BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 February, 2009, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشتگردی متاثرین کیلیے مالی امداد

آصف علی زدراری ایک فائل فوٹو
صدر زرداری نے عالمی براداری سے پاکستان میں دہشت گردی سے متاثرہونے والے خاندانوں کے مالی مددمیں تعاون کرنے کی بات کی ہے
صدر آصف زرداری نے سرحد حکومت کو احکامات جاری کیے ہیں کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد یا ان کے لواحقین کو فوری طور پر امدادی رقوم کی ادائیگی کی جائے اور اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے ایوان صدر کو روزانہ آگاہ کیا جائے۔

اتوار کو ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے صوبہ سرحد کی حکومت کو دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو امدادی رقم کی تیز اور فوری ترسیل کی ہدایات اس وقت دی ہیں جب وفاقی حکومت نے اس مد میں صوبہ سرحد کے متاثرین کے لیے چونتیس کروڑ اور قبائلی علاقوں کے متاثرین کے لیے اٹھائیس کروڑ تیس لاکھ روپے سرحد کو فراہم کر دیے ہیں۔

سینکڑوں ہلاکتیں
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں فوج اور طالبان کے درمیان ہونے والی کارروائیوں میں بارہ سو عام شہری ہلاک اور دو سے پانچ لاکھ تک بےگھر ہوچکے ہیں
ایمنسٹی انٹرنیشنل
بیان کے مطابق خود کش حملوں، بم دھماکوں اور دیگر دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلخانہ کو تین لاکھ روپے اور زخمی ہونے والے افراد کو ایک لاکھ روپے فی کس ادا کیے جائیں گے۔

صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ رقم کی فراہمی کے بعد سرحد حکومت کے لیے لازم ہو گیا ہے کہ وہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد میں بغیر کسی تاخیر کے امدادی رقوم تقسیم کرے اور اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے ایوان صدر کو روزانہ آگاہ کیا جائے۔

بیان کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ افراد یا ان کے لواحقین کے لیے حکومت کی امداد اگرچہ ایک معمولی رقم ہے لیکن حکومت انہیں تنہا محسوس نہیں ہونے دے گی اور شدت پسندوں کے مکمل خاتمے تک ان کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

صدر زرداری کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی مالی معاونت کرنا نہ صرف حکومت کااخلاقی فرض ہے بلکہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی مدد ملے گی۔

انھوں عالمی برداری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی سے متاثرہونے والے خاندانوں کے مالی مدد اور ان کی بحالی کے منصوبوں میں تعاون کرے۔

انھوں نے شدت پسندی کے خلاف مزاحمت کے دوران ہلاک ہونے افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قوم کا ہیرو قرار دیا ہے ۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں فوج اور طالبان کے درمیان ہونے والی کارروائیوں میں بارہ سو عام شہری ہلاک اور دو سے پانچ لاکھ تک بےگھر ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد