اٹلی: تشدد کرنے والے باپ کا قتل کرنے والی لڑکی رہا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹلی میں پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ تشدد کرنے والے باپ کو قتل کرنے والی 19 سالہ نوجوان لڑکی نے یہ فعل اپنے دفاع میں کیا۔
عدالتی حکم پر اس نوجوان لڑکی کو روم میں اس کے گھر پر نظر بند کیا گیا تھا۔
مقامی پراسیکیوٹر کے مطابق ڈیبورا نامی لڑکی معمول بن جانے والے گھریلو تشدد کے جواب میں اپنا دفاع کر رہی تھی۔
پہلے اس لڑکی پر قتل کا الزام عائد کیا گیا اب ان کے خلاف ذاتی دفاع کے لیے حد سے تجاوز کرنے کا الزام عائد ہوسکتا ہے تاہم شاید یہ بھی ختم ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیے
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اس لڑلی نے اپنے والد کی منت سماجت کی کہ وہ اس سے برا سلوک ختم کر دے۔
پراسیکیوٹر کا کہنا ہے ’ممکن ہے کہ دو ہفتوں میں جج یہ مقدمہ ہی ختم کردیں کیونکہ اب تک جو ہمیں معلوم ہوا ہے اس لڑکی نے یہ اقدام دفاع میں کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’زندگی جنہم تھی‘
اس مقدمے سے اٹلی میں گھریلو تشدد کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ کن حالات میں ذاتی دفاع قانونی ہوجاتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
مرنے والا 41 سالہ شخص سابق باکسر تھا اور ان کی شہرت ایک مشتعل رہنے والے شخص کی حیثیت سے تھی۔ انھیں سنہ 2016 میں ایک پولیس اہلکار پر حملے کے الزام میں جیل بھی ہو چکی تھی۔ ان کے ساس سسر کا کہنا تھا کہ وہ ان کی بیٹی کے ساتھ 20 سال تک مار پیٹ کرتا رہا۔
اس شحض کی بیٹی کا کہنا تھا کہ وہ برسوں تک ان کو برداشت کرتی رہی تاہم ان کی والدہ نے کبھی اس ڈر سے اس کی شکایت نہ کی کہ ان کی بیٹی کو حکومتی تحویل میں لے لیا جائے گا۔
لڑکی کا باپ مرا کیسے؟
اطلاعات کے مطابق سابقہ باکسر اتوار کی رات نشے کی حالت میں گھر لوٹا اور کئی گھنٹوں تک اپنی بیوی اور بیٹی پر چلاتا رہا۔
پہلے تو لڑکی نے خود کو نانی کے ساتھ کمرے میں بند کر دیا تاکہ اس پر حملہ نہ ہو سکے۔ لیکن جب وہ اس تک پہنچ گئے تو اس نے اپنے والد کو خبردار کیا ’ڈیڈ رک جائیں مزید مت کریں۔‘
اس کے بعد اس نے جوابی لڑائی کی اور اپنے والد کے سر پر مارا۔
اس کے بعد لڑکی نے ماں اور نانی کے ساتھ گھر سے جانے کی کوشش کی لیکن اس کے والد نے انھیں دھمکیاں دیں۔ تب وہ کچن سے چھری اٹھا لائی اور ان کی گردن پر وار کردیا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا۔
اگرچہ حملے کے بعد لڑکی نے اپنے والد کے زخم کو مرہم کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکی۔
پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین نے اس موقعے پر لڑکی کو کہتے سنا ’مجھے چھوڑ کر مت جائیں میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔‘









