وینبلز اور رابرٹ تھامسن کے ہاتھوں دو برس کے جیمز بلگر کے خوفناک قتل کی وجہ سے عمر بڑھانے کے خلاف ہوں۔

،تصویر کا ذریعہBBC/KUDOS/ ED MILLER
سی سی ٹی وی کی ایک تصویر میں دو لڑکوں کو سپر مارکیٹ سے اس چھوٹے بچے کو اغوا کرتے ہوئے دیکھا گیا اور اس تصویر کو دیکھنے والے چند لوگ آج تک اسے نہیں بھول سکے۔
یہ ایک ایسا جرم تھا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ کر دیا، ہیڈ لائنز میں ان بچوں کو ’مکمل شیطانی‘ کہا گیا اور ایک گرما گرم بحث چل پڑی کہ کیا اس پر تشدد رویے کی وجہ چائلڈ پلے تھری جیسی فلموں سے متاثر ہو کر آیا ہے۔
جیمی بلگر کی والدہ ڈینس فرگس ماضی میں عمر بڑھانے کے خلاف بول چکی ہیں۔ سنہ 2010 میں اس وقت کے بچوں کے کمشنر نے ایک اخبار کے مضمون میں مجرمانہ ذمہ داری کی عمر میں اضافہ کرنے کی تجویز پر ان سے ذاتی طور پر معافی مانگی تھی۔
’وہ اصل میں ملزم ہیں‘
رسپانسیبل چائلڈ مصنف شان بکلی اور دستاویزی فلم ساز نک ہولٹ کا ڈرامہ ہے۔
نک کو امید ہے کہ ان کی پہلی ڈرامہ فلم ان سوالات پر روشنی ڈالے گی۔
انھیں چینل فور کی ’دا مرڈر ٹرائل‘ جیسی پُرخطر دستاویزی فلموں پر کام کرنے سے شہرت ملی، جس میں سکاٹ لینڈ کا ایک پھل اور سبزی فروش اپنی بیوی کو قتل کر دیتا ہے۔ یہ سنہ 2013 کی بات ہے کہ جب مجرمانہ ذمہ داری پر کام میں ان کی دلچسپی سامنے آئی۔
’میں سکاٹ لینڈ میں تقریبا 18 ماہ تک رہا، مختلف مقدمات کے لیے عدالت میں بیٹھا رہتا اور تب ہی میں نے ایک سنگین مقدمے کے دوران عدالت میں ایک بہت ہی چھوٹے بچے کو دیکھا۔ میں نے وکلا سے پوچھا کہ کیا یہ بچہ وہاں گواہ کے طور پر موجود ہے اور انھوں نے کہا ’نہیں، وہ اصل میں ملزم ہیں۔‘ مجھے حیرت ہوئی۔
’اس کے بعد میں نے اس عمر کے بارے میں مزید سوالات کرنا شروع کر دیے جس میں لوگ انتہائی سنگین جرائم کے لیے عدالت کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ دس برس ہے اور میں نے باقی ملکوں سے اس کا موازنہ کیا تو مجھے اور بھی حیرت ہوئی۔ یہ باقی دنیا کے مقابلے میں کافی کم ہے۔‘
’یہ تو چوہا بھی نہیں خرید سکتا‘
رسپانسیبل چائلڈ میں استغاثہ کا کیس اس نظریے پر ٹکا ہوا ہوتا ہے کہ رے ایک بے رحم قاتل ہے جسے جرم کی سزا ملنی چاہیے۔ لیکن وکیلِ دفاع کے مطابق رے کی مشکل زندگی یعنی والد کو شراب نوشی کی لت، والدہ کو ڈپریشن، تشدد اور یہ کہ سماجی بہبود نے اس کا کیس نظر انداز کر دیا، جیسے عوامل کو ذہن میں رکھ کر اس کی سزا کا تعین کرنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/KUDOS/ ED MILLER
یہ ایک عجیب کہانی ہے۔ قتل کی وحشت کو مکمل انداز میں پیش کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رے کی گھریلو زندگی اور اور بھائی کے ساتھ لگاؤ، جن پر ان کے سوتیلے والد نے ان کے سامنے حملہ کیا، کو بھی دکھایا گیا ہے۔
اگرچہ یہاں کوئی تجویز نہیں ہے کہ رے یا کسی دوسرے بچے کو ان کے جرائم کی سزا نہیں دی جانی چاہیے، بلکہ اس ڈرامہ میں یہ پوچھا گیا ہے کہ سزا کیا ہونی چاہیے اور بچوں کے ساتھ مجرم جیسا سلوک کرنے کا طویل مدتی اثر کیا ہو گا۔
سوچ بچار پر مجبور کرنے والی چند انتہائی اہم باتیں بچوں کے نفسیاتی ماہر کا کردار ادا کرنے والے سٹیفن کیمبل مور نے اٹھائی ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا کسی بچے کا دماغ مکمل طور پر یہ سمجھنے کے قابل ہوتا ہے کہ قتل کرنے کا مطلب کیا ہے۔
انھوں نے کہا رے کو 16 برس کی عمر تک ایک چوہا خریدنے کی بھی اجازت نہیں۔ انھوں نے اس حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عمر تک برطانیہ کا قانون آپ کو پالتو جانور خریدنے کی اجازت نہیں دیتا۔
یوتھ جسٹس کے ماہر ڈاکٹر ٹم بٹیمین نے ریڈیو ون نیوز بیٹ کو بتایا کہ اس قانون میں نوجوانوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا جاتا ہے اس کے بارے میں تضادات پائے جاتے ہیں۔
’حال ہی میں، سکول سے تعلیم مکمل کرنے کی عمر کو بڑھا کر اٹھارہ سال کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ وقت مناسب ہے جب ہم بچوں کو مجرم قرار دینے کی عمر کا بھی جائزہ لیں۔‘
ڈائریکٹر نک چاہتے ہیں کہ عمر کی یہ حد 16 سال تک بڑھنی چاہیے۔ ’جتنا مطالعہ اور تحقیق میں نے کی ہے، میرے خیال میں یہ عمر مناسب ہو گی کیونکہ ایک نوجوان کا دماغ کچھ زیادہ نشوونما پا چکا ہوتا ہے۔‘
’میں وہ شخص نہیں بننا چاہتا‘
ڈاکٹر بیٹ مین کہتے ہیں کہ جیمز بلجر کے کیس کا اثر کسی حد تک وضاحت کر سکتا ہے کہ کیوں لیبر اور کنزرویٹو حکومتوں نے قتل کے مقدموں میں بچوں کے ساتھ بالغوں جیسا سلوک ہونے پر دوبارہ غور نہیں کیا۔
’جب کسی جرم کے بارے میں سخت حمکتِ عملی اپنائی جانے پر اتفاقِ رائے ہو تو دونوں میں سے کسی بھی پارٹی کے لیے کچھ ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے جسے نرمی کے طور پر دیکھا جائے۔‘
لیکن ڈاکٹر بیٹ مین کو لگتا ہے کہ عوام کے خیالات بدل رہے ہیں۔ ’گذشتہ ایک دہائی میں معاشرے میں قانون توڑنے والے بچوں سے نمٹنے کے طریقے میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں ’میرا خیال ہے کہ بلجر کیس کو ہوئے اتنا عرصہ گزر چکا ہے کہ اُس وقت ہم نے جو بھی سوچا، اب ہمارا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔‘
لیکن وہ جانتے ہیں کہ کچھ لوگ اس نظریے سے اتفاق نہیں کریں گے۔
ڈرامے کے آخری مناظر میں نوعمر مجرموں کی جیل میں قید رے کو ڈراؤنے خواب اور قتل کی خونی یادیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ اس بارے میں بھی بات کرتا ہے کہ اسے وہ انسان نہیں بننا جس نے قتل کیا ہے۔
چونکہ ڈرامہ اس طرح فلمایا گیا ہے کہ ناظرین سب کچھ رے کی آنکھوں سے دیکھیں، ایسے میں رے کے لیے کچھ ہمدردی ضرور محسوس ہوتی ہے مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ سکرپٹِڈ ہے۔
نِک کہتے ہیں ’اس کیس کے حوالے سے آسان جوابات موجود نہیں ہیں۔‘
ڈاکٹر بیٹ مین کا کہنا ہے کہ 'مجھے لگتا ہے کہ رسپانسیبل چائلڈ لوگوں کو قائل کر رہا ہے کہ وہ ایک ایسے مسئلے کے بارے میں کم از کم سوچیں جس پر شاید کچھ لوگ جذباتی ہو جاتے ہیں۔'








