BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 March, 2009, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشیدگی پر امریکہ کو تشویش‘

امریکی سفیر نے شہباز شریف سے ملاقات کی
پاکستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں یہاں مامور غیرملکی سفیروں کے ملک کے سیاستدانوں سے رابطے بڑھ گئے ہیں۔

امریکی سفیر نے پیر کو وزیر اعظم کے علاوہ سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز سے ملاقاتیں کی ہیں جبکہ لاہور میں آسٹریلیا کی سفیر مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے ملی ہیں۔

اکثر ناقدین اس طرح سفیروں کے متحرک ہونے پر ماضی میں نالاں رہے ہیں۔ وہ اسے ملک کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت قرار دیتے رہے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے سابق وزیر اعلی شہباز شریف نے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ امریکہ کو بطور دوست پاکستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی پر تشویش ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ قومی مفاہمت کے لیئے تیار ہیں، منافقت کے لیئے نہیں۔

سابق وزیر اعلی شہباز شریف کے ساتھ اس اخباری کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان بھی موجود تھے۔

شہباز شریف نے اپنا عظم دوہرایا کہ لانگ مارچ پرامن ہوگا اور اس بابت کارکنوں کو ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ قومی وسائل محدود ہیں لہذا ان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

’ہم اصل جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، لانگ مارچ سے پی سی او ججز واپس چلے جائیں گے، ایسی عدلیہ چاہتے ہیں جو کسی کے آگے نہ جھکے، پی سی او ججز سے غیر آئینی فیصلہ صدر زرداری نے کرایا۔‘

شہباز شریف نے دعوی کیا کہ متنازعہ ججوں کے پاس انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کی اخلاقی قوت نہیں ہے۔

چوہدری نثار علی خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ مرحومہ بےنظیر بھٹوں نے جس طرح وطن واپسی پر لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا صدر آصف علی زرداری اور رحمان ملک اسے اسی طرح روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جس طرح سابق صدر پرویز مشرف نے وہ لانگ مارچ روکنے کے لیےکی تھی۔

شہباز شریف نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کے ذریعے لوگ آذاد عدلیہ کی خواہش کا اظہار کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مفاہمت اس خواہش کی تکمیل کی صورت میں ہی ممکن ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
مصالحت کی کوششیں
02 March, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد