BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 March, 2009, 15:12 GMT 20:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ امن معاہدہ، طالبان کو ہدایت

نقلِ مکانی فائل فوٹو
باجوڑ میں تصادم کی وجہ سے بہت سے لوگ نقلِ مکانی پر مجبور ہوئے۔

قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی فقیر محمد نے حکومت اور قبائل کے مابین ہونے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طورپر تمام سرگرمیاں معطل کر دیں اور معاہدے کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔

دوسری طرف امن معاہدے کے بعد باجوڑ میں تمام بند سڑکیں کھول دی گئیں ہیں جبکہ بازاروں میں کئی ماہ کے بعد پہلی مرتبہ عوام کا رش دیکھنے میں آیا اور لوگوں نے خوشی میں ہوائی فائرنگ بھی کی ہے۔

طالبان کمانڈر مولوی فقیر محمد نے پیر کی شام اپنے غیر قانونی ایف ایم چینل پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ میں طالبان کی تمام تنظیموں کو پابند بنا دیا گیا ہے کہ وہ فوری طورپر اپنی تمام تر سرگرمیاں معطل کر دیں اور حکومت کے کاموں میں مداخلت سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی کہ وہ اسلحہ پھینک دیں اور قبائل اور حکومت کے مابین امن معاہدے کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔

طالبان کمانڈرکا کہنا تھا کہ امن معاہدے پر قبائل اور طالبان قیادت سمیت باجوڑ کے تمام لوگ متفق ہیں لہذا کسی کو امن کے اس عمل کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری طرف ماموند امن جرگہ کے سربراہ ملک عبد العزیز کا کہنا ہے کہ طالبان نے جرگہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سرحد کے اس پار افغانستان جائیں گے اور نہ وہاں کسی قسم سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

طالبان نہ تو سرحد کے اس پار افغانستان جائیں گے اور نہ وہاں کسی قسم سرگرمیاں جاری رکھیں گے
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پہلے طے کیے جانے والے معاہدوں سے اس لحاظ سے بھی مختلف اور اہم ہے کیونکہ اس میں پوری قوم بطور ضمانت کے شامل ہے اس لیے یہ ضرور کامیاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’فوجی آپریشن اور جھڑپوں کی وجہ سے پہلے ہی باجوڑ کے لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، بےگناہوں کی جانیں ضائع ہوئیں، کاوربار تباہ ہوئے۔ عوام مزید نقصانات برداشت نہیں کرسکتے بلکہ وہ علاقے میں امن اور صرف امن چاہتے ہیں‘۔

باجوڑ کے ایک رہائشی خان جان نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے تحصیل ماموند کی طرف جانے والے تمام راستے کھول دیے ہیں جب کہ بازاروں میں بھی کئی ماہ کے بعد پہلی مرتبہ لوگوں کا رش دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مقامات پر لوگوں نے معاہدہ طے پانے کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کی اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی ہے۔

گزشتہ روز باجوڑ میں حکومت اور ماموند قبائل کے مابین ایک امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس کےتحت ایجنسی میں طالبان کی تمام عسکری تنظمیں توڑ دینے کا اعلان کیا گیا تھا جب کہ ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کی رجسٹریشن کر کے قبائل ان کی نگرانی کرینگے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت کیا گیا تھا کہ جب گزشتہ روز ہی تحصیل نواگئی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے سکاؤٹس قلعے پر راکٹ داغے تھے جس میں ایک اہلکار زخمی ہوا تھا جبکہ حکومت کے دعوے کے مطابق جوابی حملے میں چار عسکریت پسند مارے گئے تھے تاہم آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

باجوڑ ایجنسی میں اس سے قبل بھی امن معاہدے طے پاچکے ہیں تاہم ان معاہدوں پر عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا۔

گزشتہ سال اگست میں باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کا اغاز کیا تھا جس میں اطلاعات کے مطابق عسکریت پسندوں کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے۔ ان کارروائیوں کی نتیجے میں طالبان علاقہ چھوڑ کر ملحقہ علاقوں میں منتقل ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
جاسوسی کے الزام میں تین قتل
05 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد