امریکہ کا میکسیکو کی سرحد پر مزید 2000 فوجی بھیجنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمۂ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ میکسیکو کی سرحد پر مزید دو ہزار فوجی بھیجے گا۔جس کے بعد امریکہ کی جنوبی سرحد پر تعینات فوجیوں کی کل تعداد 4300 ہو جائے گی۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ اضافی فوجی میکسیکو کی سرحد پر بارڈر پیٹرول اہلکاروں کی مدد کے ساتھ ساتھ سرحدی نگرانی اور خاردار تار لگانے کے عمل میں مدد کریں گے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کانگرس سے امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر بنائی جانےوالی دیوار کے لیے فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیرقانونی تارکین وطن کی امریکہ آمد روکنے میں مدد ملے گی۔
صدر ٹرمپ کا کانگرس کے ایوانِ زیریں سے، جس میں ان کی مخالف ڈیموکریٹ جماعت کی اکثریت ہے، اصرار ہے کہ امریکی بجٹ میں سرحدی دیوار کی تعمیرکے لیے فنڈز شامل کیے جائیں۔ اسی وجہ سے حال ہی میں امریکہ کو تاریخ کے سب سے طویل حکومتی بندش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیے!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ اس شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے ایک عارضی معاہدہ طے پایا لیکن صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو اس کا نتیجہ ایک اور شٹ ڈاؤن یا قومی سطح پر ہنگامی حالت کا نفاذ ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ عارضی معاہدے کی مدت 15 فروری کو ختم ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے منگل کو سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران اس معاملے کو دوبارہ اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
اس حوالے سے تازہ ترین کیا ہے؟
امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مزید 3750 فوجی میکسیکو کی سرحد پر بھیجے جائیں گے البتہ ان میں سے بہت سے وہاں پہلے سے موجود فوجیوں کی جگہ لیں گے۔ گذشتہ سال نومبر میں پہلی مرتبہ فوجی میکسیکو کی سرحد پر تعینات کیے گیے تھے۔
پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'سرحد پر بھیجے گئے اضافی فوجیوں کو 90 دنوں کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے اور ہم جنوبی سرحد کو محفوظ بنانے کے مقصد کے تحت نفری کی تعداد کا جائزہ لیتے رہیں گے‘۔
محکمۂ دفاع کے مطابق ان فوجیوں کی ذمہ داری ستمبر 2019 تک سرحدی نگرانی اور داخلی راستوں کے درمیان 150 میل طویل خاردار تاریں بچھانا ہے۔‘
گذشتہ جمعرات کو صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ سرحد پر اضافی فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد ان تارکین وطن کو روکنا ہے جو ان کے مطابق 'قافلوں کی صورت' میں امریکا کی جانب سفر کر رہے ہیں اور اس پر 'حملہ آور' ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
انھوں نے اتوار کو ایک اور ٹویٹ میں دوبارہ اپنے دعوے پر زور دیا کہ 'اگر سرحدی دیوار نہیں ہو گی تو کوئی سلامتی بھی نہیں ہو گی'
صدر ٹرمپ متعدد بار میکسیکو کی سرحدی صورتحال کو بحران قرار دے چکے ہیں جبکہ ان کے ناقدین نے فوج کے استعمال کو رد کرتے ہوئے اسے ان کی سیاسی چال قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنھوں نے فوجی دستے میکسیکو کی سرحد پر بھیجے ہیں۔ اس سے پہلے صدر اوباما نے بھی 1200 نیشنل گارڈز کے جوان سرحدی نگرانی پر تعینات کیے تھے جبکہ صدر جارج بش نے بھی 6000 فوجی دستے بارڈر پیٹرول فورس کی مدد کے لیے تعینات کیے تھے جسے آپریشن جمپ سٹارٹ کا نام دیا گیا تھا۔
سرحد پر کیا ہو رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیکساس میں حکام نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ بھوک ہڑتال پر نو تارکین وطن کو امیگریشن کے حراستی مرکز میں زبردستی کھانے پر مجبور کیا جا رہا تھا.
امیگریشن کے اہلکار بعض افراد کو کھانا کھلانے کے لیے پلاسٹک کی نالیاں استعمال کررہے ہیں، جس پر ان افراد کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اس سے انھیں ناک سے خون آنے اور ابکائی کی شکایت ہے۔.
قیدیوں نے ایل پاسو پروسیسنگ سینٹر کے حالات کے خلاف احتجاجاً کھانے سے انکار کر دیا تھا۔
امیگریشن اور کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی جج نے گذشہ ماہ انھیں ان قیدیوں کو زبردستی کھانا کھلانے کی اجازت دی تھی۔







