حملے کی پہلے سے اطلاعات تھیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے حال ہی میں نااہل قرار دیئے جانے والے وزیر اعلی شہباز شریف نے کہا کہ ہے صوبائی حکومت کے پاس پہلے سے یہ انٹیلجنس رپورٹس موجود تھیں کہ سری لنکاکی ٹیم کو لاہو رمیں نشانہ بنایاجائے گا لیکن موجودہ حکومت ان کی سیکیورٹی انتظامات کرنے کی بجائے ہارس ٹریڈنگ میں مصروف رہی۔ شہباز شریف نے لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند مہینے پہلے بھی جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم لاہور میں ایک روزہ میچ کھیلنے آئی تو حساس اداروں کی اور دیگرخفیہ ایجنسی نے پنجاب حکومت کو خطرے سے آگاہ کیا تھا اور انہوں نے بروقت سیکیورٹی اقدامات کیے اور ناخوشگوار واقعہ سے بچ گئے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس بار پھر ایسی ہی اطلاعات تھیں لیکن بدقسمتی سے ایک غیرقانونی طریقے سے انہیں نااہل قرار دیا گیا اور صوبے میں صدارتی مارشل لاء لگا کر گورنر راج قائم کردیا گیا تھا۔ سابق وزیر اعلی نے کہا کہ موجودہ حکومت کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ سارے کام چھوڑ کر مہمان اور میزبان ٹیم کی سیکیورٹی کا انتظام کرتے لیکن انہوں اس کی بجائے گورنر پنجاب، وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک اور امن وعامہ کے ذمہ دار تمام حکام گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر بدترین قسم کی ہارس ٹریڈنگ کرتے رہے اور اراکین پنجاب اسمبلی کو اپنے ساتھ ملانے کے منصوبے بناتے رہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ جس ملک میں پولیس اور امن وامان کے ذمہ دار اہلکاروں کو یہ کہا جائے کہ وہ عوام کی جان ومال کی حفاظت کا کام چھوڑ کر اراکین اسمبلی کا جوڑتوڑ کریں اس ملک میں ایسے اندوہناک واقعات ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ادھر پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون کے ایم پی اے حضرات نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کا ذمہ دار پنجاب حکومت کو قرار دیا ہے اور گورنر پنجاب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ سری لنکا ٹیم پر حملے کے واقعہ کو بنیاد بنا کر سیاست کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی بم دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے لیکن کسی وزیر اعلی نے یا گورنر نے استعفی نہیں دیا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||