’مفاہمت کے لیے تیار ہیں لیکن۔۔۔‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پارلیمنٹ کو چلا رہے ہیں اور انہیں ایسا نہیں کرنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات سینچر کی شام پنجاب کے وسطی شہر فیصیل آباد میں ایک جلسے عام خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ مفاہمت کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ مفاہمت عہدوں اور مراعات کے لیے نہیں بلکہ معزول ججوں کی بحالی، سترہویں ترمیم کے خاتمے اور مثیاق جمہوریت پر عمل درآمد کے لیے ہوگی۔ نواز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں بڑے جتن کیے اور فیڈلی اپوزیشن کا طعنہ تک سنا لیکن سب کچھ صبر سے برداشت کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل عدالت اور پارلیمنٹ عوام کی ہے اور عوام دھوکے اور منافقت کی سیاست کو ہمشیہ کے لیے دفن کردیں گے۔ ان کے بقول ملک میں سب کام جعلی ہیں، جعلی عدالتیں اور جعلی جج ہیں اور پاکستان میں جعلساز آگئے ہیں۔
انہوں نےمزید کہا کہ سب جانتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کی یادگار پر حملہ کرنے کون تھے لیکن سیاسی تماشہ گروں نے اسے ایک تماشہ بنالیا ہے اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور سب یہ بھی جانتے ہیں کہ ریلیاں کن کے اشارہ پر نکالی جارہی ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ ملکر بینظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ریلی نکالیں اور اس ریلی میں یہ مطالبہ کیا جائے کہ حکومت بینظیر بھٹو کے قتل کی ایف آئی آر درج کرے ۔ مسلم لیگ نون کے قائد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو کمزور نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اس کو مضبوط پارٹی کے طور پر قائم رہنا چاہیئے جو جمہوریت کے لیے بھی اچھا ہے۔ انہوں نے آصف زرداری سے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کا خیال کریں یا نہ کریں کم ازکم پارٹی کا تو خیال رکھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے ان سے بےشمار مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ آئین توڑنے والوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کے قائل نہیں ہیں۔ نواز شریف نے عوام سے اپیل کی کہ ہو پاکستان کے مستقبل کی خاطر سولہ مارچ کو اپنے گھر سے باہر آئیں۔ ادھر حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہتمی کوششوں کے سلسلہ میں بلوچستان کے وزیر اعلیْ اسلم ریئسانی نے مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف سے لاہور میں ملاقات کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ مصالحتی کوششوں کا مثبت نتیجہ نکلے گا جبکہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو بحال کردیا جائے تو اختلافات ختم ہوجائیں گے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلم ریئسانی نے بتایا کہ مذاکرات میں عدلیہ اور اسمبلی سمیت تمام امور شامل ہیں اور شہباز شریف نے جو تجاویز پیش کی ہیں ان کے بارے میں وہ صدر اور وزیر اعظم سے بات کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں مصالحت کے لیے کسی نے نہیں بھیجا بلکہ وہ از خود یہ کوشش کر رہے ہیں تاکہ بجران کیفیت کو ختم کیا جاسکے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اسلم رئیسانی کو اپنا موقف پیش کر دیا ہے اور بقول ان کے موجودہ بحران کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں۔ قبل ازیں شہباز شریف نے مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والی پنجاب میں خواتین ارکان اسمبلی سے ملاقات کی اور موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ نون کی لیلیْ مقدس نے پیپلز پارٹی کی حمایت کرتے ہوئے دعویْ کیا ہے کہ وہ اس فاروڈ بلاک کی قیادت کر رہی ہیں جس میں بقول ان کے سترہ ارکان اسمبلی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں اسمبلی کے اجلاس میں ہاتھا پائی28 February, 2009 | پاکستان گورنر راج:سپریم کورٹ میں چیلنج28 February, 2009 | پاکستان وزیر اعلیٰ رئیسانی اور شہباز ملاقات 02 March, 2009 | پاکستان مصالحت کی کوششیں02 March, 2009 | پاکستان قاضی، نواز:مل کر جہدوجہد کا اعلان02 March, 2009 | پاکستان حملے کی پہلے سے اطلاعات تھیں04 March, 2009 | پاکستان صدر پر کسی کو اعتبار نہیں: شہباز05 March, 2009 | پاکستان اب فیصلے سڑکوں پر ہوں گے: نواز06 March, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||