سینیٹ ٹکٹوں کے لیے دوڑ دھوپ تیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی پچاس نشستوں کے لیے چار مارچ کے مجوزہ انتخابات کے لیے ٹکٹ حاصل کرنے کی خاطر امیدواروں نے لابنگ تیز کردی ہے۔ تین بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کو سوا چھ سو امیدواروں نے درخواستیں دی ہیں۔ تینوں جماعتوں کو فیس کے مد میں ایک کروڑ بیاسی لاکھ نوے ہزار روپوں کی آمدن ہوئی ہے۔ درخواستوں کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ سینیٹر بننے کے خواہشمندوں کی دلچسپی مسلم لیگ (ن) سے زیادہ پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ میں ہے۔ سب سے زیادہ امیدواروں کا زور حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے پر ہے اور متعدد خواہشمندوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر سیاسی، سفارتی، غیر ملکی اور خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندان کا اثر و رسوخ بھی استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ پیپلز پارٹی جسے آئندہ سینیٹ کے انتخاب میں پچیس کے قریب نشستیں ملنے کی توقع ہے، ان کے لیے انہیں تین سو انسٹھ درخواستیں ملی ہیں۔ پیپلز سیکریٹریٹ کے انچارج اور سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری منظور نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے درخواستیں پارلیمانی بورڈ کے حوالے کردی ہیں۔ ان کے مطابق پانچ رکنی پارلیمانی بورڈ کا ابتدائی اجلاس جمعہ کو زرداری ہاؤس میں ہورہا ہے جس میں مشاورت کی جائے گی۔ پارلیمانی بورڈ میں مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف، جہانگیر بدر، فاروق نائیک اور فریال تالپور شامل ہیں۔ پارلیمانی بورڈ چاروں صوبوں کی قیادت سے بھی مشورے کرے گا اور اپنی سفارشات پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو پیش کرے گا۔ پیپلز پارٹی نے فی درخواست تیس ہزار روپے فیس مقرر کی اور اس اعتبار سے انہیں ایک کروڑ سات لاکھ ستر ہزار روپے کی آمدن ہوئی ہے۔ یہ واحد جماعت ہے جسے چاروں صوبوں سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ پاکستان کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) سے چھیاسی خواہشمندوں نے درخواستیں دی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک ترجمان عاصم خان کے مطابق ان کی جماعت نے پچیس ہزار روپے درخواست فیس مقرر کی اور انہیں ساڑھے اکیس لاکھ روپے کی آمدن ہوئی ہے۔ اس جماعت کو زیادہ تر صوبہ پنجاب اور کچھ صوبہ سرحد سے درخواستیں ملی ہیں۔ عاصم خان نے بتایا کہ ان کی جماعت کی طرف سے آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں امیدواروں کا اعلان متوقع ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے ترجمان غلام مصطفیٰ ملک نے بتایا کہ ان کی جماعت کو ایک سو اناسی امیدواروں کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے فی درخواست تیس ہزار فیس وصول کی ہے اور یو ان کی جماعت کو تریپن لاکھ ستر ہزار روپے کی آمدن ہوئی۔ مسلم لیگ (ق) کے ترجمان کے مطابق ان کی جماعت نے پارلیمانی بورڈ بنادیا ہے اور نو فروری کو اس کا اجلاس ہوگا۔ متحدہ قومی موومینٹ کے ترجمان فیصل سبزواری نے بتایا کہ ان کی جماعت درخواستیں نہیں منگواتی بلکہ امیدواروں کا انتخاب میرٹ پر کرکے انہیں بتاتی ہے کہ وہ درخواست دیں۔ عوامی نشنل پارٹی اور جمیعت علما اسلام بھی دو ایسی پارٹیاں ہیں جنہیں سینیٹ میں چند سیٹیں ملیں گی لیکن انہیں موصول ہونے والی درخواستوں کے بارے میں متعلقہ جماعتوں سے رابطے کی کوشش کے باوجود معلومات نہیں مل سکی۔ ایک سو اراکین والے سینیٹ کے ایوان سے نصف اراکین بارہ مارچ کو ریٹائر ہوجائیں گے اور ان کی جگہ نئے سینیٹرز کا انتخاب چار مارچ کو ہوگا۔ جس کے لیے کاغذات نامزدگی گیارہ سے تیرہ فروری تک جمع ہوں گے۔ | اسی بارے میں قائمہ کمیٹی کے خلاف پٹیشن خارج19 December, 2008 | پاکستان ’حکومت بھارت کے دباؤ میں نہ آئے‘23 December, 2008 | پاکستان ’سپریم کورٹ کو قربان نہیں کیا جا سکتا‘21 January, 2009 | پاکستان سینیٹ قرارداد، اسرائیل کی مذمت23 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||