ایک کروڑ سے زیادہ بچے ’غلامی کی حالت میں‘

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر ایک کروڑ سے زیادہ بچے گھریلوں ملازموں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
مزدوروں کی بین الاقوامی تنظیم آئی ایل او کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے بچے خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں جو بعض اوقات غلامی کے زمرے میں آتا ہے۔
رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیاگیا ہے کہ یہ بچے جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہو سکتے ہیں۔
یہ رپورٹ بچہ مزدوری کے خلاف عالمی دن کے موقعے سے جاری کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بیشتر مزدور بچوں کی عمر 14 سال سے کم ہے اور ان میں اکہتر فیصد لڑکیاں ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر کو تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ بچے گھروں میں کام کرتے ہیں اس لیے ان پر ضوابط طے کرنا مشکل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’بچہ کام کرتا ہے لیکن انہیں ملازم خیال نہیں کیا جاتا۔ ہرچند کہ بچہ گھریلو ماحول میں رہتا ہے لیکن اس کے ساتھ گھر کے افراد جیسا سلوک نہیں ہوتا۔‘
آئی ایل او کی کنسٹینس تھامس نے کہا: ’اس کے لیے ہمیں مضبوط قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے تاکہ واضح طور پر ان کی نشاندہی کی جاسکے اور گھریلو کام میں بچہ مزدوری کو روکا اور ختم کیا جا سکے اور ان نو عمر لوگوں کو کام کے اچھے حالات میسر کرائے جاسکیں جب وہ قانونی طور پر کام کرنے کے اہل ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ گھریلو کام ملازمت کا اہم ذریعہ ہے بطور خاص خواتین کے لیے۔
کنسٹینس تھامس کا کہنا ہے کہ ’بہت سی معیشتوں میں ہر عمر کے گھریلو ملازم اہم کردار ادا کررہے ہیں۔‘







