متحدہ عرب امارات میں جنگلی جانور رکھنے پر پابندی

شیر

،تصویر کا ذریعہReuters

متحدہ عرب امارات میں شیر اور چیتے جیسے جنگلی جانوروں کو بطور پالتو جانور رکھنا غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔

تیل سے مالا مال خلیجی ممالک میں بعض افراد کے لیے شیر، چیتا رکھنا اونچے مرتبے کی نشانی سمجھی جاتی ہے لیکن اب ایسا کرنے پر انھیں جیل یا جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنگلی بلیوں کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے کئی افراد کی تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر اکثر دیکھی جاتی رہی ہیں۔

ماضی میں سامنے آنے والی تصاویر میں شیر گاڑی کی پچھلی نشستوں پر بیٹھے دیکھے جا سکتے تھے اور اکتوبر میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دبئی کے ساحل پر پانچ شیروں کو دکھایا گیا تھا۔

حکام کو جانوروں کے اس طرح سے آزادنہ طور پر گھومنے سے لاحق خطرات پر شدید تشویش ہے۔

گلف نیوز کے مطابق : ’نئے قانون کے تحت تمام طرح کے جنگلی اور پالتو مگر خطرناک جانوروں کی خرید وفروخت اور ان کی ملکیت پر پابندی ہوگی۔‘

ان جانوروں کو اب صرف چڑیا گھروں، وائلڈ لائف پارک، سرکس اور بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹرز میں رکھا جائے گا۔

جو کوئی بھی شیر چیتے یا کسی بھی قسم کے خطرناک جانوروں کو عوامی مقامات پر لائے گا تو اسے چھ ماہ جیل اور ایک لاکھ 36 ہزار ڈالر یعنی پانچ لاکھ درہم جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عربی روزنامے الاتحاد کے مطابق : ’اگر کوئی بھی شخص دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے جانوروں کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تو جرمانہ سات لاکھ درہم تک بڑھایا جا سکتا ہے۔‘

عام پالتو جانوروں کو رکھنے والے بھی اس نئے قانون سے متاثر ہوں گے۔ جیسا کہ کتے رکھنے والوں کو پرمٹ لینا ہوگا اور عوامی مقامات پر جانوروں کو لے جاتے ہوئے انھیں باندھ کر رکھنا ہوگا۔

خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک لاکھ درہم جرمانے کیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی جرمانہ ان افراد کو بھی ہو سکتا ہے جو اپنے جانوروں کو ویکسین نہیں لگوائیں گے۔