سینیٹ کے لیے تیار، پیپلز پارٹی کے وفادار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی پچاس نشستوں کے لیے چار مارچ کے مجوزہ انتخابات کے لیے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت سے جن ستائیس امیدواروں کو نامزد کیا ہے ان میں بیشتر پارٹی کے پرانے اور وفادار کارکن شامل ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے ظاہر کردہ خدشات کے برعکس حکمران جماعت کے شریک چیئرمین اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے دوستوں اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو مایوس کر دیا ہے۔ سب سے زیادہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو تشویش صوبہ سندھ کی نشستوں کے بارے میں تھی۔ کیونکہ وہاں سے نفیس صدیقی، امین داد بھائی، تاج حیدر، پیٹرولیم کے مشیر ڈاکٹر عاصم حسین، مشیر خزانہ شوکت ترین اور بعض بڑی کاروباری شخصیات پرامید تھیں لیکن ان سب کو مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔ البتہ کراچی سے زیادہ تر کارکن تاج حیدر کو نظر انداز کرنے پر ناخوش ہیں۔ پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جس نے دو اقلیتی امیدواروں کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا ہے۔ جس میں ہندوؤں کی نچلی ذات میگھواڑ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کھٹومل جیون سندھ سے اور حنا گلزار کوئٹہ سے شامل ہیں۔ حنا گلزار مسیحی برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا خاندان پرانا پیپلز پارٹی سے منسلک ہے اور وہ پیپلز یوتھ تنظیم کی نوجوان کارکن ہیں۔ صوبہ سندھ: صوبہ سندھ سے گیارہ نشستوں کے لیے پیپلز پارٹی نے آٹھ امیدوار نامزد کیے ہیں۔ جبکہ تین امیدوار متحدہ قومی موومینٹ نے نامزد کیے ہیں اور دونوں جماعتوں کی کوشش ہے کہ ان کے تمام امیدوار بلا مقابلہ منتحب ہو جائیں۔ سندھ کی سات عمومی نشستوں میں سے پانچ کے لیے پیپلز پارٹی نے گل محمد لاٹ، اسلام الدین شیخ، مولا بخش چانڈیو، ڈاکٹر کھٹو مل جیون اور سید فیصل رضا عابدی کو نامزد کیا ہے۔ جبکہ ٹیکنو کریٹ کی دونوں نشستوں کے لیے پی پی نے مشیر داخلہ رحمٰن ملک اور وزیر قانون فاروق نائک اور خواتین کی ایک نشست کے لیے الماس پروین کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایک اور اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن رتنا چاولہ پہلے ہی سنیٹر ہیں۔ اگر اب کی بار دو مزید ان کے اقلیتی اراکین منتخب ہوئے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ تین سنیٹرز کا تعلق اقلیت سے ہوگا۔ اقلیتوں کے لیے قومی اسمبلی میں تو مخصوص نشستیں ہیں لیکن سینیٹ میں نہیں ہیں۔
گل محمد لاٹ ایک مالدار شخص ہیں اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کا دوسری پیڑھی سے تعلق چلا آ رہا ہے۔ ان کے والد غلام محمد لاٹ کو پہلے پیپلز پارٹی کا تھرپارکر سے ٹکٹ ملتا رہا۔ جام صادق کے زمانے میں یہ خاندان بھی پیپلز پارٹی سے کنارہ کش ہوا لیکن بعد میں بینظیر بھٹو کی زندگی میں ہی معافی تلافی کر کے واپس آگیا۔ مولا بخش چانڈیو بھی پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں اور ان کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے ہے۔ حیدرآباد کے رہائشی مولا بخش نے جیلیں بھی کاٹیں لیکن انہیں کبھی آگے نہیں لایا گیا۔ سانس کی بیماری میں مبتلا چانڈیو کو ٹکٹ ملنے پر کارکن خوش ہیں۔ فیصل رضا عابدی بھی پرانے پیپلز پارٹی کے ہیں اور کراچی کے صدر ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کارکن تاج حیدر پر فیصل رضا عابدی کو فوقیت دینے پر خوش نہیں لیکن اتنے معترض بھی نہیں۔ اسلام الدین شیخ کا تعلق شروع سے پیر پگاڑہ سے رہا ہے اور انہیں ٹکٹ دینے کا مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے پیر پگاڑہ اور مسلم لیگ (ق) کے اٹھارہ اراکین صوبائی اسمبلی کے ووٹ حاصل کیے اور اپنا کوئی امیدوار نہیں لایا۔ فاروق نائیک آصف علی زرداری کے جیل کے دنوں سے ساتھی ہیں اور ان کے وکیل بھی رہے اور اب وزیر قانون ہیں۔ جبکہ رحمٰن ملک کا موقف ہے کہ انہیں ایم کیو ایم کی بھی حمایت حاصل ہے اور ان کی جگہ کوئی اور امیدوار لانے کی صورت میں ایم کیو ایم تین کے بجائے چار نشستیں مانگتی۔ سندھ سے واحد خاتون امیدوار الماس پروین بلوچ ہیں۔ یہ بزرگ خاتون لیاری کے ایک کچے مکان میں رہتی ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے سے پیپلز پارٹی سے منسلک ہیں۔ صوبہ پنجاب: پیپلز پارٹی نے سات میں سے صرف دو عمومی نشستوں کے لیے پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر اور صلاح الدین ڈوگر کو ٹکٹ دی ہے۔ صلاح الدین ڈوگر پرانے پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے فائنانسر بھی رہے ہیں۔ پنجاب سے ٹیکنو کریٹ کے لیے کاظم خان اور خواتین کی نشست کے لیے صغریٰ امام کو نامزد کیا ہے۔ پنجاب سے ٹیکنو کریٹ اور خواتین کی نشست پیپلز پارٹی کو اپنی عددی اکثریت کی وجہ سے شاید ہی مل پائے۔ کاظم خان لاہور کے پرانے جیالے اور وکیل ہیں۔ جبکہ صغریٰ امام، فخر امام اور بیگم عابدہ حسین کی صابزادی ہیں۔ پنجاب سے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ (ق) نے اپنے اپنے امیدوار اپنی عددی اکثریت کی استطاعت کی بنیاد پر نامزد کیے ہیں اور تینوں میں سے کسی بھی دو جماعتوں میں اتحاد کی گنجائش موجود ہے۔ صوبہ بلو چستان : پیپلز پارٹی نے سات کی سات عمومی نشستوں کے لیے اپنے امیدوار نامزد کیے ہیں۔ جس میں نوابزادہ لشکری رئیسانی پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے چھوٹے بھائی ہیں، اورنگزیب عالمگیر، مرحوم یوسف مگسی کے بیٹے ہیں جو پیپلز پارٹی بلوچستان کے بانی صدر تھے، صابر بلوچ بھی پرانے جیالے ہیں، ثریا امیرالدین بزرگ خاتون ہیں اور پیپلز پارٹی سے ان کا بھی بہت پرانا تعلق ہے، حنا گلزار مسیح پیپلز یوتھ کی رہنما ہیں، عبداللہ موسیٰ زئی قلعہ عبداللہ کے پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر ہیں اور سردار طاہر ایڈووکیٹ پیپلز لائرز فورم کے صوبائی صدر ہیں۔ جبکہ ٹکنو کریٹ کے لیے نامزد کردہ سیف اللہ پراچہ بھی پارٹی کے سینیئر رہنما ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو جب بھی کوئٹہ جاتے تو ان کے ہاں ٹھہرتے تھے۔ بلوچستان سے خواتین کی مخصوص نشست کے لیے پیپلز پارٹی نے کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا۔ صوبہ سرحد : پیپلز پارٹی نے صوبہ سرحد کی گیارہ میں سے پانچ نشستوں کے لیے امیدوار نامزد کیے ہیں۔ جس میں تین عمومی نشستوں کے لیے اور ایک ایک ٹیکنو کریٹ اور خواتین کی نشستوں کے لیے شامل ہیں۔ عمومی نشستوں کے لیے گلزار احمد خان اور وقار احمد جو باپ بیٹے ہیں اور تیسرے سردار علی خان ہیں جو آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور پیپلز پارٹی کے پرانے کارکن ہیں۔ گلزار احمد خان کا ایک اور بیٹا عمار احمد خان پہلے ہی سینیٹر ہیں۔ اگر گلزار احمد خان اور وقار احمد منتخب ہوئے تو یہ سینیٹ کی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہوگا کہ اس خاندان کے تین افراد دو بار سینیٹ کے رکن بنے۔ بینظیر بھٹو انیس سو چھیانوے میں حکومت کی برطرفی کے بعد اسلام آباد میں سینیٹر گلزار کے مکان میں رہتی تھیں لیکن جب انہیں سینیٹ کا ٹکٹ نہ ملا تو وہ مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے ہی صوبہ سرحد کے اراکین کو خرید کر سینیٹر بن گئے۔ بعد میں وہ صدر مشرف کے حامی رہے اور اب واپس پیپلز پارٹی میں آئے ہیں۔ صوبہ سرحد سے فرحت اللہ بابر کو سینیٹ کا ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی کارکنوں میں مایوسی ضرور ہوئی ہے۔ صوبہ سرحد سے پیپلز پارٹی نے ٹیکنو کریٹ کے لیے عدنان خان اور خواتین کی نشست پر مسز فرحت عباس کو نامزد کیا ہے۔ عدنان خان صوبائی وزیر پرویز خٹک کے داماد ہیں اور ان کا پیپلز پارٹی سے کوئی قریبی تعلق نہیں رہا۔ اطلاعات کے مطابق پرویز خٹک کا تعلق پیپلز پارٹی (شیر پاؤ) سے ہے لیکن آج کل ان سے وہ خاصے ناراض ہیں اور انہیں پیپلز پارٹی نے اپنی طرف کھینچنے کے لیے یہ ٹکٹ انہیں دیا۔ جبکہ فرحت عباس پیپلز پارٹی کے مقتول رہنما قمر عباس کی بیگم ہیں جنہیں مبینہ طور پر خاندانی دشمنی میں بلور خاندان نے مروایا تھا۔ بلور خاندا اس الزام کا انکار کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت سے ایک عمومی نشست کے لیے سید نیر بخاری اور خواتین کی نشست کے لیے ڈاکٹر سعیدہ اقبال کو نامزد کیا گیا ہے۔ نیر بخاری فروری دو ہزار آٹھ کا انتخاب اسلام آباد سے ہار گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے پرانے جیالے ہیں، وہ پہلے اسلام آباد کی نشست سے رکن قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر سعیدہ اقبال بھی پارٹی کی پرانی کارکن اور جیالی ہیں۔ | اسی بارے میں کراچی:سینیٹ کے لیے نامزدگیاں جمع13 February, 2009 | پاکستان ن لیگ امیدواروں کے نام جاری12 February, 2009 | پاکستان متحدہ، امیدواروں کی نامزدگی 12 February, 2009 | پاکستان سینیٹ انتخابات، کہاں کون جیتے گا؟09 February, 2009 | پاکستان کابینہ کے پوشیدہ وزیر09 February, 2009 | پاکستان ’کاغذات منظوری پر اپیل نہیں‘08 February, 2009 | پاکستان سینیٹ ٹکٹوں کے لیے دوڑ دھوپ تیز07 February, 2009 | پاکستان چار مزید وزراء، تریسٹھ کی کابینہ26 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||