’دنیا میں لڑکوں کے برعکس لڑکیوں سے 40 فیصد زیادہ گھریلو کام کرایا جاتا ہے‘

بچوں سے محنت مزدوری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگھریلو کام کاج کی وجہ سے لڑکیوں کو پڑھائی لکھائی کے مواقعے بھی کم ملتےہیں

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں لڑکوں کے برعکس لڑکیاں بلامعاوضہ گھریلو کاج پر 40 فیصد زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں بچوں کی فلاح و بہود کے لیے کام کرنے والے ادارے یونیسیف کے مطابق یومیہ دنیا میں لڑکیوں اور لڑکوں کے محنت کرنے کے دورانیے میں 16 کروڑ گھنٹوں کا فرق ہے۔

رپورٹ کے مطابق تین میں سے دو لڑکیاں گھر میں کھانا پکاتی ہیں اور تقریباً نصف پینے کا پانی یا آگ جلانے کے لیے لڑکیاں جمع کرتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ لڑکیاں ایسے کام بھی سرانجام دیتی ہیں جو زیادہ نمایاں نہیں ہوتے، جس میں بچوں اور بڑوں کی دیکھ بھال کرنا شامل ہے۔

child labour

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیونیسیف کی اہلکار انجو ملہوترا کے مطابق لڑکیاں بہت سارے مواقعوں کو قربان کر دیتی ہیں جس میں پڑھائی اور اپنے بچپن سے لطف اندوز ہونا شامل ہے

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے گھریلو کام کرنے کے دورانیے میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس میں پانچ سے نو برس کی عمر میں گھریلو کام کاج پر 30 فیصد اور 14 برس تک 50 فیصد اضافی وقت صرف ہوتا ہے۔

رپورٹ میں لڑکیوں کو گھریلو کام کاج کے دوران دریش خطرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پانی اور آگ جلانے کے لیے لکڑیوں کے لیے باہر جانا انھیں جنسی تشدد کے خطرے سے دوچار کر دیتا ہے۔

صومالیہ میں 10 سے 14 برس کی لڑکیاں ہفتہ بھر میں اوسطً گھریلو کاموں پر 26 گھنٹے صرف کرتی ہیں اور یہ شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

برکینا فاسو اور یمن میں بھی لڑکیوں اور لڑکوں کے محنت مزدوری کرنے کے دورانیے میں نمایاں فرق ہے۔

یونیسیف کی اہلکار انجو ملہوترا کے مطابق اس میں لڑکیاں بہت سارے مواقعوں کو قربان کر دیتی ہیں جس میں پڑھائی اور اپنے بچپن سے لطف اندوز ہونا شامل ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ بچوں سے کام کرانے میں غیر مصنفانہ تقسیم جنس کے بارے میں گھسے پٹے خیالات و رسم رواج کو زندہ رکھتی ہے اور اس سے نسل در نسل خواتین اور لڑکیوں پر دہرا دباؤ پڑتا ہے۔

رپورٹ میں تشدد، بچوں کی شادی، تعلیم، جسمانی اعضا کاٹنے کے اعداد و شمار جمع کیے گئے ہیں اور اس کے بارے میں جامع رپورٹ 11 اکتوبر کو بچوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی جائے گی۔