امریکہ جانے کا ناکام منصوبہ: غیر قانونی طور پر میکسیکو داخل ہونے والے انڈین شہریوں کو واپس بھیج دیا گیا

انڈین شہری

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں میکسیکو کے سفیر کے مطابق یہ لوگ تمام ضروری دستاویزات کے بغیر غیر قانونی طور پر میکسیکو پہنچے تھے

انڈیا میں میکسیکو کے سفیر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میکسیکو نے 300 سے زیادہ انڈین شہریوں کو ان کے ملک واپس بھیج دیا ہے۔

میکسیکو کے سفیر فیڈریکو سالسا نے بی بی سی پنجابی سروس کو بتایا کہ یہ افراد غیر قانونی طور پر میکسیکو میں داخل ہوئے تھے اور ان کا وہاں سے امریکہ جانے کا ارادہ تھا۔

انھوں نے بتایا ’ہم میکسیکو میں سیاحوں یا کاروباری افراد کی حیثیت سے انڈین شہریوں کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن غیر قانونی طور پر میکسیکو آنے کی کوشش مت کریں۔‘

’دوسرے ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی ڈپورٹیشن کے قوانین موجود ہیں اور ہم ان کی پیروی کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈین شہری میکسیکو کیسے آئے؟

سنیچر کو ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے میکسیکو سے واپس بھیجے گئے افراد کی آپ بیتی پہلے صفحے پر شائع کی تھی۔

اخبار نے لکھا کہ ان افراد کو ایکواڈور تک طیارے سے اور پھر سڑک اور پرواز کے ذریعے کولمبیا، برازیل، پیرو، پاناما، کوسٹا ریکا، نکاراگوا، ہونڈوراس اور گوئٹے مالا ہوتے ہوئے میکسیکو لایا گیا تھا۔

ان لوگوں نے اخبار کو بتایا کہ ویزا ایجنٹ ان سے فی شخص 15 سے 20 لاکھ روپے مانگ رہے تھے۔ لیکن پھر انھوں نے یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھیں اور ان لوگوں کے بارے میں سنا جو کامیابی سے اسی طرح امریکہ پہنچے تھے۔

بہرحال انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ انھیں سفر میں کتنی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں گی اور جنگل میں بغیر کھائے پیے سفر کرنا پڑے گا۔

پاؤں میں چھالے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانھیں اندازہ نہیں تھا کہ سفر میں کتنی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں گی اور جنگل میں بغیر کھائے پیے سفر کرنا پڑے گا

انھوں نے کئی ہفتے سستے ہوٹلوں میں قیام کیا۔ اس دوران انھیں بیماریوں، پیاس کی شدت اور جنگل میں پیدل چلنے جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان میں سے ایک شخص کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ پانامہ کے جنگلات سے گزرتے وقت پیاس کی شدت میں انھیں اپنی قمیص کو نچوڑ کر اپنا ہی پسینہ پینا پڑا۔

اخبا کے مطابق یہ نوجوان پنجاب اور ہریانہ سے تعلق رکھتے ہیں جو بے روزگار ہیں اور زیادہ تر کسانوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

انڈیا میں میکسیکو کے سفیر فیڈریکو سالسا کا کہنا ہے کہ یہ لوگ تمام ضروری دستاویزات کے بغیر غیر قانونی طور پر میکسیکو پہنچے تھے۔ چنانچہ انھیں واپس بھیج دیا گیا اور یہ کام انڈیا کے سفارتخانے اور عہدیداروں کی معلومات میں کیا گیا۔

انڈین شہری

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنان میں زیادہ تر نوجوان ہیں جو پنجاب اور ہریانہ سے تعلق رکھتے ہیں بے روزگار ہیں

خواب چکنا چور اور بدنامی

انھوں نے مزید کہا ’ابھی پوری دنیا میں تارکین وطن کی بے شمار تعداد موجود ہے۔ اس معاملے میں ان لوگوں کو پہلے لاطینی امریکہ پھر میکسیکو اور پھر امریکہ لے جانے کی کوشش کی جارہی تھی۔‘

’میکسیکو کی حکومت اس طرح کے بہت سے واقعات سے نمٹ رہی ہے جس میں تارکین وطن خود ہی انسانی سمگلنگ کا شکار ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ میکسیکو کے راستے امریکہ پہنچنے کی غیر قانونی کوششیں اکثر ہوتی رہی ہیں کیونکہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخلے کے بہت کم دوسرے طریقے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق واپس آنے والوں نے بتایا کہ بہتر زندگی اور امریکہ جانے کے ان کے خواب تو چکنا چور ہوئے ہی ساتھ میں لاکھوں روپے خرچ ہوئے اور بدنامی بھی ہوئی ہے۔