BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 March, 2009, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالتیں زرداری کی جاگیر نہیں‘

نواز شریف نے جہلم میں ایک جلسہ عام سے خطاب

سابق وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مفاہمت کے نام پر منافقت کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

صدرآصف زرداری نے مفاہمت کے لیے ایک طرف اسفند یار ولی خان اور مولانا فضل الرحمان جیسی شخصیات کو درمیان میں ڈالا ہے اور دوسری طرف ان کے وزیر کہتے ہیں کہ مفاہمت نہیں مقابلہ کریں گے۔

یہ بات انہوں نے جہلم میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔نواز شریف نے کہا کہ اخلاقی اور قانونی جرت سے عاری یہ لوگ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام سے مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ نواز شریف کے بقول سولہ کروڑ عوام پہلے ان سے جیت چکے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے ایک روز پہلے ہی یہ بیان دیا تھا کہ مسلم لیگ نواز سے اب مفاہمت نہیں بلکہ مقابلہ ہوگا اور پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی حکومت بنائے گی۔

نواز شریف نے جہلم میں پرجوش نعروں کے دوران تقریر کرتے ہوئےکہا کہ ’یہ ملک اور اس ملک کی عدالتیں آصف زرداری کی جاگیر نہیں ہے۔یہ ان کے ہاتھوں کا کھلونا نہیں ہے کہ جس طرف چاہیں اسے موڑ دیں۔۔۔‘

نواز شریف نے کہا کہ یہ ملک اور عدلیہ کا ادارہ جتنا آصف زرداری کا ہے اتنا ہی اس ملک کے سولہ کروڑ عوام اور خود ان کا اپنا بھی ہے۔

انہوں نے عدلیہ کے بارے میں سخت جملے کہے اور کہا کہ ’موجودہ جج خود ہی عدالتیں چھوڑ کر چلے جائیں ورنہ عوام انہیں نکال باہر کریں گے‘۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ نے کہا کہ وہ اس ملک میں انقلاب کا پیش خیمہ دیکھ رہے ہیں انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کو کہا کہ وہ صرف پاکستان کے آئین اور قانون کا حکم مانیں اور کسی ایسے شخص کا حکم ماننے سے انکار کردیں جو غلط احکامات جاری کرے اور خود قانون سے انحراف کرتاہو۔

انہوں نے کہا کہ وہ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں کی قدر کرتے ہیں اور ان سے پیار کرتے ہیں جن کے دل عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں لیکن جو قانون سے انحراف کرتے ہیں وہ ان میں سے نہیں ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ وہ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں کو متنبہ کرتے ہیں کہ ان میں سے جو پاکستان کے عوام، کارکن بھائی بہنوں پر ظلم زیادتی کریں گے وہ اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

انہوں نے جلسہ کے حاضرین کو کہا کہ وہ ایسے اہلکاروں کو یاد رکھیں کیونکہ یہ چند دنوں کی بات ہے پھر ان کی حکومت آنے والی ہے۔

نواز شریف نے حاضرین جلسہ سے اپیل کی کہ وہ عدلیہ بحالی لانگ مارچ میں ضرور شریک ہوں۔

پنجاب میں مسلم لیگ حکومت کےخاتمے کے بعد شریف برادران نے اپنی رابطہ عوام مہم میں غیر معمولی تیزی برپا کی ہے اور دوہفتوں کے اندر نواز شریف نے لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ،ن ارروال اور اب جہلم میں بڑے جلسوں سے خطاب کیا ہے اور ہر جلسے میں انہوں نے عوام کو عدلیہ کا لانگ مارچ اور دھرنے میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے۔

اسی بارے میں
مصالحت کی کوششیں
02 March, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد